امیر شہر۔۔۔۔ تحریر: صباحت رفیق ، گوجرانوالہ

Print Friendly, PDF & Email

کچھ دن پہلے میری ایک عورت سے ملاقات ہوئی جس نے اپنے بچے کو اٹھایا ہوا تھا ، بچہ کیا تھا ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ جو غربت کی ایک مکمل داستان بیان کر رہا تھاپھر بھی میں نے پوچھا باجی اسے کیا ہوا ہے؟ اس کے اندر خون جم گیا ہے ایکسرہ کروایا تھا اس نے ایکسرے کے پندرہ روپے لے لیے تھے اس عورت کے لہجے میں پندرہ روپے خرچ ہونے کا بہت دکھ تھا یہ پندرہ روپے اس عورت کے لیے پندرہ ہزار کی حیثیت رکھتے تھے ۔ تب میرے ذہن میں کچھ دن پہلے بازار میں سنی جانے والی امیر شہر کے بچے کے الفاظ تازہ ہوئے جو اپنے باپ سے کہہ رہا تھا کہ اس کے دوست کو اس کے بابا نے پانچ ہزار کے کھلونے لے کے دئیے ہیں اس کے اور اس کے ٹمی کے لیے ،آپ مجھے اس سے زیادہ کے خرید کے دیں اور میرے ٹمی کے لیے ایک اچھا سا بال بھی ۔ وہ کتے کے لیے بھی کھلونے خرید رہے تھے اور ادھر بھوک کی وجہ سے بچہ مرنے کے قریب تھا۔ اور پھر ایک اور منظر میرے ذہن میں تازہ ہوا جس میں معصوم بچہ اپنے نازک کندھوں پہ بوج لادے دھو رہا تھا تو ادھر امیر شہر کا کتا ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا ۔

عجیب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں
لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
غریب شہر ترستا ہے اک نوالے کو او ر
امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں

امیر شہر کے لوگو خدا کے لیے اپنی انسانیت کو جگاؤ اپنے ضمیر کو یوں مردہ مت بناؤ ۔ اپنے اردگرد دیکھو تو بہت سے معصوم بچے بھوک سے بلکتے نظر آئیں گے جن کے منہ میں روٹی کا نوالہ جانا ذیادہ ضروری ہے کتے کو ہوٹلوں میں اعلیٰ کھانا کھلانے، اور اس کے کھیلنے کے لیے بال خریدنے سے۔اور اس سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا ۔لینا ہے تو کسی غریب کو دے کے اس کی دعائیں لو، اس سے اللہ تمہارے رزق میں اور اضافہ کرے گا ، اور آخرت میں تمہیں اچھا صلہ دے گا ۔۔۔۔

Short URL: http://tinyurl.com/jjkxl7v
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *