جنازہ۔۔۔۔ تحریر: الطاف حسین کلو،ماڑی انڈس

Altaf Hussain Kallu
Print Friendly, PDF & Email

جی ہاں! جنازہ اپنوں کا ، غیروں کا، سب کا ہم نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ مشایعتِ جنازہ بھی کرتے ہیں۔ جنازہ کی عزت و احترام کے تقاضے کے تحت مشایعتِ جنازہ یعنی جنازہ کے پیچھے پیچھے چلنا ہوتاہے۔ جنازہ اُٹھانے اور رکھنے کے آداب ہوتے ہیں۔ قبر میں اُتارتے ہوئے برابر ادب و احترام ملحوظ رکھا جاتاہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہی شخص جس کا جنازہ نہایت ادب و احترام سے قبرستان تک پہنچایا جاتاہے، جب وہ جیتا جاگتا انسان ہمارے ارد گرد، ہمارے سامنے رہتاہے۔ ہم اُسے وہ ادب و احترام نہیں دیتے جو کہ مرتے وقت دیتے ہیں۔ جبکہ مرتے وقت اس کا رابطہ بھی ہم سے ختم ہو جاتاہے۔
اس جنازہ کا ادب و احترام اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارے پیغمبرﷺ کا فرمان ہے اور اس فرمان کی روشنی میں تابع فرمان رہتے ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس مردہ شخص کا احترام دین و مذہب اور اخلاقی تقاضاسمجھتے ہیں، آخر زندہ انسان کی عزت و احترام کیوں نہیں خرتے جبکہ زندہ انسان کے حقوق بھی ہمارے دین و مذہب نے ہمیں بتائے ہیں۔ یہی زندہ انسان جب بیمار پڑجاتاہے تو ہم میں سے کتنے ہیں جو جاکراس کی عیادت، بیمار پُرسی اور تسلی دیتے ہوں۔ مرنے والے کے ورثا سے ہم ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں جبکہ یہی زندہ انسان کو جب ہماری ضرورت پڑتی ہے تو کیا ہم اس کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔
وہ زندہ درگور ہو جاتاہے لیکن کوئی ہمدردی جتانے والا نہیں ہوتا، آخر کیوں۔۔۔؟
اس شخص کا جنازہ اُٹھاتے ہوئے ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ کندھا دے اور کچھ لوگ تو وہ ہوتے ہیں جو اس موقع پر بھی کندھا دینے سے کتراتے ہیں اور مشایعت کا حق ادا کرتے ہوئے جنازہ کے پیچھے چلے آرہے ہوتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ وہ شخص جس کا جنازہ جا رہاہے، جب وہ زندہ تھا تو اس کے ساتھ ویسا ہی ادب و احترام کا خیال رکھا جاتاتھا؟
بلکہ اُسے تو ویگن کی چھت پر بٹھایا جاتا تھا اور پائیدان پر لٹک کر سفر کرنا پڑتاتھا۔ وہ دکان پر جاتا تو اُسے دو نمبر مال دے دیاجاتاتھا۔ بیمار پڑنے پر میڈیکل سٹور سے اُسے دو نمبر دوا لینا پڑتی۔ اگر بازار سے کوئی چیز خرید کر لاتا اور اس میں نقص پاتا اور واپسی دینے جاتا تو دکاندار لینے سے انکار کر دیتا۔ کسی محکمہ کے خلاف شکایت لے کر متعلقہ آفیسر کے پاس جاتا تو افسردہ اور مایوس ہو کہ واپس لوٹتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جتنا مرنے والے کو احترام دیا جاتاہے، کم ازکم زندہ انسان کوبھی اتنا احترام دینا چاہیے کہ اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ تاکہ معاشرہ جنت نظیر بن جائے۔
اگر ہمیں معلوم ہوتاکہ ایک مسلمان کی حرمت کعبہ کی حرمت سے زیادہ ہے تو کبھی کسی انسان کو کمتر نہ سمجھتے۔ وہ انسان جسے خالقِ کائنات نے ایک ہی طرح کے مادہ منوہ سے پیدا کیا لیکن جب وہ بڑا ہوتاہے تو اپنے آپ کو نہ جانے سمجھنا شروع کردیتاہے۔ وہ ذات پات کے اعلیٰ و ادنیٰ تصور میں اور غیرفطری و غیر عقلی جھمیلوں میں پڑ جاتاہے۔ جبکہ ربِ کائنات نے اپنی مقدس کتاب کی سورہ حجرات میں ارشاد فرمایاہے کہ قوم اور قبیلے پہچان کے لیے بنائے گئے ہیں ورنہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت و احترام والا صاحبِ تقویٰ فرد ہے۔ اپنے نسب پر فخر کرنے اور تکبر کی وجہ سے شیطان بھی راندہ درگاہ اس لیے ہوا تھا۔ اُس نے کہا میں آگ سے پیدا ہوا ہوں جبکہ آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں۔ آگ مٹی سے افضل ہوتی ہے۔
بات جنازہ کی ہو رہی تھی۔ آج ہر شخص فطری زندگی سے انحراف اور حکمرانوں کے ظلم و جور کی وجہ سے پریشانیوں ، غموں اور مصائب کا جنازہ جیتے جی اپنے کندھوں پر اُٹھائے پھر رہا ہے۔ لیکن کوئی دوسرا سہارا دینے والا نہیں حتیٰ کہ اپنے عزیز و اقارب، جنہیں صلہ رحمی کا حکم دیا گیاہے وہ بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور مادیت کی پٹی آنکھوں پر باندھ کر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ جب اس کا کوئی قریبی رشتہ دار مرتاہے تو رسمِ زمانہ نبھانے کے لیے اس کے جنازہ یارسم قل میں شرکت کر لیتے ہیں۔
مولوی حضرات بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ وہ بھی اپنے معاشرے اور محلہ سے اجنبی رہتے ہیں ۔ جنازہ تو پڑھا دیتے ہیں ( یاد رہے کہ جنازہ پڑھانا مرنے والے کے ولی کے لیے مستحب ہے لیکن افسوس کہ ہمیں نمازِ جنازہ کی دعائیں بھی یاد نہیں رہتیں تو جنازہ کیا پڑھائیں گے)۔ لیکن کتنے مولوی حضرات ہوں گے جو مرنے والے کی عیادت بھی کرتے ہوںَ جمعہ جماعت تو کراتے ہیں لیکن معاشرے کے سماجی ، معاشرتی اور سیاسی احوال کی بات نہیں کرتے کہ کہیں بقول شاعِر کہیں ٹھیس نہ لگ جائے آبگینے کو۔
اگر ہم سب مریضوں کی عیادت کرتے اور ان کے لیے دُعا کرتے تو شاید اللہ ان کی عمر میں اضافہ فرما دیتے۔ کاش ایسا احساس و شعور ہمارے معاشرے میں پیدا ہو جاتا کہ وہ جس طرح مرنے والے کے جنازہ میں شرکت کرتے ہیں اسی طرح وہ زندہ انسانوں کی مشکلات کو بھی حل کرنے کے لیے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور بقدرِ استعداد دامے، درمے ، سخنے اپنے بھایوں کی مدد کرتے تو اللہ تعالی کی رحمتوں کا نزول ہوجاتا اور ہمیں پریشانیوں ، تکلیفوں سے نجات مل جاتی۔

Short URL: http://tinyurl.com/htp9sre
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *