اپریشن دتہ خیل

Print Friendly, PDF & Email

ماسٹر دولت شاہ جی ہاں ماسٹردولت شاہ کشروٹ گلگت کے رہنے والے۔کون تھے۔ میرا نہیں خیال کہ نئی نسل اس نام سے واقف ہو لیکن اتنا یقین ہے کہ ساٹھ ستر کی دہائی کے افراد بخوبی اس شخص کو جانتے ہونگے ۔اب یہ سوال بھی آپ کے ذہن میں گردش کر رہا ہوگا کہ بھائی یہ ماسٹر دولت شاہ کا قصہ کس لئے۔ کیا اس نے اپریشن دتہ خیل کا منصوبہ بنیا تھا۔ نہیں یارو ایسی بات نہیں میں تو یہ بتانے لگا ہوں کہ اپریشن دتہ خیل کیسے پایہ تکمیل کو پہنچا ۔ماسٹر دولت شاہ کا تذکرہ کئے بغیر میرے لئے شائد یہ ممکن نہ ہو کہ میں اس اپریشن دتہ خیل کو سمجھا سکوں۔ بات یہ ہے کہ یہ جو اکتوبر ہے نا بڑا ہی ظالم مہنہ ہے۔ ارے آپ نے سوال دھاک دیا ظالم کیسے؟ ۔اس مہنے میں تو شدت کی سردی نہیں ہوتی بس درختوں سے پتے گرنا شروع ہوتے ہیں جسے پت جھڑ کہا جاتا ہے ۔جی جی صحیح فرمایا سردی کی وجہ سے اسے ظالم نہیں کہہ رہا ظالم اس لئے کہ اس مہنے میں ہمارے پتے بھی اپنے ہاتھوں میں نہیں رہے اور گرنا شروع ہوئے تھے ۔اب یہ بھی پوچھو گے کہ کونسے پتے اور اگر ان پتوں کی کتھا لے کے بیٹھونگا تو اصل مدعا رہ جائیگا ۔ گرنے والے پتوں کا تذ کرہ پھر کبھی ابھی کے لئے ماسٹر دولت شاہ کا موضوع اس لئے ذہن میں آیا کہ ہمارے نئی نسل جو یہ کہتی پھرتی ہے کہ ہم نے اس خطے کو ڈنڈوں اور کہلاڑیوں سے خود ڈوگروں کو بھگا دیا تھا ان کو ماضی بعید کی نہیں ماضی قریب کی تاریخ کا ایک دریچہ کھول کر تھوڑی سی یاترا کرادیں تاکہ ان کو معلوم ہو کہ جھوٹ اور فسانے والی باتیں زیادہ دیر برقرار نہیں رہتی ہیں بات ہو رہی تھی ماسٹر دولت شاہ کی۔ وہ اپنے وقت کے ایک بہترین معلم بڑے ہی زیرک اور زبانی کام سے زیادہ عمل پر یقین رکھنے والے شخص تھے۔اس جملے کو لکھتے ہوئے مجھے ان کا ایک خاص واقعہ بھی یاد آیا اس کو لکھ ہی دیتا ہوں تاکہ قارئین کو اندازہ ہوجائے کہ وہ زبانی دعوئوں کو یکسر مسترد کر دیتے تھے۔ان کے متعلق ایک قصہ جو ہم نے سنا یا پڑھا وہ یہ کہ کہا یہ جاتا ہے کہ ایک دفعہ مسجد میں مولوی صاحب منبر پر دعا کرنے لگے کہ اسرائیل نے فلسطین کے مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے دعا کریں کہ خدا وہاں مسلمانوں کو اسرائیل پر فتح نصیب کرے۔اس پر ماسٹر دولت شاہ کھڑے ہوگئے اور مولوی صاحب سے یوں مخاطب ہوئے مولوی صاحب میں اپنی ٹوپی زمین پر رکھتا ہوں آپ دعا کریں کہ وہ ٹوپی خود بخود میرے سر پر آجائے۔ یہ کام صرف دعائوں سے نہیں ہوتا اس کے لئے عمل چاہئے۔۔اس واقعہ کا بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ دعا کی اہمیت نہیں ہے دعا کی اہمیت اپنی جگہ لیکن بتانا یہ مقصود ہے کہ کام جو بھی ہوگا عمل سے اور عمل کے ساتھ دعا بھی ۔عمل نہ ہو تو دعائیں کیسے کارگر ہو سکتی ہیں۔ قصہ سے قصے یاد اجاتے ہیں اور اس وقت بھی بہت سارے قصے میرے ذہن میں گردش کر رہے ہیں اگر ان سب کو لکھنے بیٹھ جائوں تو یہ کالم کالم نہیں داستان بن جائیگا اسلئے قصہ مختصر یہ کہ ماسٹر دولت شاہ کے آبا و اجداد داریل گیال کے رہنےوالے تھے ان کے والد داریل سے آکر گلگت میں آباد ہوئے تھے ۔یہی سے ماسٹر دولت شاہ نے مڈل کا امتحان پاس کیا اور 1935میں مزید تعلیم کے لئے سری نگر چلے گئے سری نگر میں چار سال گزارے اور پرتاپ کالج سے ایف اے پاس کیا۔اور واپس گلگت ائے اور یہاں کے واحد مڈل سکول میں بحثیت مدرس بھرتی ہوئے۔۔دل تو کرتا ہے کہ میں ماسٹر دولت شاہ کے بارے لکھتا جائوں اور وہ سارے قصے قرطاس پر بکھیر دوں جو انہوں نے میری مادری درسگاہ مڈل سکول گلگت میں اپنےشاگردوں کے اندر جذبہ قومیت بڑھانے کے لئے سر انجام دئے۔ لیکن جیسے میں نے اوپر زکر کیا ہے کہ شائد یہ حق ادا نہ ہوسکے۔قصہ مختصر کرتے ہوئے آزادی حاصل کرنے اور آزاد ہونے والوں کی خدمت میں اس قصے کو ضروری سمجھتا ہوں کی بیان کروں تاکہ اپنی مدد آپ آزادی حاصل کرنے والوں کی عقل سے پردے ہٹ جائیں اور وہ اپنی آزادی کی اصلیت سے واقف ہو جائیں۔اگر کسی کو کرنل شمبرگ کا نام یاد ہو تو جی وہی شمبرگ جن کا تعلق برٹش انٹلیجنس سے تھا جس کو ہندوستان کی شمالی سرحد جو برطانوی ہند افغانستان اس کے بعد روس اور چین سے ملتی تھی اس پر نگران مقرر کیا گیا تھا اسی سلسلے میں 1933 سے 1946 تک ان سرحدی علاقوں میں ان کا آنا جانا رہا اور کئی بار گلگت آئے اس انگریز کے ساتھ ماسٹر دولت شاہ کی بڑی دوستی تھی جب بھی یہ برطانوی آفیسر گلگت آتا ان کی ملاقات ماسٹر دولت شاہ سے ضرور ہوتی اور ان کا اکثروقت ان ہی کے ساتھ گزرتا۔ قارئین یہ نہ سمجھیں کہ یہ باتیں اپنی طرف سے گھڑ کے بتارہا ہوں یہ ساری باتیں تو کتابوں میں درج ہیں بات صرف سوچنے اور سمجھنے کی ہے۔ قصہ یوں ہوا کہ ایک دن شمبرگ اور ماسٹر دولت شاہ بیٹھے ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے بارے گپ شپ کر رہے تھے یہ وہ دن تھے جب انگریزوں نےہندوستان کو دو ازاد مملکتوں میں بٹوارہ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ ماسٹر دولت شاہ کاکہنا یہ ہے کہ باتوں باتوں میں جب کرنل شمبرگ سے اس نے یہ پوچھا کہ اگر دو ملک بن گئے تو گلگت بلتستان کہاں پہ ہوگا۔ تو شمبرگ کے الفاظ یہی ہوتے تھے گلگت بلتستان ہرصورت میں پاکستان میں جائے گا ہندوستان میں نہیں ۔بھائیو یہ باتیں اس وقت کی ہیں جب گھنسارا سنگھ کواقتدار حوالہ نہیں ہوا تھا یعنی 1946 میں اور ایک انگریزجاسوسی ادارے کا آفیسر جس کےپاس بڑا اہم عہدہ تھا اس کی زبان سے ادا ہوئے الفاظ ہیں ۔ پس اس سے یہ پتہ چلتا ہےکہ انگریزوں کا منصوبہ تھا کہ کہ برصغیرکی تقسیم کے بعد یہ خطہ(گلگت بلتستان) ہندوستان مین نہ چلا جائے۔۔اور یوں یہ منصوبہ میجر برون اور جیک میتھی سن  اس وقت کے اے پی اے چلاس کے ہاتھوں اپریشن داتا خیل کے نام سے پایہ تکمیل کو پہنچا

 1,041 total views,  6 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y9rv2gpd
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *