تذلیل نسواں کا میگا پراجیکٹ

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ڈاکٹر ایم ایچ بابر 
عورت کو جتنی عزت و تکریم سے اسلام نے سرفراز کیا ہے ادیان عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی مگر آج ایک منظر دیکھ کر دل خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا اور کافی دیر تک ذہن اسی سوچ میں غوطہ زن رہا کہ کیا اس طرح کا سلوک کرتے ہوئے بھی ہم مسلمان ہی ہیں ناجانے کون عقل و خرد سے عاری شخصیت ہے جو اس طرح کی پالیسیاں بنا کر غریب کو نمائش کے مال کے طور پر زمانے کے سامنے پیش کر رہا ہے تاکہ وہ دنیا کو دکھا سکیں کہ ہم کس قدر غریب پروری کر رہے ہیں میرا تو اس شخص کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے جو اس طریقے سے غریب کو مزید رسوا کرنے پر تلا ہوا ہے ۔بات کچھ اس طرح ہوئی ہے کہ آج میں گھر سے نکل کر اپنے آفس کی طرف جا رہا تھا کہ ٹیلی نار کی فرنچائز کے باہر اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کی لمبی قطاریں دیکھ کر حیران ہو ا اور اسی جانب چل پڑا کہ معلوم تو کیا جائے کہ ماجرا کیا ہے اتنی بڑی تعداد میں دختران آدم آخر کیونکر یہاں اکٹھی ہوئی ہیں کیا سارے شہر کی خواتین نے اپنا نیٹ ورک تبدیل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے ؟ جب قریب پہنچ کر منظر دیکھا تو حیرت مزید بڑھتی چلی گئی ایک ڈنڈا بردار آدمی ان خواتین کے سامنے کھڑا منہ سے مغلظات بک رہا تھا جو کہ میں قبضہ تحریر میں نہیں لا سکتا بس آپ یوں سمجھ لیں کہ جیسے ایک گلہ بان اپنی بھیڑ بکریوں کو ہانکتے ہوئے کچھ بھی اول جلول بک رہا ہوتا ہے کچھ ایسی ہی بد تہذیبی کا مظاہرہ کر رہا تھاس وہ ڈنڈا بردار آدمی ساری خواتین سے جب میں نے ایک خاتون سے پوچھا کہ آپ اس آفس میں کیوں آئی ہیں تو وہ کچھ یوں گویا ہوئی کہ بینظیر انکم سپورٹ کی رقم کی وصولی کے لئے ہم یہاں آئی ہیں میں نے حیرت سے پوچھا کہ وہ تو حکومت نے آپ لوگوں کو اے ٹی ایم کارڈ جاری کیئے ہوئے تھے کہ جب آپ کی رقم آجائے آپ کسی بھی بینک کی اے ٹی ایم سے اپنے پیسے عزت سے نکلوا کر اپنے گھر عافیت سے جا سکتی تھیں پھر آپ یہاں کیوں آئی ہیں اس پر وہ خاتون کہنے لگی کہ یہ تو حکومت کو پتہ ہو کہ وہ ہمارے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہے ہم صبح چھ بجے کی یہاں آئی ہوئی ہیں اب تقریبا ۲ بج گئے ہیں قطار شیطان کی آنت کی طرح بڑھتی چلی جا رہی ہے مگر جن کی باری آئی بھی ہے انکو بھی کہا جا رہا ہے کہ پہلے مبلغ دو سو روپے کی ٹیلی نار سم خرید کر ہمارے نیٹ ورک پر آؤ اس کے بعد آپ کو ایک ٹوکن دیا جائے گا اور پھر کل آکر اسی طرح اپنی باری آنے پر آپکو اپنی رقم ملے گی جب تک آپ ٹیلی نار کے باقاعدہ صارف نہیں بن جاتے آپ کو پیسے نہیں ملیں گے ۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارا دین کہتا ہے کہ اگر کسی کی مدد کرو تو ایسے کہ داہنے ہاتھ سے گر دے رہے ہو تو بائیں کو پتہ نہ چلے اور ہماری حکومت کے ان پالیسی ساز اذہان کے قربان جایئے کہ جنہوں نے تکریم نسواں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غربت کے مارے لوگوں کو تذلیل نسواں کا پروگرام مرتب کر کے دیا ۔کیا وہ پالیسی ساز لوگ کبھی چاہیں گے کہ ان کے گھر کی خواتین صرف ایک گھنٹے کے لئے بھی چلچلاتی دھوپ میں سر بازار کھڑی ہوں ؟یقینی طور پر جواب نفی میں ہی ہو گا ۔ماں بہن بیٹی تو سب کی ایک جیسی ہی ہے تو پھر کیوں غریب ماں ، لا چار بہن ،مفلس بیٹی ،بے کس بیوہ اور مجبو ربیوی کی مجبوری کو اور نمایاں کر کے زمانے کے سامنے رسوا کیا جا رہا ہے کیا غربت اتنا سنگین جرم ہے کہ ان خواتین کو جیسے سزا کے طور پر سڑکوں اور چوراہوں پر ہجوم کی صورت میں کھڑا کر کے نشان عبرت بنایا جا رہا ہے یا پھر ان دختران قوم، خواہران ملت ،بیوگان وطن ،مادران دھرتی کو دنیا کے سامنے اکٹھا کر کے ایک ہجوم کی شکل میں دکھانا مقصو د ہے کہ دیکھیں جی ہم کتنے غریب ملک سے تعلق رکھتے ہیں ہماری تو اتنی خواتین ننگے پاؤں اور ننگے سر بیچاری صبح سے شام تک صرف امداد کے حصول کے لئے سڑکوں پر دھکے کھا رہی ہیں اور ہم انکو سپورٹ کر رہے ہیں اور اگر دوسرے رخ پر سوچوں تو اس تبدیلی کے پیچھے بھی کاروبار کار فرما ہے موجودہ دور میں جب تمام موبائیل کمپنیو ں کی سمیں بالکل مفت دستیاب ہیں تو پھر ان غرباء پر دو سو روپے کا سم کی صورت میں ٹیکس کیوں لاگو کیا جا رہا ہے ؟صرف اور صرف ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ کہیں اس سوچ کے پیچھے بھی کمیشن مافیا کا ہاتھ ہے جو دو سو روپے فی سم کی شکل میں ان غرباء سے بھی ہتھیائے جا رہے ہیں اور تذلیل بطور بونس عطا کی جا رہی ہے ۔ غور طلب بات تو یہ ہے کہ ون لنک پر کسی بھی بینک کی اے ٹی ایم مشین سے جب یہ دختران قوم عزت سے اپنی امدادی رقم لے سکتی تھیں تو پھر انکو پر ہجوم چوکوں میں کھڑا کرنا آخر کس وجہ سے ان مستورات کا جرم آخر کیا ہے جو انکو سربازار نمائش بنا کر رکھ دیا گیا ؟ یقین جانیں ان امداد پانے والی بیسیوں خواتین ایسی بھی ہیں کہ جو حکومت سے اپنا حق سمجھ کر لے تو رہی ہیں مگر اپنی سفید پوشی پر بھی کوئی حرف نہیں آنے دینا چاہتی تھیں مگر قربان جایئے اس حکومت کے ماسٹر مائنڈ پالیسی ساز لوگوں کے کہ کہ جنہوں نے اپنی ایسی ماں بہن اور بیٹیوں کو بھی ظاہر کر کے رکھ دیا واہ واہ کیا کہنے ان عالی ذہن شخصیات کا جنہوں نے ایسے انا پرست غرباء کی رہی سہی عزت بھی ختم کرنے کی ٹھان لی ہے ۔ نمود و نمائش کے رسیا لوگ کیوں یہ بھول بیٹھے ہیں کہ ایک ہاتھ دو تو دوسرے کو پتہ نہ چلے اور یہاں ہماری منطق ہی کچھ اور ہے کہ اس وقت تک کسی غریب کو کچھ نہ دو جب تک سارے زمانے کو علم نہ ہو جائے ۔ خدارا ان غریب لوگوں کو چلچلاتی دھوپ سے بچانے والے راہنماء بنیں یہ وہی غرباء ہیں جن سے ووٹ کی بھیک مانگ کر آج آپ لوگ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہو یہ وہی سخی ہیں جن کے آگے جھولی پھیلا کر آپ لوگ آج مسند نشین بنے ہوئے ہو ان خاک نشینوں کی قدر کرو ان کو تکریم دینا اپنا اولین فریضہ جانو یہ جو آپ لوگ امداد کی صورت میں انکو چند ٹکے دے رہے ہو نہ ان لوگوں کا حق ان سے کہیں زیادہ ہے انکودھوپ میں کھڑا تو ایسے کر رہے ہو جیسے یہ آپ کے مزارعے ہوں قسم بخدا اصل میں یہ عوام آپ کی حاکم ہے اور آپ اس کے خادم مگر اپنی اصلیت کو بھول کر ہم ان دریا دلوں کو تکریم کے بدلے تذلیل دے رہے ہیں اب بھی وقت ہے کہ اپنا قبلہ درست کر لو کیونکہ وہ وقت اب بہت قریب ہے جب ایک بار پھر جھولی پھیلا کر آپ کو انہی کے دروازوں پر ووٹ کی بھیک مانگنا ہو گی یہ نہ ہو کہ ان دھوپ کی جھلسی ہوئی ماؤں بہنوں بیٹیوں کی آہ آپ کو جلا کر خاکستر کر دے دو سو والی سم کی شرط آخر کیوں مسلط کی جا رہی ہے ؟ جب کہ پہلے اے ٹی ایم کارڈز بغیر کسی معاوضے کے ملے تھے انکو بفرض محال اگر کسی کے پاس دو سو روپے نہیں ہیں یا وہ دوسری سم خرید نہیں سکتا یعنی ہو سکتا ہے پہلے ہی سے کسی کے نام پانچ سمیں پوری ہوں اور چھٹی اس کے نام رجسٹر ڈہی نہ ہو سکے تب تو وہ اپنی امدادی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھے گا نہ یہ بڑی عجیب سی شرط ہے کہ پہلے ٹیلی نار کی سم خریدو پھر ٹوکن حاصل کرو اور دوسرے دن آ کر اپنے پیسے اسی طرح صبح سے شام تک کھڑے رہنے کے بعد لو ۔جب تک اس خاتون کو سارا شہر لائن میں کھڑا دیکھ نہ لے وہ انکم سپورٹ کی حقدار نہیں کیا کہنے جناب ۔ارے عقل کے دشمنوں جب بائیومیٹرک طریقے سے اس نے اپنے پیسے وصولنے ہیں تب تو کوئی دوسرا اس کے پیسے نہیں نکلوا سکتا نہ ؟ پھر یہ سم خریدنے کی شرط کیونکر رکھی گئی ؟تکریم دختران آدم کی روش اپناؤ اور خدا کے لیئے تذلیل نسواں کا یہ میگا پراجیکٹ فی الفور تبدیل کرو ۔ یقین جانئے یہ مائیں بہنیں بیٹیاں مریم نواز ،کلثوم نواز ،بختاور اور آصفہ سے کسی بھی طور کم صاحب توقیر نہیں ہیں بلکہ ان ہی کی وجہ سے آپ عزت مآب ہیں ۔

Short URL: http://tinyurl.com/yd25totl
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *