ایک اور چراغ بجھ گیا

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: محمد عمیر فاروق 
26 نومبر بروز پیر کا سورج امت مسلمہ کے لیے ایک ’’غمناک خبر‘‘ لیے غروب ہورہا تھا،جس کو سن کر لاکھوں مسلمان بے چین اور مضطرب ہوگئے،جس سے کئی ذمہ دار علماء اور تبلیغی حلقے بے سایہ ہوگئے۔
جس شخص کے زندہ رہنے کیلئے ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کو چاہت تھی آج خالق لم یزل مقتدر حقیقی نے اس کی موت کو چاہ لیا 
جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے جو نہ چاہے وہ نہیں ہوتا،دعوت وعزیمت کا روشن وتابناک ستارہ جو نصف صدی تک عزیمت کی کھٹن راہوں پر مسکرا کر چلتا رہا جن کے حوصلے چٹانوں سے ٹکراتے تھے۔
’’وہی عظیم چراغ بجھ گیا ‘‘
دعوت وتبلیغ رائیونڈ مرکز کے امام و استادالحدیث ،امام العرب والعجم حضرت مولانا جمیل احمد ؒ اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔
چاروں طرف فضا میں اداسی بکھر گئی
وہ کیا گیا رونق شام وسحر گئی
موصوف 1982ء سے تاحال رائیونڈ تبلیغی مرکزکیساتھ منسلک تھے کچھ ہی دن قبل وفات پانے والے تبلیغی جماعت پاکستان کے امیرحضرت حاجی عبدالوہاب صاحب ؒ کے انتہائی قریبی اوربااعتمادساتھیوں میں سرفہرست تھے۔ اندرون وبیرون ممالک کے بہت سے تبلیغی دورے ان کی معیّت میں کیے،مرکزی شوری کے اہم رکن تھے۔
حاجی صاحب ؒ کی عدم موجودگی میں اکثروبیشترانہی کو امارت سونپی جاتی تھی جس کو وہ فکرمندی اورذمہ داری کے ساتھ نبھاتے۔
ساری زندگی خلق خداکواحکام خداوندی اوررسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت پرعمل کرنے کا درس دیتے رہے۔
یوں توآپ کی بطورعظیم داعی ومبلّغ تبلیغی جماعت ہونے کے بے شمارخدمات ہیں لیکن سب سے نمایاں اورقابل قدرکام قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کے سامنے عہدنبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہونے والی دعوت وتبلیغ کی محنت کے طریقہ کارکو پیش کرناتھا۔
آپ جلوہ نمائے خلق احمدتھے
خودبھی متبّع سنّت تھے اوردوسروں کوبھی اسکی تلقین فرماتے۔حضرت مولانا جمیل احمد صاحب ؒ جنوبی پنجاب کے علاقہ خانپورکے قریب واقع چک نمبر66موضع سہجہ میں 1946 ء کو پیداہوئے۔
خوش بختی وسعادت کے آثاربچپن ہی سے عیاں تھے اسی لئے ہوش سنبھالاتومسجدومدرسہ کے ساتھ تعلق استوارہوگیا۔کم عمری ہی میں حفظ قرآن کریم کی سعادت نصیب ہوئی۔
تکمیل حفظ القرآن کے بعدتبلیغی جماعت میں سہ روزہ لگایا دعوت وتبلیغ کی محنت سے اس حد تک متاثرہوئے کہ بہت جلدچارماہ کے لئے نکل گئے۔ اسی دوران درس نظامی کی تکمیل کا شوق پیداہوا۔واپسی پر خانپورہی میں واقع عظیم دینی درسگاہ جامعہ مخزن العلوم سے ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی۔
والدمحترم کاانتقال چونکہ حفظ ہی کے زمانہ میں ہوگیا تھا اوریتیمی کی حالت میں گھریلوذمہ داریوں کے ساتھ مزیدتعلیم حاصل کرناخاصہ مشکل ہوگیا تھالیکن جس مبارک راستہ کے لئے عظیم والدنے اپنے لخت جگرکووقف کیا تھا اس سے کسی صورت بھی پیٹھ نہیں پھیری بلکہ محنت وتندہی سے علوم دینیہ کی تحصیل کاسفرجاری وساری رکھا۔
کچھ عرصہ پاکستان کی قدیم ترین عظیم دینی درسگاہ جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں زیرتعلیم رہے۔تاہم جامعہ مخزن العلوم خانپورہی سے 1978ء میں سندفراغت حاصل کی۔آپ نے مولاناشفیق الرحمن درخواستی ؒ اورحافظ الحدیث والقرآن مولانامحمد عبداللہ درخواستی ؒ جیسے جبال العلم اساتذہ سے شرف تلمذطے کیا۔
تعلیم سے فراغت کے بعدخانپورتبلیغی مرکزسے منسلک ہوگئے اوردعوت وتبلیغ کی محنت کواپنی زندگی کانصب العین بناکرشب وروزاسی میں اپنے آپ کو مصروف رکھا۔
خانپورمرکزمیں کچھ عرصہ امامت کے فرائض بھی اداکرتے رہے۔اس کے بعدوقتافوقتارائیونڈمرکزکے اکابرین کے مشورہ سے وہاں وقت دیتے رہے اوراس کے بعد مستقل طورپررائیونڈمرکز مقیم ہوگئے۔
اسی دوران مدرسہ عربیہ رائیونڈمیں بطوراستاذالحدیث ایک عرصہ تک مؤطّاامام مالک ومؤطّاامام محمداوردیگرکتب پڑھاتے رہے۔اللہ تعالی نے آپ کو تبحّرعلمی اوررسوخ فی العلم عطاکیا تھا۔اسی لیے طلباء کرام اورعلماء ان کے بہت ہی عقیدت مندتھے۔
موصوف اسم بامسمّی تھے۔صورت وسیرت دونوں اعتبارسے جمیل تھے۔ آپ نے اپنے آپ کو رائیونڈمرکزکیلئے وقف کردیااورزندگی بھرمشورہ کے پابندرہے۔مولانااپنے عمدہ اخلاق اورظرافت طبع کی وجہ سے عام وخاص کے ہاں بلندمقام رکھتے تھے۔ 
مولاناجمیل احمدصاحب انتہائی حلیم وبردبارہنس مکھ شخصیت کے مالک تھے زندگی کااکثرحصہ رائیونڈمرکزمیں گذار ا۔ رائیونڈمرکزکی جامع مسجدمیں عرصہ درازتک امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے جہاں ہروقت کثیرتعدادمیں پاکستان اورپوری دنیاسے دعوت وتبلیغ کی محنت سیکھنے والے ہزاروں افراداوراس کے علاوہ سالانہ تبلیغی اجتماع کے دوران لاکھوں افرادکی امامت کرنے کا شرف بھی آپ کو حاصل تھا۔اس لحاظ سے آپ کو امام العرب والعجم کہنا بے جانہ ہوگا۔
امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس نے اس طرح سے امامت کی کہ اس کے مقتدی اس سے راضی رہے تواس کا ٹھکانہ جنت ہے۔ہزاروں لاکھوں لوگوں کی پانچ وقت امامت کی سعادت اللہ تعالیٰ نے بخشی۔دعوت وتبلیغ اوڑھنا بچھوناتھی۔
درویش وفرشتہ صفت انسان تھے۔داعی الی اللہ ہمہ تن خلق خداکو خداسے جوڑنے میں مصروف رہے۔ رائیونڈمرکزکی جان تھے ان کی خوش مزاجی کی وجہ سے سارامرکزمحظوظ ہوتا۔گھنٹوں بیان کرتے لیکن سامعین کو اپنی مسحورکن آوازاورجاذبانہ اندازتبلیغ کی وجہ سے لمحہ بھر کے لیے اکتاہٹ کا شکارنہ ہونے دیتے۔
بہت ہی پیارکرنے والے تھے جوبھی ایک دفعہ ان سے ملتا ان ہی کا ہوکررہ جاتا۔مولاناکی وفات سے پیداہونے والا خلاکبھی بھی کوئی بھی پورانہیں کرسکتا۔احباب دعوت وتبلیغ اورپوری امت کے لیے قیمتی اثاثہ تھے۔ مزاج میں سادگی وبے نیازی کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی۔عاجزی ومسکنت آپ کا شیواتھا۔زہدوتقوی آپ کا امتیازوشعارتھا۔اسلوب دعوت انتہائی حکیمانہ ومدبّرانہ تھا۔
ایک ایک بات سندودلیل کا درجہ رکھتی تھی۔اللہ تعالی کے راستہ میں جانے والی جماعتوں کوہدایات اورواپسی پرانکی کارگزاری سنتے۔مرکزکے اندراکثربیشتر عوام وخواص سے فکرانگیزگفتگوفرماتے۔مشکل سے مشکل بات کو انتہائی آسان الفاظ وتراکیب میں سامعین کے سامنے پیش کرتے۔جس سے سب کے لیے بات کو سمجھنا آسان ہوجاتا۔ ساری عمرپیارومحبت کا درس دیتے رہے۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا غم وفکرہمہ وقت ان پرسوارتھا جس کی وجہ سے اکثرفکرمنددکھائی دیتے۔آپ خواتین کے ساتھ ہونے والی معاشرتی زیادتیوں پراکثرگفتگوفرماتے اوران کے حقوق وفرائض کی ادائیگی کی اکثربیانات میں ترغیب دیتے۔اوران سے نرمی ومحبت سے پیش آنے کادرس دیتے۔آپ ایک محب وطن پاکستانی تھے ساری عمرپاکستان اوراہل پاکستان کی خیرخواہی میں صرف کی۔
امت مسلمہ کو فکرآخرت اوراللہ تعالی کے ہاں سرخروہونے کے لیے احکام خداوندی اورسنن نبویﷺکی پیروی کی ترغیب دیتے۔پاکستان اورباہرکی دنیا میں دعوت وتبلیغ کی محنت کی اشاعت میں آپ کا مرکزی کردارہے۔
اہل پاکستان کے لیے خصوصا اورعالم اسلام کے لیے عموما آپ کا سانحہ کسی بڑی مصیبت سے کم نہیں۔آپ جیسازہدوتقوی اورخلق خداسے محبت ناپید ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے اور ہم کو حقیقی معنوں میں ان کا جانشین بنا کر دین متین کی اس عالی سعی کیلئے قبول فرمائے۔
(آمین یارب العالمین)

Short URL: http://tinyurl.com/ybqm92f6
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *