اسلام میں میراث کی اہمیت

Sadia Huma Sheikh
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: سعدیہ ہما شیخ، سرگودھا
اسلام میں میراث کی اتنی اہمیت ہے کہ اسے نصف علم کہا گیا ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم علم میراث سیکھو اور لوگوں کو بھی سکھاؤ کیونکہ میں وفات پانے والا ہوں اور عنقریب علم اٹھایا جائے گا اور بہت سے فتنے ظاہر ہوں گئے یہاں تک کہ دو آدمی حصہ میراث کے بارے میں جھگڑا کریں گئے اور انہیں ایسا کوئی شخص نہ ملے گا جو انکے درمیان اسکا فیصلہ کرے۔ میراث کی اہمیت کا اندازہ یہاں سے لگائیں کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں میراث کی تفصیلات کو کئی آیات میں بیان کیا ہے حتی کہ ورثاء کے حصص کو بھی بیان فرمایا اور ہمارے معاشرے میں یہ وہ فریضہ ہے جس میں کوتاہی عام ہے اس کے تارک عام ہمارے اردگرد پائے جاتے ہیں اور بڑے دھڑلے سے بیٹی اور بہن کا حق کھا جاتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ حرام کھانے پر جہاں آخرت میں عذاب ہو گا وہیں دنیا میں بھی اسکے بڑے نقصانات ہیں ۔وراثت کیا ہے۔؟ وراثت ایک غیر اختیاری انتقال ملکیت ہے جس کے ذریعے مرنے والے کا ترکہ اسکے ورثاء کو منتقل ہو جاتا ہے جو جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ میت کی ملکیت ہو وہ ترکہ ہے مگر جس پہ میت کا قبضہ ہو یعنی کسی نے میت کے پاس امانت رکھی ہو تو وہ ترکہ میں شامل نہ ہو گی بلکہ جس نے رکھوایا اسے واپس کی جائے گی ۔وارث کون؟ ہر خونی رشتہ دار اور میاں بیوی جو وقت وفات زندہ ہو نیز حمل کا بچہ سب وارث کہلاتے ہیں۔ قابل تقسیم ترکہ سب سے پہلے میت کے دفن ہونے والے ضروری اخراجات اس کے ترکہ سے نکالے جاتے ہیں جیسے قبر کی کھدائی کفن قبر کے لئے جگہ یہ سب امور تجہیز میں داخل ہیں یہ ترکہ سے نکالے جا سکتے ہیں اس کے بعد باقی مال سے میت کا قرضہ اگر ہو تو ادا کیا جائے گا بیوی کا مہر خاوند کے ذمہ قرض ہے اگر وہ نہیں دیا گیا تھا تو ترکہ سے پہلے اسے ادا کیا جائے گا ۔ اس کے بعد اگر میت نے کوئی وصیت کی ہے تو ایک تہائی تک ادا کی جائے گی پھر جو بچ جائے وہ قابل تقسیم ترکہ ہے ۔ ورثاء میں بیٹا بیٹی اور بیوہ شامل ہیں جائداد میں سے دوحصے بیٹے کو اور ایک حصہ بیٹی کو ملے گا اور 8/1 بیوہ کو ملے گا یہ حصے قرآن کے مطابق ہیں۔ عاق کرنا۔اگر کسی نے بوجہ ناراضگی اپنی بیٹی یا بیٹے کو عاق کر دیا ہو تو اسکی شرع میں کوئی حیثیت نہیں وہ محروم نہیں ہو گا۔اسی طرح منہ بولا بیٹا اور بیٹی حقداروں میں شامل نہیں۔ناجائز اولاد بھی وراثت میں حقدار نہیں بن سکتی۔پوتا پوتی نواسہ نواسی دادا اور نانا کی جائداد میں حقدار ہیں۔آج ہماری یہ حالت ہو گئی ہے کہ ہم ہندوانہ رسم و رواج پہ چل رہے ہیں مگر قرآن پر عمل نہیں کر رہے۔ رواج یہ ہے کہ بیٹیوں کو جہیز میں سامان دے دیتے ہیں اور میراث میں ان کا حصہ کھا جاتے ہیں اگر کوئی شخص اپنی بیٹی کو جہیز میں دنیا بھر کی اشیاء دے ڈالے پھر بھی وہ میراث میں حقدار ہے یہ دینا پڑے گا اگر دنیا میں نہ دیا تو آخرت میں نیکیوں کی صورت میں دینا ہو گا۔ کچھ لوگ بہنوں بیٹیوں سے اپنا حق معاف کروا لیتے ہیں ان سے لکھوا لیتے ہیں جو کہ شرع کے خلاف ہیں ہاں اگر میراث کی تقسیم ہو جائے اور پھر کوئی اپنی رضا سے اپنا حصہ ہبہ کر دے تو یہ جائز ہے۔ بہنوں کو محروم کر کے للہ کے مجرم نہ بنیں اور انہیں ان کے جائز حق سے جو اللہ اور اسکے رسول نے دیا ہے محروم نہ کریں یہ ظلم دنیا اور آخرت میں پکڑ کا باعث بنے گا۔

Short URL: http://tinyurl.com/y2ja2nqf
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *