انصاف ڈھونڈھتے ہو ،راہزنوں کے دیس میں

Malik Muhammad Salman
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ملک محمد سلمان
حصول انصاف کیلئے عدلیہ میں عرضی پیش کرنے والوں کو کوئی شنوائی نہیں ملتی ،طویل انتظار کے بعد جب پیشی آتی ہے تب تک سائل دنیاوی منصفو کی نالائیکی اور نااہلی کی شکایات لیکر منصف اعلیٰ کے دربارمیں پیش ہوچکا ہوتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان جہاں کمزور کیلئے الگ قانون اور طاقتور کیلئے الگ قانون ہے۔زمین پر قبضہ کرنا ہے تو پٹواری خرید لو۔اگر فیصلہ اپنے حق میں لینا ہے تو مہنگا وکیل کرنے کی بجائے مہنگا جج کر لو۔ اگر کسی مخالف کو ڈرانا دھمکانا یا زبان بندی کروانی ہے تو پولیس کی خدمات حاصل کر لو۔
پبلک سروس کمیشن کے فارغ التحصیل افسران کو ان امتحانات میں کامیابی ایک علمی استعداد کا حامل شخص قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کا تفاخر اور وقار بھی بخشتی ہے کہ اسے آگے جا کر اپنی لیاقت، اہلیت اور انتظامی صلاحیتوں کو قوم و ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کرنا ہے۔
سپریم کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت 2013 سے 2016 کے دوران ہونے والے کمبائنڈ کمپیٹیٹو ایگزام کے امتحانات اور انٹرویوز کالعدم قرار دیکر حکومت سندھ کو حکم دیا ہے کہ2 ہفتے میں نئے چیئرمین اور4 ہفتے میں ارکان کی تقرریوں کے فوری بعد سابقہ امیدواروں سے دوبارہ امتحانات لیے جائیں تاہم ان سے زائد فیس نہ لی جائے اور زائد العمر ہونے کی صورت میں رعایت دی جائے۔
سپریم کورٹ کے جاری کیے گئے تفصیلی تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے تحت ہونے والے مقابلے کے امتحان شفاف نہیں تھے، نتائج کالعدم قراردیے جاتے ہیں نئے سرے سے لیے جانے والے امتحان میں وہی اٹھائیس سو تیرہ امیدوار شرکت کرنے کے اہل ہوں گے جنہوں نے 2013 میں اسکریننگ ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ واضح رہے کہ تحریری امتحان میں 644 امیدوار جبکہ انٹرویو میں 227امیدوار کامیاب قرار دیے گئے تھے جبکہ صوبے میں اس وقت 182اسامیاں مشتہر کی گئیں تھی جن کی تعداد کو بعدازاں سندھ حکومت نے بڑھا دیا تھا۔
کامیاب امیدواروں کو حکومت سندھ کی جانب سے آفر لیٹرز تک جاری کر دئے گئے تھے، طبی معائنے اور پولیس تصدیق کے مراحل سے گزر کر امیدوار ملازمت جوائن کرنے ہی والے تھے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے چئیرمین و ممبران سندھ پبلک سروس کمیشن کی نااہلی کے حوالے سے ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران کمیشن کی جانب سے کی گئی سفارشات پہ عمل درآمد سے حکومت سندھ کو روک دیا گیا۔
کیس کی سماعت کے دوران ہی کمیشن کے چئیر مین اور ممبران اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ،صرف دو ممبران سائینداد سولنگی اور غلام شبیر شیخ کو اپنے عہدوں پہ برقرار رکھا گیا۔
2 فروری کی آخری سماعت میں ججز نے خودریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا اعتراض صرف انٹرویوز والے مرحلے پرہے جو چئیرمین اور ممبران کی نااہلی کی وجہ سے متنازع بن چکا ہے ، تحریری امتحان چونکہ سیکرٹری اور کنٹرولر سندھ پبلک سروس کمیشن کے زیر نگرانی منعقد ہوئے اور امتحانی پرچے پروفیسرز نے بنائے اور چیک کئے اسی لئے ان کے نتائج قابل قبول ہیں۔اپنی ہی ججمنٹ کے برعکس جج صاحبان نے دوبارہ تحریری امتحان کا حکم صادر فرما کر انصاف کا’’ بول بالا‘‘ کردیا۔ 
فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور پنجاب سروس کمیشن میں تقریباً ہرسال مقابلے کا امتحان ہوتاہے اور قابل ترین افراد بیوروکریسی کا حصہ بن کر ملکی تعمیروترقی میں شریک ہوجاتے ہیں۔اس کے برعکس سندھ پبلک سروس کمیشن نے گزشتہ 28 برسوں میں صرف چھ بار صوبائی سطح پر مقابلے کے امتحانات منعقد کیے۔تین چانسز حاصل کرنا تو دورزیادتی کا یہ عالم ہے کہ چار سے پانچ سال کے وقفے سے جب دوبارہ امتحان ہوتا ہے تو تب تک امیدوار زائد العمر ہوچکے ہوتے ہیں۔
معزز عدلیہ کے فیصلے کے مطابق اگر امتحان دوبارہ لیا جاتا ہے تو فائنل رزلٹ اور آفر لیٹر آنے میں کم از کم دو سال کاعرصہ چاہئے۔ان دو سالوں میں جن آسامیوں پر ان آفیسرز کی تقرری ہونا تھی وہ سیٹیں خالی رہیں گی اور محکمانہ کام سست روی کا شکار ہوں گے۔نئے امیدوار جو آئندہ مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کرہے تھے ، وہ عدالتی فیصلے کی رو سے اس امتحان کا حصہ نہیں بن سکتے ۔ ایسے میں انکو غیر معینہ مدت تک انتظار کی سولی پر لٹکا دیا گیا ہے جانے کب دوبارہ مقابلہ جاتی امتحان ہواور ان کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق باعزت نوکری ملے ۔
کیاعدالتی فیصلے کے بعد شدید صدمے کی حالت میں آنے والے 227امیدواران دوبارہ پہلی جتنی تیاری کر سکیں گے؟۔ ہرگز ممکن نہیں کہ اتنے کم وقت میں اتنے بڑے امتحان کی تیاری ہوسکے۔جناب والا اعلیٰ تعلیم یافتہ سیکرٹری تعلیم ہی سے دوبارہ امتحان دلوا لیں آپ کو باخوبی اندازا ہو جائے گا دوسال پہلے پاس کیے ہوئے امتحان کو دوبارہ بھرپور تیاری کے بغیر پاس کرنا ممکن نہیں۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور ارکان اپنے عہدوں سے مستعفی ہوکر’’کلین چٹ‘‘لے کے ناہلی سے بچ گئے۔’’کرے کوئی اور بھرے کوئی اور‘‘ کے مصداق اہلیت کے معیار پر پورا نہ اترنے کے باوجود چئیرمین و دیگر اراکین کی تقرری کے سفارش کرنے والے اور منظوری دینے والوں کوبھی ’’بے گناہی‘‘ کا این او سی دے دیا گیا۔ 
کمبائینڈ کمپیٹیٹو ایگزام میں کامیابی کے بعد کتنے ہی امیدواروں نے ملازمتیں چھوڑ دیں کیونکہ انہوں نے یہاں جوائن کرنا تھا ،جن دنوں سی ایس ایس کے ذریعے سیکشن آفیسر ایلوکیٹ ہورہے تھے تو انہیں دنوں کمبائینڈ کمپیٹیٹو ایگزام میں اسسٹنٹ کمشنر کے آفر لیٹر ملنے پرامیدواروں نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تحت سیکشن آفیسرپر صوبائی امتحان کے ذریعے اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے کو ترجیح دی، وہ آپ کے فیصلے کے بعد نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے۔
جن بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کو اس فیصلے کی بنیاد بنایا گیا ، سب جانتے ہیں کہ یہ تمام انتظامی بے قاعدگیاں ہیں جن سے امیدواروں کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ تمام بے ضابطگیاں CSS کے امتحانات میں بھی نوٹس کی جا سکتی ہیں۔اس کے نتائج کے اعلان میں بھی 8۔10 ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔CSS میں بھی شہری سندھ کی سیٹیں خالی رہ جاتی ہیں تو وہاں کتنے امتحان کالعدم قرار دیے گئے؟۔کیا شہری سیٹوں پراپوائنٹمنٹ کرنا امیدواروں کے اختیار میں تھا جو انکی غلطی ہے؟۔
الزام ہے کہ انتہائی بااثر افراد کے بچوں کوالیفائی کیا گیا ہے۔حضور اگر یہ غریب اتنے ہی اثرورسوخ والے ہوتے تو آج نہ کردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہوتے ؟۔عدالت کو پختہ یقین ہے کہ نتائج میں ردوبدل کیا گیا ،تقرریوں میں کرپشن کا ثبوت ملا تو کرپشن کرنے والوں کو کیا سزا دی گئی ؟ اگر کرپشن اور بے قاعدگی ثابت نہیں ہوئی تو سب کو سزا کیوں ملی؟چیئرمین اور کمیشن کے ممبران کی نااہلی کاامیدواروں کی اہلیت سے کیا تعلق؟ امیدوار کی کیا اوقات کہ وہ کمیشن کی اہلیت پر سوال اٹھائے؟ امیدواروں کے سامنے کسی بھی شخص کو چیئرمین بناکے بٹھایا جاتا تو بھی وہ اس کو انٹرویو دیتے۔
سوموٹو تو چیئرمین اور ممبران کی اہلیت کے خلاف داخل کیا گیا تھا۔ مگر اس کا فیصلہ 227منتخب امیدواروں کے خلاف دیا گیا۔ یہ تو وہی بات ہوئی ’’کرے کوئی اور بھرے کوئی اور‘‘ ۔
امیدواروں نے زندگی کے 3 سال سے زائد ان امتحانوں کو دئیے ہیں۔ اور آج دوبارہوہیں آن کھڑے ہوئے ہیں جہاں سے چلے تھے۔ 
یہ کیس سندھ پبلک سروس کمیشن کے ممبران کی اہلیت سے متعلق تھا۔ٹیکنیکلی کمیشن کے ممبران نے استعفی دیا وہ نا اہل نہیں ہوئے۔چئرمین اور ممبران کو باضابطہ طور پر نااہل قرار دے کر انہیں دی گئی تنخواہیں اور مراعات واپس کیوں نہیں لی گئیں؟
انصاف تو یہ ہوتا کہ چاہے پورے امتحان میں ایک شخص بھی ایمانداری سے آیا ہو اسکو جاب ملتی باقی کو نشان عبرت بنا دیا جاتا۔
فروری2015سے اکتوبر 2016تک گریڈ9کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر سے لیکرلیکچرار،میڈیکل آفیسر ،ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر اور گریڈ20کے ڈائریکٹر جنرل تک تقریباً 62سے زائد امتحانات میں کمیشن نے ایک لاکھ سے زائد امیدواروں کے ٹیسٹ وانٹرویو لیے اور لگ بھگ3000 لوگوں کا تقرر کیا ۔اسی دوران اگست 2015میں ڈاکٹرسلمان کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اٹھارٹی میں گریڈ 20میں ڈائریکٹر جنرل سلیکشن کی گئی۔ ان تمام منتخب آفیسر زکی تقرریوں کو کیوں کالعدم نہیں کیا گیا،صرف مقابلے کا امتحان ( کمبائیند کمپیٹیٹو ایگزام) کے 227 لوگوں کے بارے میں فیصلہ آنا بہت سارے سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اس امتحان میں قائم علی شاہ کے پوتے امید علی شاہ ،سنئیر بیوروکریٹس اور اہم سیاستدانوں کے قریبی عزیز و اقارب سمیت وڈی عدالت کے وڈے سارے جج کی بھانجے اوربھتیجی کو اس امتحان میں سیٹ نہ مل سکی ۔سندھ کی سیاسی اور انتظامی تقدیر کے ناخداؤں کیلئے یہ یقیناناقابل قبول رویہ ہے کہ وڈے سائیں ،قاضی اور افسر شاہی کی پرچی نہیں چل سکی۔چونکہ بڑے بڑے وڈیروں ، جاگیرداروں ، MNAs، MPSs، بیوروکریٹس کے بچے پاس نہیں ہوئے تھے اس لیے اس امتحان کو جان بوجھ کر متنازع بنایا گیا۔ایسے میں سرکاری وکیل اور سندھ گورنمنٹ کی طرف سے مقدمے کی پیروی میں عدم دلچسپی اورعدالتی فیصلے پرحیرانگی کی ضرورت نہیں۔
اپنی سالوں کی انتھک محنت اور قابلیت سے سلیکٹ ہونے والے امیدوارانصاف کی تلاش میں دربدر ہیں ،انہیں شایدخبر نہیں کہ یہ راہزنوں کے دیس میں انصاف کے متلاشی ہیں۔
جناب چیف جسٹس براہ کرم اس کیس کا ریویو لیں اور ان 227 بچوں کو انصاف دیں اور اصلی گناہ گاروں کوقرارواقعی سزا دی جائے۔مستحق اور بے گناہ امیدواروں کی صدا اگر آپ تک پہنچ رہی ہے توضمیر کی آوازپر لبیک کہیے گا ورنہ آپ سے بھی اوپر ایک اور جج بیٹھا ہے جو کسی وکیل ، کسی گواہ یا کسی شاہد کا محتاج نہیں، اس کی لاٹھی بے آواز ہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/yavn4ql8
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *