انسان بن جانور۔ایک جھوٹا نظریہ!۔۔۔۔ تحریر: محمد یاسین صدیق

Print Friendly, PDF & Email

سائنس دان چالیس سال تک اس جعل سازی کو نہ پکڑ سکے جو نظریہ ڈارون کے حامی ایک سائنس دان نے پیلٹ ڈاون نامی بندر سے انسان بننے کی درمیانی کڑی کے طور پر ایک کھوپڑی بنائی تھی۔اس جعلی سائنس دان نے دنیا کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ اس نے ایک ایسی کھوپڑی دریافت کی ہے جس میں انسان اور بندر دونوں کے اوصاف پائے جاتے ہیں اور اس نے اس کھوپڑی کو بندر سے انسان کی طرف منتقلی کی دلیل کے طور پر پیش کیا،اس کھوپڑی نے سائنس دانوں کو تقریبا چالیس سال تک دھوکے میں رکھا ۔اور سائنس دانوں نے اس پر تقریبا پچاس لاکھ مضامین لکھے ۔نظریہ ڈارون کو سچ سمجھا جانے لگاتھا کہ کچھ سائنس دانوں پرحقیقت کھل گئی۔یہ ثابت ہو گیا کہ اس کھوپڑی کا نیچے والا جبڑا درحقیقت کسی بندر کی کھوپڑی کا حصہ ہے ،جسے کسی حقیقی انسان کی کھوپڑی کے ساتھ جوڑا گیا ہے ،گویا دو کھوپڑیوں کو ملا کر ایک کھوپڑی تیار کی گئی تھی۔اس کھوپڑی کو قدیم ظاہر کرنے کے لیے مخصوص مدت تک تیزاب میں رکھا گیا،اس کے دانتوں اور مسوڑھوں کو رگڑا گیا اور پھر اسے بندر اور انسان کی درمیانی کڑی کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا۔ جب سائنس دانوں کو اس جعل سازی کا علم ہو اتو انہوں نے اخبارات اور رسائل میں اس کی جعل سازی کی تشہیر کر دی گئی ۔
چارلس ڈارون نے اپنا نظریہ ارتقاء تقریبا یکم جولائی 1858 کو لندن میں ایک کانفرنس میں پیش کیا تھا جس کے مطابق زندگی اربوں سال پہلے ساحل سمندر سے یک خلوی جاندار سے نمودار ہوئی. پھر اس کے ارتقاء سے نباتات اور اس کی مختلف انواع وجود میں آئیں پھر نباتات ہی سے ترقی کرتے کرتے حیوانات پیدا ہوئے . انہی حیوانات سے انسان غیر انسانی اور نیم انسانی حالت کے مختلف مدارج سے ترقی کرتا ہوا موجودہ انسان تک پہنچا ہے ۔لیکن اس نظریہ کا بانی اور اس کے پیروکار کوئی بھی ٹھوس ثبوت اس نظریہ کی سچائی کے لیے پیش نہ کر سکے بلکہ اپنے نظریہ کو سچا ثابت کرنے کے لیے جعل سازی پر اتر آئے۔جیسا کہ ایک واقع اوپر لکھا جا چکا ہے ۔اسی طرح سائنس دانوں کو جزیرہ مڈغاسکر کے قریب ایک مچھلی کا ڈھانچہ ملا۔تحقیقات کے بعد ثابت ہوا کہ یہ ڈھانچہ چھ کروڑسال پرانا ہے۔ ۔اب ارتقائی سائنس دانوں نے اسے ناپید قرار دیا ۔اور کہا کہ اس مچھلی کا اب وجود نہیں ہے اور یہ اب ارتقا کر کے کچھ اور بن چکی ہو گئی وغیرہ لیکن پھر ایک مچھیرے نے اسی نسل کی مچھلی پکڑ لی جس پر سائنس دانوں نے تحقیق کی اور کہا کہ یہ مچھلی چھ کروڑ سال پہلے پائی جانے والی مچھلی سے سو فیصد مشابہت رکھتی ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی،اس تحقیق نے بھی نظریہ ارتقا کو جھوٹا ثابت کر دیا ۔سائنس کے مطابق دس کروڑسال سے شہد کی مکھی ایسے ہی شہد بنا رہی ہے ۔کوئی ارتقاء نہیں ہوا اسی طرح چیونٹی ہے وہ بھی صدیوں سے ایسے ہی ہے ۔پھر بندر بھی بندرہی ہیں کوئی بندر معلوم تاریخ میں انسان نہیں بنا ۔نہ گدھا ہاتھی بنا کوئی اب تک نہ ہی بکری بھینس ہوئی ۔مچھر نمرود کے زمانے سے مچھر ہی ہے ۔اسی طرح کروڑوں سال پرانے ملنے والے انسانی ڈانچے بھی انسان کے ہی ہیں کوئی درمیانی کڑی نہیں ملی ان کی وغیرہ وغیرہ۔
زندگی کی ابتدا کیاہے؟یہ کائنات کیسے وجود میں آئی ؟انسان کہاں سے آیا ؟انسان اور دیگر انواع ،کائنات کا خالق کون ہے ؟یہ ایسے سوال تھے جن کا جواب تمام الہامی مذاہب کے پاس تھا لیکن ملحد ین کے پاس نہ تھا ۔پھر جب نظریہ ڈارون پیش کیا گیا تو ان کی عید ہو گئی ۔
ہارون یحی ترکی کے معروف قلم کار ہیں جو فری میسنری یہودی تحریک اور مادہ پرستی کی عالمی الحادی تحریک کے بہت بڑے ناقد ہیں۔ ہارون یحی نے اپنی کتاب میں ان تمام سائنسی حقائق اورمعروف سائنسدانوں کے اقوال کو جمع کیا ہے جو ڈارون کے نظریہ ارتقا کی سائنسی موت ثابت ہوئے ہیں۔سوال یہ کہ جب یہ نظریہ جھوٹ پر مبنی ہے تو اتنا مقبول کیوں ہے ۔جواب یہ ہے کہ نظریہ کو دہریت ،مادہ پرست(جن کے پاس مادی وسائل بھی ہیں)زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔یہ نظریہ چونکہ الحاد اور اللہ کی ہستی سے انکار کی طرف لے جاتا ہے لہذاان سب کو ایک دلیل کاکام دیتا ہے ۔اس لیے ملحد جن کی تعداد دنیا میں اس وقت تیسرے نمبر پر ہے۔اس نظریہ کے حامی ہیں ۔وہ اپنی صلاحتیں ،مادی وسائل اس کو سچا ثابت کرنے پر خرچ کرتے رہتے ہیں ۔
دکھ کی بات یہ ہے بہت سے مسلمان مفکرین بھی اس نظریئے کے کسی حد تک حامی ہیں ،وہ کسی جز کو درست اور اس نظریہ کے کسی جز کو غلط کہتے ہیں ۔شائد اصل میں ایسا ہی ہو کہ یہ نظریہ سچ و جھوٹ کا آمیزہ ہو ۔مسلمان مفکرین میں ابن خلدون ،سرسید احمد خان ،اور مولانا پرویز صاحب کے علاوہ اور بہت سے شامل ہیں ۔(اس کے علاوہ ہماری نئی نسل اس سے متاثر ہے جوکہ جدید تعلیم حاصل کر رہی ہے )بہت سے مسلمان مفکرین نے قرآنی آیات کی تفسیر سے نظریہ ارتقا کو ثابت کرنی کی کوشش کی ہے مثلا ’’اے لوگو!اپنے اس پروردگار سے ڈرجاو جس نے تمہیں نفس واحدہ سے پیداکیا ۔پھر اس سے اس کا زوج بنایا پھران دونوں سے کثیر مرد اور عورتیں روئے زمین پر پھیلا دیئے ’’۔(1:4)اس آیت کا سیدھا سا مطلب ہے کہ اللہ نے آدم علیہ السلام بنائے (نفس واحد)پھر زوج(حضرت حوا علیہ السلام)پھر ان کی اولاد لیکن بعض علماء نے(جو اس نظریہ سے متاثر ہیں) اس کی تشریح کی کہ اللہ نے جرثومہ حیات بنایا اس جرثومہ کے متعلق نظریہ یہ ہے کہ وہ کٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا ۔پھر ان میں سے ہر ایک ٹکڑا کٹ کر دو دو ٹکڑے ہوتا گیا ۔اس طرح زندگی میں وسعت پیدا ہوتی گئی جو بالآخر جمادات سے نباتات،نباتات سے حیوانات اور حیوانات سے انسان تک نسل پھیل گئی ۔ہم یہاں قرآن کی چند آیات کے تراجم پیش کر رہے ہیں جس سے نظریہ ارتقا ء جھوٹ کا پلیندہ ثابت ہوتا ہے ۔۔اللہ نے انسان کو تراب یعنی خشک مٹی سے پیداکیا ۔(67:40)
’’ اے ابلیس! جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ،اسے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا ؟’’۔(75:38)
’’ اللہ کے ہاں عیسی علیہ السلام کی مثال آدم کی سی ہے جسے اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر کہا انسان بن جا تو وہ انسان بن گئے ’’۔(59:3)ان آیات سے اور اوپر درج دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان بن جانورکا نظریہ جھوٹاہے ۔انسان اللہ کی تخلیق ہے ۔یہ کائنات خودبخودنہیں بن گئی ۔ اس کو بنانے والا رب العالمین ہے ۔

1,030 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/zku4nvn
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *