اتوار بازار مہنگائی کا سونامی بن گیا، غریب دن دیہاڑے لٹنے لگے، نرخوں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں

Print Friendly, PDF & Email

داؤدخیل(نامہ نگار)اتوار بازار مہنگائی کا سونامی بن گیا۔ غریب دن دیہاڑے لٹنے لگے۔ نرخوں پر کوئی چیک نہیں۔ پکی چوک گلن خیل کے قریب لگنے والے اتوار بازار کے متعلق صارفین پھٹ پڑے۔ محمد رمضان، غلام جعفر رضا اور تجمل حسین جعفری نے کہاکہ ہم غریب لوگ ہیں ، پورا ہفتہ اتوار کا انتظار کرتے ہیں کہ کچھ سستا سامان لے جائیں گے مگر یہاں تو لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ان نرخوں پر بھی عام بازار سے بھی سبزی ، آلو اور پیاز مل جاتے ہیں۔ محمد شفا، صفی اللہ، عزیزاللہ خان اور فاروق حسن نے کہاکہ غریب کا کہیں کوئی پرسان حال نہیں۔ اتوار بازار پر ہم شام تک اشیاء کے سستا ہونے کا انتظار کرتے ہیں مگر یہ دکاندار شام تک عام آدمی کو مہنگائی کے عذاب میں مبتلا رکھتے ہیں۔ ان کے پاس ریٹ لسٹ ہوتی ہے نہ کوئی ان پر تحصیل و ضلعی انتظامیہ کی طرف سے چیک اینڈ بیلنس رکھنے اور نرخوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے سرکاری اہلکار ہوتے ہیں۔ محکمہ ماحولیات اور ہیلتھ کی طرف سے بھی کسی قسم کی نگرانی نہیں کی جاتی۔ محمد علی، عثمان خان اور مجید اللہ خان نے کہاکہ اتنے بڑے بازار پر کم ازکم ایک دو پولیس اہلکار بھی تعینات ہونے چاہیں تاکہ کسی بھی جھگڑے وغیرہ کی صورت میں یا جرائم پیشہ افراد کو بروقت قابو پایاجاسکے۔ دکاندار تعزاللہ خان نے کہاکہ ہمیں منڈی سے چیزیں مہنگی ملتی ہیں اس لیے مہنگی دیتے ہیں۔ ریٹ لسٹ بارے کہاکہ کسی بھی بازار میں ریٹ لسٹ نہیں ہوتی ۔ سمیع اللہ اور ہدایت اللہ خان نے کہاکہ ہم تو اُجرت پر بڑے آرھتیوں کا مال فروخت کرتے ہیں۔ ہمیں وہ جو نرخ مقرر کردیتے ہیں اُسی پر فروخت کرنے کے پابند ہیں۔ ہم اُن کے حکم کے بغیر نرخ کم نہیں کرسکتے ہیں۔ ہم تو پانچ سو روپے دیہاڑی کے مزدور ہیں۔ بڑے آڑھتی ظفر ، احمد خان چاچو، شفیع اللہ وغیر ہ تو کمر مشانی سے ہمیں مال دے کر بھیج دیتے ہیں۔ ہم اُن کا مال فروخت کرتے ہیں۔

Short URL: http://tinyurl.com/jtje6ty
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *