جمشید دستی کے الزامات\”اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو..؟\”۔۔۔۔ ندیم رحمن ملک

Print Friendly, PDF & Email

یہ ان دنوں کی بات ہے جب پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کی غرض سے یورپ سے مستعار لیا بلدیاتی نظام متعارف کرایا،مظفرگڑھ سے ضلعی ناظم کا الیکشن سابق وزیر دفاع عبدالقیوم جتوئی نے سلطان محمود ہنجرا کو ہرا کے جیت لیا،جمشید دستی بھی اس دور میں پہلی بار لیبر کونسلر منتخب ہوا اور اس نے اپنا ووٹ عبدالقیوم جتوئی کو دیا،پیپلز پارٹی کے جتوئی صاحب کی سیاست اپنے عروج پر تھی،یہ وہ وقت تھا جب بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان اور ملک غلام مصطفٰے کھر صاحب کا زوال شروع ہوچکا تھا،مظفرگڑھ کے عوام اب ان دونوں سیاستدانوں سے دور بھاگنے لگے تھے،اعتبار کی پتنگ کی ڈور بس اب کٹنے کو تھی،عوام اب کسی انقلاب اور کسی نئے مسیحا کے منتظر تھے کہ جتوئی صاحب کی انٹری نے گویا مردہ جسم میں جان ڈال دی،عوام نے ان سے امیدیں وابسطہ کر لیں،اور پھر پلٹ کے کبھی نواب صاحب اور کھر صاحب کو نہیں دیکھا،جتوئی گروپ ضلعی سیاست میں بے درپہ کامیابیاں سمیٹ رہا تھا،اس وقت جمشید دستی کا رول محض ایک کن ٹٹئے کا سا تھا،جو ہمہ وقت کسی نہ کسی ماردھاڑ اور اوٹ پٹانگ حرکتوں میں پایا جاتا تھا،جتوئی صاحب خود ایک تعلیم یافتہ اور وضعدار انسان ہیں،وہ سیاست میں نہ گلہ پھاڑ کے چیختے چلاتے ہیں اور نہ تھانوں کچہریوں میں بڑحک اور ہاتھا پائی کے قائل تھے ان کوجمشید دستی جیسے نورتن درکار تھے جو باوقت ضرورت ان کے لیے بھونپو اورایندھن کا کام دئے سکیں،مظفرگڑھ کے دستی بلوچ سیاست میں قیام پاکستان سے قبل ہی کامیابیاں سمیٹتے چلے آئے ہیں دستی قبیلے کے چیف سردار عبدالحمید خان دستی مغربی پنجاب کے وزیراعلیٰ اور انکا ایک بیٹا سردار امجد حمید خان دستی پنجاب کابینہ کے سدابہار وزیر رہ چکے ہیں،لیکن اس گھرانے کا جمشید دستی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ کوئی شادی برادری ہے محض تعلق قوم کا ہے۔پنجاب میں چوہدری پرویز الہی نے پی پی پی کے عبدالقیوم جتوئی کو مظفرگڑھ کی ناظم شپ میں ٹف ٹائم دیا ہوا تھا،حتیٰ کہ روٹین اجلاس بھی نہیں ہونے دیتے تھے،ایک دن اسی کیفیت میں ضلع کونسل کو تالا لگا دیا گیا ۔تب ضلعی کابینہ کا اجلاس شہر کے ایک چھوٹے سے پارک میں ہوا جہاں سارا دن کتے اورنشئی پائے جاتے تھے،اس اجلاس کی بازگشت یورپی میڈیا تک میں سنئی گئی،یہ آئیڈیا جمشید دستی کا تھا!!
یوں آہستہ آہستہ وہ جتوئی صاحب کے قریب ہوتا چلا گیا،آشیرباد پا کے ایک دن وہ جتوئی صاحب کے مخالف سلطان محمود ہنجرا کے سامنے ہوگیااور ہرممکن طور پر اسے اپنی باتوں اور کردار کشی کا مظاہرہ کر کے اسے رسوا کیا،اب جمشید دستی جتوئی کی آنکھ کا تارا اور جانثار بن چکا تھا، ضلعی افسران کی کلاس لینا اب دستی کا معمول بن چکا تھا۔افسران اس سے خائف رہنے لگے،دبے دبے لفظوں میں شکایت بھی کی گئی لیکن جتوئی صاحب دستی کی پرفارمنس سے مطمین تھے،دستی جب چاہتا گدھا رہڑی پر بیٹھ کے بازار نکل آتا،جھاڑو پکڑ کے گلیاں صاف کرنے لگتا،رہڑیوں والوں رکشہ والوں کو اکھٹا کر کے آمریت اور حکمرانوں کا کوسنا اور گالیاں دینا شروع کردیتاتھا۔یہی ادا مظفرگڑھ والوں کو بھا گئی،غریب ،پسے ہوئے طبقے اور معاشرتی نا انصافیوں میں جکڑئے ذلتوں کے مارے لوگوں نے دستی کو گلے لگا کے اسے اپنا مسیحا قرار دیا اور اسے ایم این اے بنا دیا،جعلی ڈگری نے اسے شہرت دی عدالت نے اسے فارغ کردیا لیکن زرداری نے دوبارہ اسے ایم این اے بنا دیا،اب اسکی شہرت ملک گیر ہوچکی تھی اب وہ مقامی سے قومی رہنما بن چکا تھا سب سے پہلا کام اس نے یہ کیا کہ عبداقیوم جتوئی سے چھٹکارا حاصل کیا،کیوں کہ حکمران وقت کسی بات سے جتوئی صاحب سے ناراض تھے،وقت گزرتا رہا دستی مضبوط تر ہوتا چلا گیا اب تو وہ فیصل صالح حیات جیسے سیاست دانوں کے گریبان بھی پکڑنے لگا تھا ۔ قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیئر مین کی حثیت سے سب قومی لجینڈز اس سے اپنا دامن اور پگڑی بچانے لگے اب اسکی نگاۂ مظفرگڑھ کے تمام قومی حلقوں پر براجمان تھی،حنا ربانی کھر کا حلقہ قدرے کمزور تھا کیونکہ شادی کے بعد وہ چنیوٹ جا چکی تھیں ان کے والدملک نور ربانی کھر جو کہ ایک شریف انسان اور رکھ رکھاؤ والے سیاست دان مانے جاتے ہیں وہ یہ حلقہ چلا رہے تھے،پھر حنا کھر کو زرداری نے وزیرخارجہ بھی بنا دیا لیکن جمشیددستی کو کوئی وزارت نہ دی گئی جو کہ حنا سے سیاست میں اپنے آپ کو برتر سمجھتا تھا،یوں اس نے حنا کھر کے حلقے میں آنا جانا اور جلسے جلوس شروع کر دیئے جو کہ زرداری،گیلانی اور حنا کوپسند نہ آئے،حنا کھر کے وویلا پر اس نے زرداری اور گیلانی جیسے محسنوں کو ٹکا سا جواب دے دیا،اور پی پی پی کو داغ مفارقت دے کے آزاد حیثیت سے اپنا گروپ بنا کے الیکشن لڑا اوریوں دو حلقوں سے کامیاب ٹھہرا اس نے فورا جاتی عمرہ کا ٹکٹ کٹوایا لیکن اب کے حکمران اتنے بھولے نہیں تھے،اپنا سا منہ لیکر پھر عمران خان کے پاس گئے لیکن اب اس سیاسی یتیم کو کوئی سرپرستی دینے والا نہ ملا تو اس نے لال حویلی میں اپنا سینگ جا گھسایا،اب شیخ صاحب کو اللہ دئے اور بندہ لے والے مقام سے گزر رہے ہیں، \’\’ خوب گزرے گئی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔\’\’جمشید دستی کو اب خبروں میں رہنے کا طریقہ آگیا،\’\’ کیپٹل ٹاک\’\’ والے اسے Most Wanted قراردئے چکے ہیں ویسے بھی اپنا میڈیا والے ہر سنجیدہ اور غیر سنجیدہ شخص اور ہر ایوں تیوں ایشوز کو ہائی لائٹ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں،جو شخص عدالت میں جھوٹ بول سکتا ہو،اپنے محسنوں کی کردارکشی کر سکتا ہو،دیکھاوئے کے لیے جھاڑو اٹھنا،گدھا گاڑی پر بیٹھ کے انٹرویو دینا،پھر اگلے لمحے اپنی بیش قیمت گاڑی پر سوار ہوکے حلقے میں گھومنایہ سب کسی بھی سنجیدہ اور صاحب کردار کا عکس نہیں ہے،جس کا قول و فعل میں تضاد ہو اسکی کسی خبر میں کیا حقیقت ہو سکتی ہے؟ویسے بھی قران و حدیث میں یہ بات موجود ہے کہ جو شخص فاسق ہو اسکی کسی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہوتی۔ممکن ہے کہ دستی صاحب کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہو،لیکن ان کو اس وقت کیوں یہ سب یاد آیا جب اجلاس میں برسوں بعد ایک اہم قومی سلامتی پالیسی کو قانونی شکل دی جارہی تھی،ایسے موقع پر اتنا سنگین ترین الزام جس کے اثرات کا شاید دستی صاحب ادراک نہ کر سکیں،ساڑھے تین سو ممبران اسمبلی کو بیک جنبش رگید ڈالنا ایسے حالات میں مناسب نہیں تھا،مان لیا ہم سب میں اخلاقی اور معاشرتی برائیاں ہیں،سیاست دانوں کی منافقت اور کردار سازی کا فقدان بھی کوئی نئی بات نہیں لیکن چند ایک کے گناہ میں سب کو دھکیلنا قطعی مناسب نہیں تھا،پھر اسپیکر جو ہاؤس آف کسٹوڈین بھی ہیں ان کو ذاتی اور پراہیوئٹ طور پر آگا ہ کیا جاتاجس سے یہ ایشو احسن طور پر حل ہوجاتا،اب اگر عدالت سوموٹو ایکشن لیتی ہے تو بھی ملکی وقار اور اسمبلی کا تقدس مجروح ہوگااور اگر جمشید دستی کی کریڈبلٹی ثابت نہ ہوئی تو بھی جمہوریت کے حسن پر ایک کلنک کا دھبہ برسوں نمایاں رہے گا۔۔۔آخر میں چلتے چلتے اگر جمشید دستی واقعی کوئی ٹھوس ثبوت لے آتے ہیں پھر ہم سب کا فرض ہے کہ اسکے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں ،اور اس شعر کی عملی تصویر بن جاہیں، 

\’\’ اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آن پہنچا ہے
جب تخت گرائے جاہیں گے جب تاج اچھالے جاہیں گے\’\’.

 1,346 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/hwx4jzr
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *