آنکھوں میں دھول جھونکنا

Print Friendly, PDF & Email


پاکستان کی تبدیلی سرکار نے اپنے طور پر کشمیر کو فتح کرنے کا ایک آسان طریقہ ایجاد کیا ہے ۔اس پر نہ صرف وہ خوش ہیں بلکہ اپنے تئیں اسے وہ ایک تاریخی کام بھی سمجھ رہے ہیں ۔اب ان عقل کے ماروں کو یہ کون سمجھائے کہ بنگلہ دیش جو کبھی پاکستان کے نقشے میں تھا اب وہ کہاں ہے؟ ۔ایسے میں ہمیں اردو کا محاورہ “آنکھوں میں دھول جھونکنا “یاد نہ آئے تو اور کیا آئے ۔کیوں بات نہیں سمجھ آئی؟ چلیں جی آج ہم اسی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔دھول کے بہت سارے معانی ہیں عام طور پر لوگ عام زبان میں اسے مٹی اور خاک کہتے ہیں لیکن جاننے والی بات یہ ہے کہ یہ ایک خاص قسم کی راگنی ہے جسے خاص موقعوں پر گایا اور اسے استعمال میں بھی لایا جاتا ہے ۔جہاں تک ہمارے ملک کا سوال ہے اس دھول اور راگنی کی بڑی دھوم ہے ۔شروع دن سے ہی ملک پاکستان نے دھول کا استعمال اور راگنی گانے میں نہ کوتاہی کی ہے اور نہ ہی کبھی ہچکچایا ہے۔ پاکستان پر اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس سے یہ راگنی کبھی بھولی نہیں ۔ویسے دھول ایک قسم کا پودا گنے کا نام بھی ہے جسے چوسا جاتا ہے ۔اور جب ایک دفعہ کسی کو گنا چوسننے کی عادت پڑجائے تو “چھٹتی نہیں یہ کافر منہ کو لگی ہوئی “کے مصداق چوسنے کا عمل سے آگے خون چوسنے کی نوبت تک بھی جا سکتی ہے ۔ سر دست چوسنے والی بات کو چھیڑنا مناسب نہیں دھول راگنی کے معانی پر ہی اکتفا کرتے ہوئے اس سے اگلا لفظ جھونکنا کی طرف چلتے ہیں جس کو عام فہم زبان میں بربادی کے زمرے میں لیا جاتا ہے ۔۔ اب ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہاں راگنی اور پھر اس کے ساتھ ایک دم سے بربادی لیکن جب اس دھول اور بربادی کو آنکھ کی نطر سے دیکھا جائے تو دھول راگنی کے معانی کھو دینے کے بعد عام فہم والی مٹی کا روپ دھار لیتی ہے ۔جب تک آپ دھول کو راگنی والے معانی میں اور آنکھوں میں پٹی باندھ کر اس کی لے میں مدہوش رہنگے اس وقت تک کسی بھی قسم کی دھول کا آنکھوں میں پڑنے کا احساس توکیا شبہ کا بھی امکان نہیں ۔لیکن جس دن آپ کو لگے یہ دھول راگنی ہی نہیں بلکہ یہ تو اس دھرتی کی مٹی ہے جو میری ماں ہے تو اسی ہی لحمے ہی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا عمل شروع ہونے کا نہ صرف شبہ ہوگا بلکہ احساس بھی ہوگا کہ کوئی ہمارے ساتھ مذاق کر رہا یا ہمیں الو بنا رہا اور ہماری آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔جب کوئی اس چالاکی اور شیطانی چالوں پر واویلا مچاتا ہے اس وقت اس فن کے ماہر اور اسے استعمال میں لانے والے نت نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں جیسے پاکستان کی تبدیلی سرکار نے پاکستان کے نقشے پر تبدیلی کرکے کی ہے ۔ اسے آپ ایک ہنر بھی کہہ سکتے ہیں ۔اور جو اس فن سے واقف ہوجاتا ہے اسے آنکھوں میں دھول جھوکنا کسی طرح کا مشکل کام نہیں لگتا ۔تو ثابت یہ ہوا کہ دھول جھونکنا ایک فن ہے ۔اس فن کو سیکھنے اور جاننے کے لیئے کوئی لمبی چوڑی محنت کی بھی ضرورت نہیں بس آپ کو اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ کب اور کس وقت کس چیز کا راگ الانپتے ہوئے اپنا مفاد حاصل کرنا اور مطلب پورا کرنا ہے ۔کب کس کو جھل دینا ہے فریب و دھوکہ کسے دینا ہے بیوقوف بنانے کا صحیح وقت کونسا ہے دوسروں کو اندھا سمجھ کر ناقص مال مہنگا بیچنے کی کوشش اور اچھی مہنگی قیمتی چیز سستے داموں کیسے اپنے قبضے میں یا حاصل کرنا ہے ۔صحیح اور اصل بات کو گول کرکے دوسری باتوں میں الجھا کر توجہ کیسے بٹانی یا ہٹائی جاتی ہے ۔ آپ اس بات سے بھی پریشان نہ ہوں کہ اس ہنر کو سیکھنے کے لیئے شائد آپ کو کسی بیرون ملک کا سفر کرنا پڑے ۔ نہں یہ تو اپنے ہی ملک میں دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں سیکھا جا سکتا ہے ۔وہ کہتے ہیں نا یہ ہنر تو کوئی ان سے سیکھے ہم تو یہی کہئنگے کہ اس ہنر کو تو کوئی پاکستانی وزارت خارجہ سے سیکھے واہ واہ کیا راگنی تھی ہمارے وزیر خارجہ کی جو وہ پاکستان کے سیاسی نقشے کے بارے تبدیلی سرکار کے قائد کو پاکستانی قائد کے اصل پاکستان سے ہٹا کر اس تاریخی کارنامے کا الانپ رہے تھے ۔جہاں تک اس راگنی کی ترنم بیان اور آواز کا تعلق ہے تو اس پر ہمارے وزیر خارجہ داد کے مستحق ہیں لیکن ایک چیز کی کسی نے کمی محسوس کی ہو یا نہیں مجھے یوں لگا کہ سیاسی نقشہ کے ساتھ سُراور دھن میل نہیں کھا رہے تھے ۔اب اس میل نہ کھانے کی ایک وجہ ہو تو ہم بتائیں اس کے لیئے تو مجھے اور آپ سب کو تاج برطانیہ کی سلطنت کی طرف لوٹنا پڑیگا جہاں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا ۔لیکن اس وقت میرا ارادہ ماضی کی طرف خیالات دوڑانے کا نہیں اور نہ ہی کسی کے “آنکھوں میں دھول جھونکنے کا” بس میں آپ کو 14 اگست کی طرف لے کے جانا چاہونگا ۔اگر کسی نے 14 اگست کو انڈیا اور پاکستان کا نقشہ دیکھا ہے تو پھر آج کے انڈیا اور پاکستان کے سیاسی نقشوں کی پوری کہانی سمجھ آئیگی ۔اگست سے اکتوبر 1947 کی پاکستان انڈیا ریاستی رسہ کشی کی کہانی سب کے سامنے عیاں ہے ۔ 1948 کے قراردادوں کے تحت پورا ریاست جموں و کشمیر باہم رضامندی پاکستان و انڈیا حل طلب ہے ۔پاکستان کے دستور باب ایک میں جن اکائیوں کا ذکر موجود ہے اس میں ریاست جموں و کشمیر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شامل نہیں ۔اس مسلمان دستور کے تحت جموں کشمیر و تبتہا (لداخ گلگت بلتستان) پاکستان اور بھارت کے مابین ایک حل طلب مسلہ ہے ۔ اب اس حل طلب مسلے کو حل کئے بغیر یہ کیونکر ممکن ہے کہ یہ دو ملک ریاست کی جغرافیائی سرحدوں کو اپنی مرضی سے جب چاہئے جو چاہئے رد و بدل کریں۔بٹوارہ ریاست جموں و کشمیر کا نہیں بٹوارہ ہندوستان اور پاکستان کا ہوا تھا اور ریاست کا بٹوارہ تو دو ملک بنے کے بعد سے شروع کیا گیا۔ سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو ملکوں نے اگر اقوام متحدہ کی قرارداد کو تسلیم کیا ہے تو کام بھی اسی نہج پہ ہونا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں ہوا
۔1948 سے ہی دو نوں ملک ایک دوسرے پر الزام تراشی میں لگے رہے 1947 سے کارگل جنگ تک کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مسلہ کشمیر کو حل کرنے میں دونوں ملکوں کی دلچسپی نہیں ۔اگر یہ مخلص ہوتے تو جنگوں کی نوبت کیسے آتی اب یہ جو سیاسی نقشہ جات کا ڈرامہ یا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے ۔ میں اسے ڈھونگ اس لیئے کہہ رہا ہوں کہ جب پاکستان بنا تھا تو پاکستانی نقشہ ریاست جموں و کشمیر کے بغیر تھا ۔ پھر 1956 میں جو نقشہ آیا اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستانی نقشے میں ایل اوسی کے تحت ظاہر کیا گیا۔ اس سے پہلے گلگت بلتستان کو پاکستان نے آزاد کشمیر سے جدا کر دیا اور گلگت بلتستان سے سٹیٹ سبجیکٹ رولز ختم کرکے حقوق ملکیت کے حق پر ڈاکہ ڈالا تھا ایسے میں انڈیا کیسے کشمیر مسلے پر چپ رہتا اس نے پاکستان کی تقلید کرتے ہوئے 370 آرٹیکل ختم کر دیا اور ریاست کا پورا نقشہ ہی تبدیل کر دیا ۔بھارت اور پاکستان کے ان اقدامات سے یہاں بسنے والے ایک اضطرابی کیفیت سے دو چار ہیں اور وہ اضطرابی کیفیت اس قسم کی ہے کہ جسے بیان کیا جائے تو غداری کا لقب کا اضافہ ہونے کا قوی امکان موجود ہے ۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے ،کشمیر بنے گا پاکستان لیکن یہ اس وقت ممکن ہوگا جب پاکستان اور ہندوستان حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اس ریاست کے بسنے والوں کو ان کا بنیادی حق جسے رائے شماری کہا جاتا ہے دونوں ملک اقوام متحدہ کی 1948 کی قرارداد پر عمل کرتے ہوئے حالات سازگار بنائینگے ۔ان دونوں ملکوں کے تازہ ترین تقشوں کا تجزیہ کیا جائے تو دو مفروضے سامنے آجاتے ہیں ۔
پہلا مفروضہ یہ کہ انڈیا اور پاکستان اس بات پہ متفق ہو چکے ہیں کہ ریاست کے جو حصے جس کے زیر انتظام ہیں وہ ان کے مالک۔یعنی جو بھارت کے قبضے میں کشمیر ہے وہ ان کا اور جو پاکستان کے زیر انتظام ہے وہ پاکستان کا
دوسری بات جو ان نقشوں سے اخذ کی جا سکتی ہے وہ یہ کہ اس ایشو کو بطور معاشی حصہ داری کسی طرح سے ہتھیانا ہے ۔
اگر ہم پہلے والے مفروضے کو سچ سمجھیں تو بات صاف اور واضح ہے کہ کشمیر کا مسلہ اس مفروضے کے تحت انڈیا اور پاکستان کے ما بین اب تنازعہ نہیں رہا اور یہ جو کچھ ہو رہا ہے سب ڈرامے اور ڈھونگ ہے اور دونوں ملک ریاستی باشندوں کے آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں اور کچھ نہیں ۔
دوسرے مفروضے کو سچ مانا جائے تو پوری ریاست اس وقت متنازعہ اور حل طلب ہے لیکن مسلہ یہ ہے کہ اسے حل کرنے کے بجائے اس مسلے کو مزید الجھایا جا رہا ہے اور اس ریاست کے وسائل پر قبضہ کا جنوں اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس خطے سے جُڑے ممالک کا مفاد اس مسلے کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔پاکستان کے تازہ ترین سیاسی نقشے کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگانا بڑا آسان ہے۔یہ دوسرا مفروضہ اس لیئے بھی بڑا پریشان کن ہے کہ اس سے تو خطے میں جنگ کے بادل منڈھالتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اللہ نہ کرے کہ حالات اس طرف جائیں جو 1971 میں ہوئے جس کے باعث پاکستان کا جغرافیہ تبدیل ہوا تھا ۔عالمی طاقتوں کا اب جنگ کرنے کا انداز تبدیل ہوا ہے اس مفروضے کے تحت اس خطے میں جنگ کب کی شروع ہوچکی ہے ون بلیٹ ون روڈ قراقرم سی پیک ہمالیہ گوادر روڈ ۔ تفصیل اس کی بہت لمبی ہے بس اتنا بتا نا مقصود ہے کہ جب تک چین کے مفاد اس خطے میں موجود ہیں وہ ہمارا دوست ہی رہیگا اور اللہ کرے دوست ہی ثابت ہو ۔لداخ میں ہندوستان اور چین تنازعہ بھی اس وقت شدت اختیار کر چکا ہے اور سی پیک کے حوالے سے بھی امریکہ چین بیان بازی اور مفاداتی سیاست اس خطے کی جغرافیائی اور سیاسی نقشوں میں نہ صرف تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے بلکہ حالات کسی اور نہج تک بھی پہنچ سکتے ہیں ۔آخر میں پاکستان کی حکومت سے اتنا عرض کرنا ہے کہ پاکستانی مسلمان دستور کے باب ایک اور پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اللہ اللہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے زیر انتظام کشمیر جس میں گلگت بلتستان بھی شامل ہے کو ایک با اختیار ریاست کا درجہ دیکر اس کو صحیح معانوں میں آزادی کشمیر کا ایک بیس کیمپ بنانے کی کوشش کریں نہ کہ انہیں غلام بنا کر اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کے لئے ان کو بطور مہرہ جب جی چاہئے استعمال میں لائیں ۔ جب تک پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو با اختیار بنانے کا عملی کام نہیں ہوگا اور انہیں اپنی مرضی سے اپنے فیصلے کرنے کے حق سے محروم رکھا جائیگا ۔ نقشوں کی تبدیلی محض ایک ڈھونگ اور ڈرامہ اورشاہراہ کشمیر کو شاہراہ سرینگر لکھنا نہ صرف ایک مذاق بلکہ آزاد کشمیر گلگت بلتسان جموں و کشمیر کے باسیوں کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں ۔

 327 total views,  6 views today

Short URL: http://tinyurl.com/yyou2p2s
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *