بجلی سے پہلے روز گار دیں۔۔۔۔ محمد رضوان خان

Print Friendly, PDF & Email

تیرہویں صدی قبل مسیح کے گرم دن کاسورج غروب ہونے کے لئے جھک رہا تھا ۔مصر کا فرعون رعمیسس اپنے کپیٹل سٹی ممفس میں دریائے نیل کے کنارے اپنے دربار میں بیٹھا ہوا تھا کہ دربان نے اسے سیستانی سلطنت کے سفیر کی آمد کی اطلا ع دی ۔ سفیر نے سیستانیوں کے بادشاہ متی کا پیغام سنایا کہ جس میں اس نے حتیوں کے طوفان کو روکنے کے لئے فوجی امداد کی درخواست کی تھی ۔ فرعون رعمیسس نے اسے تسلی دی اور تین دن اپنے دارالخلافہ میں قیام اور آرام کا کہہ کر اپنا لشکر بھیجنے کاعندیہ دے کر محفل برخواست کردی ۔سیستان کے سفیر کو شاہی مہمان خانے میں ٹھہرایا گیا ۔سیستانی سفیر نے اپنے پروٹوکول پر مامور دربان سے ان اونچے اونچے مخروطی بڑے مناروں کے بارے میں پوچھا جو اس نے ان کی سرزمین میں داخل ہوتے ہونے کے بعد دیکھے تھے۔ اس نے ان کے بنانے کی وجہ اور افادیت دریافت کی ۔ اس پر مصری دربان مسکرایا اور سے بتایا کہ \”یہ اونچے اونچے مخروطی ٹیلے اہرام ہیں۔مصر کے اہرام دو وجوہات کی بنا پر تعمیر کئے جاتے ہیں۔ اول یہ کہ ان اہراموں کے اندر بادشاہوں کی لاشوں کو محفوظ کر کے رکھا جاتاہے نہ صرف بادشاہ بلکہ اس کے سارے خاندان کی لاشیں بھی اسی کے اندر محفوظ کرکے رکھی جاتی ہیں ۔لاشوں کے ساتھ بادشاہوں کے خزانے مال و دولت اور دوسرا قیمتی سامان بھی رکھا جاتاہے ۔اور ان اہراموں کو تعمیر کرنے کی دوسری وجہ دریائے نیل ہے\”۔سیستانی سفیر چونکا اور اہراموں اور نیل کا باہمی تعلق دریافت کیا تو اسے بتایا گیا کہ\” سرزمین مصر کے لئے دریائے نیل ایک قدرتی تحفہ ہے ۔یہ دریا جنوب میں یوگنڈا کی پہاڑیوں سے نکلتا ہے اور افریقہ کے صحرائے اعظم میں ایک لکیر کی مانند بہتا ہوا بحرروم میں جاگرتاہے۔ جب یہ دریاممفس کے پاس پہنچتا ہے تو اور کشادہ ہوجاتاہے ۔دریا کی کئی شاخیں بن جاتی ہیں۔ اگست کے مہینے میں جب وسطی افریقہ میں پہاڑوں پر بارش ہوتی ہے تو دریا آہستہ آہستہ چڑھنے لگتا ہے ۔اس سبب سے دریا اوپر آجاتاہے اور دو تین مہینوں کے بعد دریا اترتا ہے\” ۔یہاں تک بتانے کے بعد دربان نے ذرا توقف کیا اور پھر سے گفتگو کے سلسلہ کو جوڑتے ہوئے بتانے لگا کہ\” بھائی سن! دریا میں جب طغیانی آتی ہے تو پانی باہر میلوں تک پھیل جاتاہے۔ پانی کے اس ریلے اور پھیلاؤ کی وجہ سے کسان اور کاشتکار اپنی فصلیں کاشت نہیں کرپاتے اور انہیں یہ تین مہینے بالکل بیکار رہنا پڑتا ہے ۔چناچہ مصرکے حکمرانوں نے کسانوں کو مصروف رکھنے اور انہیں خوراک مہیا کرنے کیلئے ان تین مہینوں کے دوران اہراموں کی تعمیر کا حکم دے رکھاہے۔ ایسا کرنااس لئے بھی ضروری ہے کہ اگر تین ماہ کسان بیکار رہیں تو وہ بھوک اور قحط سے تنگ آکر ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت کا بازار گرم کر سکتے ہیں ۔ لوٹ مار شروع کر سکتے ہیں ۔ چناچہ ان اہراموں کی تعمیر سے کسانوں کو مصروفیت اور روزگار دونوں میسرآجاتے ہیں۔یہ کہنے کے بعد مصری دربارن نے اجازت چاہی اور کھانے کا انتظام کرنے کا کہہ کر رخصت ہوگیا ۔ سیستانی سفیر نے تین یوم قیام کیا اورپھر لشکرساتھ لے کرتاریخ کے اوراق میں گم ہوگیا۔ اس کا اور اس کے ساتھ بھیجے گئے لشکر کا حال تو مزید تاریخ کی کتابوں میں ملے گا اور ہمارا مقصد اس کے حال کو مزید دریافت کرنے کا ہے بھی نہیں۔ ہمارا مقصد فرعون کی اکڑ کو بھی ڈسکس کرنا نہیں ہمارامقصد تو اہراموں کی تعمیر اور کسانوں کی بے روزگاری کا فلسفہ ہے ۔ یہ فلسفہ ہے بھی درست اور آج بھی اتنا ہی ٹھیک ہے جتنا کہ اس وقت تھا۔
ہمارے ملک میں ذرا صورتحال ملاحظہ فرمائیں۔ پڑھے لکھے ایم اے، بی اے پاس نوجوان تو بے روزگار تھے ہی اور اپنی بے روزگاری کا سال ہا سال سے رونا روتے چلے آہی رہے تھے۔لیکن اب اس قطار میں ملک کی\” کریم \”بھی شامل ہوچکی ہے۔ اب اس قطار میں انجینئر اور ایم بی اے پاس نوجوان اور خواتین بھی شامل ہوچکے ہیں۔ ایک آدھ ایسا کیس ہوتا تو میں ضرور ہڈحرامی اور تساہل پسندی کو وجہ قرار دے کر درگزر کر دیتا ۔ قطار بہت لمبی ہے ایک ایم بی اے پاس نوجوان کی داستان تو میں پہلے اپنے ایک کالم میں لکھ چکا ہو ں جو تنگ آکر ڈرائیوری کرنے پر مجبور ہے۔اس کے علاوہ کئی انجینئر نوجوان روزگار کے چکر میں ذلیل وخوار ہونے کے بعد معمولی نوکریاں کررہے ہیں۔ وہ نوکریاں اس قدر معمولی ہیں کہ بتاتے ہوئے بھی ان کے ماتھے پر ذلت کے احساس سے پسینہ نمودار ہوجاتاہے ۔تعلیم اور تعلیمی اخراجات کس قدر زیادہ ہیں ہم سب جانتے ہیں۔ ماں باپ ان اخراجات کی تلوار کے زخم اس آس پر برداشت کرتے ہیں کہ چلو ایک نہ ایک دن بچہ پڑھ لکھ جائے گا اور نہ صرف اپنے بلکہ ہمارے بھی دکھ بھرے دن کاٹ دے گا ۔ سولہ سال دن رات کی محنت ،نمبروں کے انبار اور نوٹوں کے زیاں کے بعد اگر آپ کے بچے نے انجینئر بن کر کسی پرائیویٹ سکول یا اکیڈمی میں چند ہزار کی نوکری ہی کرنی ہے تو بتائیے کہ آپ کہاں اسٹینڈ کریں گے۔وہ نوجوان کب تک اپنے آپ کو سنبھال پائے گا۔ روزگار ہے نہیں بس سارا زور نت نئے اداروں کے افتتاح کرنے پر دیا جار ہا ہے آج فلاں انجینئرنگ کا لج کاافتتاح توکل فلاح منیجمنٹ انسٹیٹوٹ کا آغاز۔ ہم اور کچھ نہیں بھی کر سکتے تو کم ازکم ایک کا م تو کرسکتے ہیں کہ ہر تعلیمی ادارے میں آغاز ہی میں طلبہ کے ذہن سے اس خیال کو سوچنے کا عمل شروع کروادیں کہ تعلیم کا مطلب ہرگز روزگار کا حصول نہیں اسے بس علم سمجھ کر حاصل کرو خود کو اچھا شہری بنانے کے لئے اپنی ذات کو پہچاننے کے لئے ۔ماں باپ کے احساسات اور دکھوں کو چھوڑیں آپ اس نوجوان کے ٹوٹتے بکھرتے سپنوں کا ذرا خیال کریں کہ جو سولہ سال دن رات محنت کرتا رہا اس آس پر کہ بس ڈگری ختم ہوتے ہی وہ ایک \”توپ خان انجینئر \”کے طور پر کسی اچھے ادارے میں بھرتی ہوجائے گا۔ باپ کو سہارا دے گا بہنوں کی شادیاں کرے گا خود اپنی شادی کریگا۔ گاڑی لے گا گھر بنائے گا وہ گھر کہ جو اس کا باپ تمام عمر نہ بنا سکا۔ آپ سوچ نہیں سکتے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر منرل واٹر کی بوتل سے پانی پینے والے اس دکھ کا کبھی احساس نہیں کرسکتے جو اس نوجوان کو روزانہ تمام دن بیروزگاری کے طعنے سہنے کے بعد گھر والوں سے نظریں ملاتے وقت ہوتا ہے ۔ پچھلے دور حکومت میں روزگار تو تھا مگر میرٹ نہیں تھا۔ چلو وہ بھی قابل برداشت بات تھی کیونکہ جو جیالے سفارش کروا کر بھرتی ہوئے وہ بھی تو آخر بے روزگار پاکستانی شہری تھے۔چلو کسی نہ کسی کو تو روزگار ملا۔کسی نہ کسی کے گھر تو چولہا جلا۔اس سے پیچھے اگر جائیں تو مشرف صاحب کا دور روزگار کے معاملے میں آئیڈیل تھا۔ اگر مجھ پر مارشل لاء کے فروغ کا فتوی نہ لگے تو ہم سب کو اچھی طرح یاد ہے کہ اخبارات نوکری کے اشتہارات سے بھرے ہوتے تھے نوکری اور وہ بھی سرکاری ۔ صرف اشتہارات ہی نہیں چھپتے تھے میرٹ کا بھی کافی حد تک اطلاق تھا۔ اکثر انجینئرز کے پاس تو بیک وقت تین تین اپوائنٹمنٹ لیٹرز بھی میں نے دیکھے۔بیروزگار کو نہ تو ملک کے آئین سے کوئی غرض ہوتی ہے نہ جمہوریت کی پٹڑی سے اترجانے سے اسے نہ تو مینڈیٹ کے ہائی جیک ہوجانے کی کوئی پرواہ ہوتی ہے ۔ اسے توبس انتطار ہوتا ہے اپنے اور اپنے خاندان کے سپنوں کے پورا ہوجانے کا۔ رہا موجودہ دور تو سابقہ ادوار کی طرح اب بھی ڈاؤن سائزنگ اور پرائیوٹائزیشن کا بھوت حکومت کے سر پر سوار ہے نہ ہی روزگار ہے تو میرٹ کہاں کا ۔ ملک کی\” کریم \”سڑکوں پر رل رہی ہے اور ہم سڑکوں کا جال بچھانے میں مگن ہیں ۔جنگلہ بس سروس ہی کافی نہیں تھی کیا کہ اب میٹرو ٹرین کے منصوبے کی بازگشت سننے کو مل رہی ہے اور ان سب پروجیکٹس میں منشیوں اور سرکاری گرگوں کو ہی مزید کھابے لگانے کا موقعہ ملتا ہے ۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ ہر طرف بے سکونی اور بد امنی کا راج ہے ۔خالی دماغ ویسے بھی شیطان کی آماجگاہ ہوتاہے ۔ ایک خالی دماغ اوپر سے غصے اور نفر ت سے بھرا ہوا تیسرا راتوں رات امیر بننے کی خواہش ۔نتیجہ یہ ہے ہر کوئی اب اس ملک سے فرار کے چکر میں ہے جہاں نہ دن کو سکون ہو نہ رات کو کوئی محفوظ ہو تو بھلا وہاں کوئی کیونکر رہنا چاہے گا۔ہر گزرتے دن کے ساتھ آگ بڑھتی جارہی ہے ۔ تعلیم سے بے زاری بھی اپنے عروج پر ہے والدین یہ کہہ کر اپنے بچوں کو تعلیم سے اٹھا رہے ہیں کہ جب پڑھ لکھ کر بھی دکانوں پر کام ہی سیکھنا ہے تو پھر انتظار کیسا۔ شائد جو والدین ایسا کر رہے ہیں وہ ٹھیک ہی کر رہے ہیں ۔جمہوری دور میں کوئی تسلیم کرے نہ کرے بس چند لوگوں کی لاٹری نکل آتی ہے باقی عوام تو بیچارے ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈاؤن اینڈ کی طرف جارہے ہیں ۔مانا کہ آج کے دور میں ہم تمام لوگوں کو مخروطی اہرام بنانے پر نہیں لگا سکتے لیکن یہ تو مانیں کہ آج بھی ہمارے ہاں تقریبا ہرسال سیلابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور پانی اترنے میں بھی دو تین ماہ لگ جاتے ہیں ۔ کہاں تو ہم ان سیلابی دنوں میں بے روزگار کسانوں کو روزگار دینے کے لئے اسکیمیں بنا رہے ہوتے مگر کہاں یہ حال ہے کہ اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ ویلے جوتیاں چٹخارہے ہیں ۔اس وقت ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان ہے اور ہمارا یہ مسئلہ براہِ راست بیروزگاری سے جڑا ہوا ہے ۔بے روزگار نوجوان کریں بھی تو کیا کریں ۔ فارغ گھر میں بیٹھ کر ماں باپ کو جوان بیٹے کی بیروزگاری پر کڑھتے دیکھتے رہیں یا پھر معاشرے کے طعنے سنتے دن گزار دیں ۔ بہت سے نوجوان تنگ آکر جرائم کی وادی میں اتر چکے ہیں اور جو باقی بچے ہیں وہ بھی آخر تنگ آکر ایک نہ ایک دن کود جائیں گے ۔یہ سوچ کر کہ چلو چند دن تو مصروفیت ملے گی چند دن تو عزت ملے گی کہ بیٹا اب کچھ کماکر لاتا ہے ۔قصور ان کا بھی نہیں۔ ابراہم لنکن نے کیا خوب کہا تھا کہ\” کسی کی صورتحال پر تبصرہ کرکے اسے غلط قرار دینے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ ہوسکتا ہے آپ بھی ان حالات میں وہی کچھ کرنے کا سوچ رہے ہوتے \”۔ہوسکتا ہے کہ کوئی وزیر موصوف بڑھک مار دے کہ بیروزگار نوجوان ریڑھی لگا لیں یا صبح روٹی نہیں ملتی تو بریڈ لے لیا کریں۔اب تو ویسے بھی ایک نئی فرسٹریشن اچھے ویل سیٹلڈ لوگوں میں جنم لے رہی ہے کہ ہم پڑھ لکھ کر پھر سے ان پڑھ لوگوں کے غلام کیوں بنیں۔یہ سوچ خاص کر ٹاپ لیول کے سرکاری ملازمین میں جنم لے رہی ہے ۔سوال بہت ہیں مگر جواب صرف ایک ہے اور وہ ہے\” میرٹ\”۔ روزگار کی فراہمی ازبس ضروری ہے بھلے ہی اس کے لئے جو بھی حکم نامہ جاری کریں۔ پڑھا لکھا پنجاب تو بن گیا اب اگلا قدم بھی بڑھائیں۔ تمام اقدامات روک کر بے روزگاری کے مسئلے کو حل کریں ورنہ یہ مسئلہ جمہوریت ،معاشرہ اور امن سمیت ہر چیز کو چاٹ جائے گا۔

 1,358 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/zfrwls8
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *