اتالیق بنے دربان ۔۔۔۔ تحریر: سید صادق حسین شاہ

Syed Sadiq Hussain Shah
Print Friendly, PDF & Email

سانحہ پشاور کے بعد ملک بھر کے تعلیمی اداروں کی سیکورٹی بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سی سی ٹی وی کیمروں اور خار دار تاروں کی تنصیب شروع کی گئی، تاہم مسلح گارڈز کی تعیناتی تا حال ممکن نہیں ہوسکی ہے۔
بعض تعلیمی اداروں کے سربراہوں نے اپنے طور پر اساتذہ کو یہ ذمہ داری سونپ رکھی ہے کہ وہ سکول کے مرکزی گیٹ پر کھڑے ہو کر علی الصبح اور چھُٹی کے وقت پہ ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔ ان نہتے محافظوں میں ایسے اساتذہ بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی مسجد میں امامت کے فرائض بھی سر انجام دے رہے ہیں۔
سکول آنے والے طلباء اپنے اساتذہ کو نئے روپ میں دیکھ کر حیران و پریشان نظر آتے ہیں۔ شرم کی وجہ سے اساتذہ سے تو نہیں پوچھ پاتے البتہ اپنے والدین سے یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ ہمارے معلمین کو چوکیدار کیوں بنا دیاگیاہے۔ راہ چلتے مسافر عجیب نظروں سے گیٹ پر کھڑے ہوئے اساتذہ کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ریٹائرمنٹ کے بعد چوکیدار بھرتی ہو گئے ہوں۔
چوکیدار اساتذہ کے پاس نہ تو اسلحہ ہے اور نہ ہی انہوں نے کسی قسم کی عسکری تربیت حاصل کی ہوئی، اس کے بارے میں تو سیکورٹی ماہرین ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ غیر مسلح آدمی ہزاروں طلباء کو کس بنیاد پر سیکورٹی فراہم کر رہاہے؟
دہشت گردوں کے پاس تو جدید اسلحہ ہوتا ہے۔ اساتذہ کا احترام ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے انہیں معاف کر دیں تو یہ بات الگ ہے ورنہ اساتذہ انسانی شیلڈ کے طور پر ہی کام آئیں گے۔
ماہرین تعلیم کا خیال ہے کہ درس و تدریس کے لیے خوشگوار ماحول کا ہونا ضروری ہے۔ مقفل چار دیواری، سی سی ٹی وی کیمرے اور خار دار تاریں اس طرح کا گھٹن زدہ ماحول تو ماہرین کی رائے سے متضاد نظر آتاہے۔
بعض ہیڈماسٹرز کا رویہ حالات کو مزید ابتری کی طرف لے کر جارہاہے۔ اساتذہ کے ساتھ ان کا رویہ ایسے ہوتا ہے جیسے کہ وہ ان کے ذاتی ملازم ہوں۔ درجہ چہارم کے ملازمین تو اکثر اوقات ان کے عتاب کا شکار رہتے ہیں۔ بھاری بھر کم تنخواہیں اور پیڈا ایکٹ کی تلوار نے انہیں اس قدر خود سر بنا دیاہے کہ وہ جائز مطالبے کوبھی حکم عدولی سمجھ کر گالی گلوچ پر اُتر آتے ہیں۔
ہیڈ ماسٹرز خود جب آئیں ، جائیں، جتنی اور جب چاہیں چھُٹی حاصل کریں، ان پر کوئی پابندی نہیں ہے جبکہ اساتذہ کو ایک ہفتہ پیشگی چھُٹی منظور کرانے کا حکم ہے ورنہ تنخواہ سے رقم کاٹ لی جاتی ہے۔
اساتذہ پرروز بروزورک لوڈ بڑھایا جا رہاہے۔ تمام سرکاری مہمات کے علاوہ کاغذی کام اتنا زیادہ دیا جاتاہے کہ ان کے پاس تخلیقی کام کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔
بعض ہیڈ ماسٹرز نے سکول کی فضا دانستہ طور پر کشیدہ بنائی ہوئی ہے۔ ان کی خواہش رہتی ہے کہ کسی طور پر اساتذہ کو ذہنی اذیت سے دوچار کیا جائے۔ اس طرح کے گھٹن زدہ ماحول میں اساتذہ کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔
اکثر ہیڈماسٹر خود پڑھانے سے دامن بچاتے ہیں۔اپنے ذمہ پیریڈز کسی دوسرے ٹیچر کو دے کر کاغذات میں اپنا نام ظاہر کر دیتے ہیں۔ بطور رول ماڈل اپنی اعلیٰ تعلیمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلاسز کو پڑھائیں تو یقیناًاساتذہ ان سے سبق سیکھیں گے۔
ہیڈماسٹرز اور اساتذہ کے درمیان تنازعات کی صورت میں اکثر اوقت نزلہ اساتذہ کرام پر ہی گرتاہے۔ کئی کئی ماہ دفتروں میں حاضری دے کر تنخواہوں سے محروم رہتے ہیں۔ غلطیاں تو ہیڈ ماسٹرز سے بھی ہوسکتی ہیں۔ جو ہیڈ بار بار غلطیاں کرے کوئی سزا تو اس کو بھی ملنی چاہیے۔ ہیڈ، اساتذہ تنازعہ کی صورت میں ضلعی سطح پر ایک غیر جانبدار کمیٹی بنائی جائے جس میں ہیڈماسٹر کے علاوہ مانیٹرنگ اور اساتذہ کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے۔ اسی صورت میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں۔
کسی نہ کسی ہیڈماسٹر کو سزا ملے گی تو وہ بھی محتاط رویہ اختیار کریں گے۔ اگر کوئی معلم غلطی پر ہے تو اس کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔ برابری کی بنیاد پر کام چلایا جاسکتاہے۔ بحثیت سرکاری ملازم قانون سب کے لیے یکساں ہوتاہے۔ ملازمت کے معاملے میں جو قاعدہ ادنیٰ درجے کے ملازمین پر لاگو ہوتاہے وہ اعلیٰ افسران پر بھی ہونا چاہیے۔
ٹرکل ڈاؤن پالیسی کو مدنظر رکھا جائے تو جب اساتذہ کا معیار تعلیم میٹرک سے بڑھا کر ایم اے کر دیاگیا تو اصولاََ ہیڈماسٹرز کا تعلیمی معیار پی ایچ ڈی ہونا چاہیے تھا۔ پندرہ ہزار روپے تنخواہ لینے والا پی ایس ٹی بھی ایم اے اور کم و بیش ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرنے والا پرانا ہیڈ بھی ایم اے ہو تو یہ بات قرینِ قیاس نظر نہیں آتی۔
اگر اساتذہ کی ہر سال ریشنالائزیشن ہوتی ہے تو ہیڈماسٹرز سالہا سال سے ایک اسٹیشن پر کیوں براجمان ہیں۔ حکومت اس پالیسی پر بھی نظر ثانی کرے۔
ایسے اساتذہ کرام جنہوں نے کام چوری اور خوشامد کو وطیرہ ملازمت بنا رکھاہے وہ بھی اپنے فرائض منصبی ایمانداری سے ادا کریں تو تعلیمی اداروں کا ماحول مزید بہتر بنایا جاسکتاہے۔
کمرہ جماعت میں ایسے طلباء کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہاہے جو سکول میں محض تفریح کے لیے آتے ہیںَ سال بھر کلاس رومز کا ماحول خراب کرتے ہیں ، ڈراپ آؤٹ زیرو اور مار نہیں پیار کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ پڑھائی سے دُور ہوتے جارہے ہیں۔ والدین کی عدم دلچسپی طلباء کے مستقبل کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
تحقیقی ادارے اپنی ریسرچ کا رُخ گراس لیول روٹ پر لے کر آئیں، اخبارات سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔
اس تحریر کا مقصد کسی ادارے ، فرد یا گروہ سے ذاتی بغض یا عداوت نہیں بلکہ نظام کی بہتری کے لیے معمولی سی سعی ہے اور یہ آئندہ بھی انشااللہ جاری رہے گی۔

Short URL: http://tinyurl.com/hhdbyh9
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *