بدلتے سال کی کہانی

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: مونا شہزاد
31 دسمبر 2018 کی آخری شام تھی،سورج ڈھل رہا تھا،میں جاب سے فارغ ہو کر گھر جارہی تھی،دل پر عجب سا بوجھ تھا،اس سال جان سے پیارے رشتوں کو خاک کی نظر ہوتے دیکھا تھا، میں اس لئے اس سال کو خراج کا سال کہتی رہی، میں نے گاڑی گھر کے قریب پارک کے کنارے روکی اور میں پونڈpond کے گرد واکنگ ٹریک پر ٹہلنے لگی،میں نے دیکھا کہ سورج غروب ہورہا تھا،اس کا عکس پانی پر عجب روشنی بکھیر رہا تھا، میں ڈھلتے ہوئے سورج کی نارنجی شعاوں کو دیکھ رہی تھی۔میں سورج کے غروب ہونے کے منظر سے کچھ ایسی سحر زدہ سی ہوئی کہ میں ایک بنچ پر بیٹھ گئی۔اچانک میری نظر ایک شخص پر پڑی وہ خودکلامی کرتا تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا جارہا تھا، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس کے پیروں کے نیچے پہیے لگے ہوئے تھے۔وہ ایک بوڑھا شخص تھا،اس کا چہرہ بہت مسخ تھا،وہ بہت نحیف و نزار تھا، مگر اس کی چال ڈھال سے کوئی کمزوری ظاہر نہیں ہورہی تھی،اس کے کندھوں پر بے شمار بستے اور بیگز تھے۔اس نے ہاتھ میں ایک گھڑی اور ایک رجسٹر پکڑا ہوا تھا، اس نے قلم اپنے کان کے پیچھے اڑیسا ہوا تھا، وہ میرے قریب سے بڑبڑاتا ہوا گذرا،میں بے اختیار پتا نہیں کیوں اس کے پیچھے چل پڑی، پونڈ pond کے گرد دھند تھی میں اس کا تعاقب کرتی اس دھند میں داخل ہوگئی، اچانک منظر بدل گیا میں نے اپنے آپ کو ایک جنگ زدہ علاقے میں کھڑا پایا،سائرن زور زور سے بج رہے تھے، فوجی بھاگ رہے تھے،اچانک ایک عمارت پر بم گرا، میں نے ہول کر دیکھا،انسانی اعضاء میرے اردگرد بکھرے ہوئے تھے۔مجھے اندازہ ہوا کہ میں شام کے کسی جنگ زدہ علاقے میں موجود تھی،میں نے گھبرا کر دیکھا مجھے سامنے وہی بڈھا نظر آیا اس نے اپنے رجسٹر پر کچھ لکھا اور وہ دھوئیں اور گرد میں گم ہونے والا تھا کہ میں بے اختیار ہی اس کے پیچھے سرپٹ بھاگی۔دھواں چھٹا تو میں نے دیکھا میں ایک ساحل سمندر پر کھڑی تھی،میرے پیروں میں ایک معصوم شامی بچے کی لاش تھی،میں ایک ماں ہوں میرے لبوں سے دبی دبی چیخیں نکلیں،میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو سمندر کی لہروں پر ڈولتی بے شمار لاشیں نظر آئیں۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میں ترکی کے کسی ساحل پر موجود ہوں۔بوڑھے نے پھر رجسٹر پر اندراج کیا اور سمندر سے اٹھتی جھاگ کی طرف چلا میں اس کے پیچھے بھاگی۔سمندر کی جھاگ میں داخل ہوتے ہی ایک لمحے کے لئے میری آنکھ بند ہوئی،جب میں نے آنکھ کھولی تو اچانک میری نظرِ خیرہ ہوگئی،دور دور تک ریت چمک رہی تھی،میں نے اندازہ لگایا کہ میں افریقہ کے کسی صحرائی ملک میں کھڑی تھی۔میں نے دیکھا میرے اردگرد پچکے ہوئے پیٹ والے malnourished بچے موجود تھے۔بوڑھے نے پھر رجسٹر میں کچھ درج کیا،اسی وقت ریت کا طوفان آگیا،میں بوڑھے کے پیچھے اس جھکڑ میں داخل ہوگئی۔ دوبارہ میں نے آنکھیں کھولیں تو میں سرسبز و شاداب علاقے میں کھڑی تھی۔یہاں کے لوگ زرد فام تھے۔میں نے دیکھا قتل و غارت کا سیلاب گرم تھا۔عورتوں کی عصمت دری ہورہی تھی، مجھے اندازہ ہوا کہ میں روہنگیا میں موجود ہوں۔بوڑھے نے پھر رجسٹر پر کچھ درج کیا اور تیز بارش میں چلا،میں دیوانہ وار اس کے پیچھے بھاگی۔میں اپنی تیزی میں اس سے ٹکرا گئی۔اس نے ناراضگی سے مجھے مڑ کر دیکھا میں نے دیکھا ہم airdrie کے pond پر کھڑے تھے۔بوڑھے نے خفگی سے کہا: ”تمھارے کارن مجھے ادھورا کام چھوڑ کر آنا پڑا۔” میں مشکل سے بولی: ”تم کون ہو؟” وہ مسکرایا اور بولا: ”ابھی کچھ دیر پہلے تم اپنے دکھ کو رو رہی تھی، تمھارے پیارے اپنی عمر گزار کر ایک وقت پر دنیا سے گئے۔اب تم جو دیکھ کر آئی ہو اس کو کیا کہو گی؟” میں نے سر ہلایا اور بولی: ”تم کون ہو؟” اچانک بوڑھے کے پاس ایک خوش شکل، خوش اطوار نوجوان آکر کھڑا ہوگیا۔بوڑھے نے اپنے بستیرجسٹر،گھڑی اور پین اسے دے دیا۔ میں پھر بولی: ”اب تم کون ہو؟” وہ نوجوان دلکشی سے مسکرایا اور بولا: ”یہ بزرگ سال 2018 ہیں، میں سال 2019 ہوں۔ہر سال آغاز میں جوان اور خوبصورت ہی ہوتا ہے یہ دنیا کے باسیوں پر ہے کہ وہ اس سال کو امن،محبت،تبدیلی،برداشت، رواداری کا سال بنا کر جوان رکھیں یا فرقہ واریت،بھوک، استبداد، نفرت،عصبیت،جہالت،خونریزی،جنگ و جدل سے بوڑھا بنا دیں۔”
میں نے پوچھا: 2019کیا تم جوان اور پرکشش ہی رہو گے؟” وہ مسکرایا اور بولا:۔ ”اللہ تعالی نے انسان کو free will پر رکھا ہے۔میرا مستقبل وہ ہوگا جو سب دنیا کے انسان چاہیں گے۔” دونوں سال بانہوں میں بانہیں ڈال کر دھند میں گم ہوگئے۔میں نے دیکھا سورج ڈوب چکا تھا۔2018 کا آخری سورج۔

 525 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y6feq2vj
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *