بُلبُل اور اُلو ( دو پرندے)۔۔۔۔ تحریر: الطاف حسین کلو

Altaf Hussain Kallu
Print Friendly, PDF & Email

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کونسا موضوع ہے کہ دوپرندوں کو موضوعِ گفتگو بنا یا گیاہے۔ لیکن پرندوں میں وہ خوبیاں اور خصوصیات پائی جاتی ہیں کہ علامہ ڈاکٹر اقبال جیسی عبقری شخصیت بھی شاہین پرندے کو پسند کرتی ہے اور اپنی شاعری میں شاہین کا بار بار ذکر کیاہے۔ وہ جوانوں میں شاہین جیسی صفات کے متلاشی تھے۔ اسی طرح بُلبُل بھی ایسا پرندہ ہے جو کہ کچھ صفات کا حامل ہے اور اس کے بالمقابل اُلو جسے یہاں نحوست کے طور پر جانا جاتاہے۔ اپنی وضع قطع کے لحاظ سے بھی کوئی خوبصورت پرندہ نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جمادات ، نباتات، حیوانات اور اشرف المخلوقات پیدا کیے جو ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے گھوڑے ، خچر اور گدھے کو ہماری سواری اور زینت کہاہے۔ جمادات نباتات کے تابع ہیں اور نباتات حیوانات کے تابع جبکہ حیوانات اور چرند پرند اشرف المخلوقات یعنی انسان کے تابع کردیئے گئے ہیں۔
اللہ کی مخلوقات میں کوئی بھی چیز بے فائدہ پیدا نہیں کی گئی، یہ علٰیحدہ بات ہے کہ ہم اس کی حقیقت نہ سمجھ سکیں۔ علامہ اقبال نے شاہین کو اس لیے پسند کیاہے کہ اس پرندے میں چار پانچ خصوصیات ایسی ہیں جو کہ دوسرے پرندوں سے بالکل مختلف ہیں اور یہی صفات وہ اپنے جوانوں میں دیکھنا چاہتاہے جیسے شاہین خود دار ہوتاہے۔ ۲۔بلند پرواز ہے۔ ۳۔ تنہائی پسند ہے اور تیز نگاہ ہے۔ اس طرح دوسرے پرندوں میں بھی کچھ انفرادی خصوصیات ہوتی ہیں۔
بُلبُل ایک پرندہ ہے نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ اپنی میٹھی زبان اور بولی کی وجہ سے کانوں میں رَس گھولتاہے۔ اچھی اور میٹھی گفتگو بھی دوسروں کے دِل کو موہ لیتی ہے۔ اس لیے قرآن میں ارشاد ہوتاہے ۔ قولو الناس حسنا۔ یعنی لوگوں سے اچھے انداز اور لہجے میں بات کی جائے۔ حضرت موسیٰ کو جب فرعون کے دربار میں بھیجا جاتاہے تو نصیحت کی جاتی ہے کہ اس سے نرمی سے بات کرنا ، اسی لیے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ میٹھے بول میں جادو ہے۔ بُلبُل خوشخبری دینے والا پرندہ ہے اور یہ اس کی صفت ہے، اس لیے ہر اس بندے کو پسند کیا جاتاہے ، جو خوشخبری لائے اور عقلمندآدمی تو ہوتا بھی وہ ہے کہ وہ ہمیشہ اچھی خبر دیتاہے اور بُری خبریں پہنچانا وہ دوسروں پر چھوڑ دیتاہے۔ جو شخص فحش اور بُری خبریں پہنچانے میں پہل کرتاہے۔ اُسے اُلو سے تعبیر کیا گیاہے۔ اس طرح جو اچھی بات یا خوشخبری دیتاہے اُسے بُلبل سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ لیکن آج آپ اپنے ارد گرد ، پرنٹ میڈیا یا سوشل میڈیا کا جائزہ لیں تو آپ کو یہ فحش اور بُری خبر سنانے میں پہل کرنے والا ملے گا۔ گو کہ اُلو کو مغربی دانش گاہوں میں عقلمندوں کی نشانی کے طور پر جانا جاتاہے۔ شایداس کی ایک وجہ یہ ہو کہ وہ بالکل خاموش بیٹھا ہوتاہے۔ اس سلسلے میں حضرت علی کا بھی ایک قول ملتاہے کہ جب عقل پختہ ہو جاتی ہے تو باتیں کم ہو جاتی ہیں۔ یعنی خاموش رہنے میں عافیت ہے۔ اس لیے کہ کم بولنا ، کم سونا اور کم کھانا صحت کی علامت ہے ۔بُلبل کی میٹھی اور سُریلی آواز سے ہمیں یہی سبق ملتاہے کہ اگر بولنا پڑجائے تو اچھی اور میٹھی زبان سے بولا جائے نا کہ زبان کا نشتر چلایا جائے۔ زیادہ بولنے سے زیادہ غلطیوں کا امکان رہتاہے۔ تلوار کا زخم تو مندمل ہو سکتاہے لیکن زبان کا زخم کبھی مندمل نہیں ہوسکتا۔
ہمارے ہاں اُلو کو منحوس پرندہ سمجھا جاتاہے بلکہ قدیم مصری قوم میں اُلو کے خون کو جادو اور ٹونے میں بھی استعمال کیا جاتا رہاہے لیکن اسلامی روایات میں اُلو کے منحوس ہونے کی کوئی اصل نہیں ہے۔ پرندوں میں کچھ ایسی صفات پائی جاتی ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کی صفات میں ایک ایک صفت بھی اپنے اندر پیدا کرلے تو اس کی زندگی سنور سکتی ہے ۔
فاختہ امن کی علامت ہے۔ کوا نہایت ذہین اور ہوشیار پرندہ ہے۔ جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے کہ اس نے قابیل کو ہابیل کی لاش دفنانے کا طریقہ سکھایا۔ ہُد ہُد پرندہ حضرت سلیمان کا سفیر تھا جس نے حضرت سلیمان کا پیغام یمن کی شہزادی بلقیس تک پہنچایا۔ کبوتر سے پیغام رسانی کا کام تو ماضی قریب تک لیا جاتا رہاہے۔ کوا ایک شرم و حیا والا پرندہ ہے۔ ایک کوے کی مصیبت پر سب کوے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ ہمارے لیے یہی سبق ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائی کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھیں اور اللہ کے دیئے ہوئے مال و رزق سے اپنے بھائیوں کا خیال رکھیں۔
موضوعِ سخن بُلبل اور اُلو ہے۔ بُلبل اچھی اور میٹھی زبان اور خوشخبری کی علامت کا پرندہ ہے۔ لہذا ہمیں بُلبل کی اس صفت کو اپناتے ہوئے لوگوں تک اچھی ، میٹھی اور خوشخبری کی باتیں پہنچائیں تاکہ ہمارا ماحول امن، پیار محبت کا ماحول ہو جبکہ بدقسمتی سے ہم نہ صرف بُری خبریں اور فحش باتیں پھیلاتے ہیں بلکہ ان باتوں سے محظوظ بھی ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں نفرتیں ، کدورتیں پھیلانے کا باعث بن جاتے ہیں، جس کی اسلامی تعلیمات میں سخت مذمت کی گئی ہے۔ جس کا قرآن پاک میں ارشاد ہوتاہے۔ کہ جو لوگ فحش اور بُری باتوں کو مومنوں کے درمیان پھیلاتے ہیں وہ دُنیا اور آخرت میں لعنت اور عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم بُلبل بن کر جیئیں گے اور اُلو نہیں بنیں گے، اگر اُلو بننا ہی ہے تو اس کی ایک صفت خاموشی کو اپنا لیا جائے تو کئی مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچ جائیں کیونکہ انسان اپنی زبان کی وجہ سے پھنستا ہے جبکہ پرندہ اپنے پنجوں کی وجہ سے جال میں پھنستاہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/jygerv9
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *