تیرے پراسرار بندے۔۔۔۔ تحریر : اریبہ بلوچ

Areeba Baloch
Print Friendly, PDF & Email

خدا کے بندوں کو سمجھنے کے لئے بڑا حوصلہ و علم چاہئیے انہیں سمجھنا انہیں جاننا انتہائی مشکل ہے انکی شخصیت میں کس قدر پیچیدگیاں اس قدر گھمن گھیریاں ہیں کہ ہم جیسا کم فہم انسان ان میں الجھ کر رہ جاتا ہے مگر پلے کچھ نہیں پڑتا انکی شخصیت کا گوشہ گوشہ پراسراریت سے لبریز ہوتا ہے کون جانے کہ ویرانوں میں بیٹھنے والا مجنون ہے یا مجذوب …اہل اللہ کو اہل دل کہا جاتا ہے کیوں کہا جاتا ہے اسکی وجہ میرے پیر و مرشد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جو لوگ مرنے والوں پر مرتے ہیں انہیں اہل دل نہیں کہا جاتا کیونکہ اُنکے دل مٹی پر مٹی ہو کر مٹی ہو چکے ہیں اور جن کے دل اللہ پر فدا ہو گئے انکو کہا جاتا ہے کہ یہ اہل دل ہیں یہ اللہ تعالی کو دل دیتے ہیں کہ جس نے دل بنایا ہے …اہل اللہ کبھی بھی اپنے مقام و مرتبے کو واضح نہیں دیتے اہل اللہ لاکھ چھپائیں مگر انکے قلب میں موجود نسبت مع اللہ کی جو خوشبو ہے وہ ظاہر ہو کے رہتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ طلب سچی ہو جس کے ناک میں گناہوں کا سڑا ہوا بلغم ہو گا اسے گلستان میں بھی بدبو ہی محسوس ہو گی
روحانیت کی بھی اپنی شرائط ہیں جو ان شرائط پر پورا نہیں اترتا وہ روحانیت کا اہل نہیں روحانیت کی نسبت اس شخص پر حرام ہے جس پر لرگوں کے حقوق ہوں یعنی جس کے زمے حقوق العباد ہوں حضرت شبلی نے گورنری چھوڑ کر کس رکہ عشق میں قدم رکھا تھا اس لئے ان پر وارداتیں بھی عجیب ہوتی تھیں لیکن انہوں نے سچی توبہ کی تھی ایسی توبہ جسے بوبہ النصوح کہتے ہیں جس جس کے حقوق ضائع کیے تھے اس اس سے جا کر معاف کروائے اللہ کسی کہ مجاہدے اور محنت کو ضائع نہیں کرتا حضرت شبلی کی قربانیوں کی وجہ سے ان پر محبت الہی کا غلبہ بھی بہت ہوتا تھا راہ عشق میں بہت قرباناں دینی پڑتی ہیں قربانیوں کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ایک دفعہ ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے انہیں مرغ مسلم ملتے تھے اور قسم قسم کی نعمتیں ملتیں ایک گھاس والے وہاں آ بیٹھیتو انہیں دال ملتی تھی یہ گ ہے ھاس والے حیران ہوئے کہ مجھے دال ساگ کیوں ملتا ہے تو الہام ہوا یہ شہزاد تھا قربانیاں دے کر آیا ہے اسلیے اسے اسکی قربانیوں کے بقدر ملتا ہے کس راستے میں قربانیاں کرنی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر بات بنتی ہی بلکہ بغض اوقات تو جان کی قربانی بھی لگانی پڑتی ہے
حضرت ابراہیم ادھم جو کہ بلخ کہ بادشاہ تھے وہ چاہتے تھے کہ رہیں بھی شاندار زندگی میں اپنے آپ کو بدلنا بھی نہ پڑے اور خودبخود پکے سچے مومن بن جائیں ایک رات محسوس کیا چھت پر کوئی چل رہا ہے پوچھا کون ہے ؟جواب ملا آپ کے دوست کا دوست ہوں اپنے اونٹ جو کہ گم ہو گئے ہیں وہ تلاش کر رہا ہوں آپ نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اونٹ چھتوں پر مل جائیں فرمایا کہ یہ اس سے بھی زیادہ عجیب ہے کہ آپ اسی حالت میں رہنا چاہتے ہیں اور معرفت کے بھی خواہشمند ہیں اس کے لیے جدوجہد اور کوشش ضروری ہے ارشاد ربانی ہے
\”جو ہمارے لئے کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت دے دیتے ہیں\”
اللہ اور اسکے بندوں کے درمیان ایک خاص تعلق اور ایک خاص رشتہ ہوتا ہے جسے اہل اللہ ہی سمجھتے ہیں
حضرت شبلی پر الہام ہوا \”کیا تو چاہتا ہے کہ تیرے عیب کھول کر بیان کر دوں تو تجھے کوئی منہ لگانے والا نہ ہو \”تو حضرت شبلی نے بارگاہ الہی میں عرض کیا \”کیا تو چاہتا ہے کہ میں تیری رحمت کو کھول کر بیان کر دوں تو تجھے کوئی سجدہ کرنے والا نہ ہو \”تو الہام ہوا نہ تم بیان کرنا نہ میں بیان کروں گا \” یہ اللہ سے محبت عشق و راز و نیاز کی باتیں ہوتی ہیں رازوں کی دبیز قبا اوڑھے جن کا بھید کسی نے نہیں جانا اپنی شخصیت میں لاتعداد پہلو کے حامل ہیں
خواجہ اللہ بخش تونسوی مشہور ولی اللہ کو چند شریر لڑکوں نے آزمانے کا فیصلہ کیا انہوں نے ایک لڑکے کو تیار کیا اور کہا کہ تم ادھر لیٹ جاؤ ہم تمہارا جنازہ لے کے خواجہ اللہ بخش کے پاس جائیں گے اور انہیں نماز جنازہ پڑھانے کا کہیں گے آج یہ سب کو پتہ چل جائیگا کہ (معاز اللہ) یہ کوئی پیر مرشد نہیں ہیں ،وہ لڑکے کا جنازہ اٹھا کے خواجہ صاحب کے پاس آئے اور آپکو نماز جنازہ پڑھانے کا کہا آپ نے پوچھا کیا واقعی پڑھا دوں نماز جنازہ ؟جواب ہاں میں ملا آپ نے دوبارہ یہی سوال دہرایا تب بھی ہاں میں جواب ملا آپ نے تیسری بار پھر پوچھا اور اس بار بھی ہاں میں جواب ملا ..آپ نے نماز جناہ پڑھا دی نماز جنازہ سے فراغت کے بعد ان چال باز لڑکوں نے اس لڑکے کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ لڑکا حقیقت میں مر چکا تھا یہ ہے اللہ والوں کی طبیعت اس قدر کشف و کرامات کی حامل
کسی نے آپ سے اسکا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا \”جب میں پا پیادہ عازم حج تھا میرا گزر ایک بیمار پر ہوا جس کا رنگ متغیر تھا اس نے مجھے دیکھ کر السلام علیکم یا عبد القادرمیں نے سلام کا جواب دیا اس نے کہا آپ مجھے بٹھا دیں میں نے اسے بٹھا دیا تب اسکا بدن بڑھنے لگا اور اسکی صورت اچھی ہو گئی اور اسکا رنگ بھی صاف ہو گیا میں اس سے ڈرا تو وہ کہنے لگا کہ آپ مجھے پہچانتے ہیں میں نے کہا نہیں تو وہ بولا میں دین ہوں میں خستہ حال ہو گیا تھا جیسا کہ آپ نے مجھے دیکھا بلاشبہ اللہ نے مجھے آپ کے سبب زندہ کر دیا آپ محی الدین ہیں
حضرت دائرہ شاہ المعروف حضرت دائرہ دین پناہ کے انتقال کے وقت انکے مریدوں میں جھگڑا ہو گیا تھا مشرقی حصے کے مرید آپ کے جسد خاکی کو اپنے ہاں دفنانا چاہتے تھے جبکہ مغربی حصے کے مرید آپ کے جسد خاکی کو اپنے ہاں دفنانا چاہتے تھے ..مشرقی علاقہ جات اور مغربی علاقہ جات کے درمیان دریا بہتا ہے مشرقی جانب کے مرید خود کو خادم کہلواتے تھے اور مغربی جانب کے مرید خود کو مخدوم کہلواتے تھے …خادم و مخدوم دونوں میں اختلاف ہو گیا تھا دونوں کا کہنا تھا کہ وہ حضرت دائرہ شاہ کے خاص مرید ہیں سو جسد خاکی انکے ہاں دفنایا جائے ,فیصلہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا ..حضرت دائرہ شاہ ایک شخص کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا کہ \”دونوں اطراف کے مریدوں سے کہ دو کہ ایک ایک تابوت بنا کر تیار رکھیں صبح فیصلہ ہو جائیگا \”صبح خادموں نے تابوت کھولا تو اس میں آپ کا جسد خاکی موجود تھا مخدوموں نے آپ کا تابوت کھولا تو اس میں بھی آپ کا جسد خاکی موجود تھا دنیا قدرت کے اس عظیم معجزے اور حضرت کی کرامت پر حیران و ششدر رہ گئی اور ہر زباں لفظ سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہو گئی خادموں نے آپ کے جسد خاکی کو اپنے ہاں دفنایا اور مخدوموں نے اپنے ہاں تو اس طرح آپ کے دو مزار ہیں ایک دائرہ دین پناہ حسان پورہ میں اور دوسرا تونسہ شریف کے ساتھ واقع بستی دائرہ دین پناہ میں اللہ کے ان بندوں کو سمجھ بھی اللہ والے ہی سکتے ہیں ہم جیسے کم فہم تو انکی شخصیت میں الجھ کے رہ جاتے ہیں مگر سمجھ پھر بھی کچھ نہیں آتا کیونکہ خدا کے ان بندوں کی شخصیت انکا مقام و مرتبہ ایک عام انسان کی فہم و ادراک سے بالاتر ہے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/gwjaz4z
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *