آج کے بے حس انسان ۔۔۔۔ تحریر: صباحت رفیق، گوجرانوالہ

Sabahat Rafique
Print Friendly, PDF & Email

ہم آج کے انسان نجانے کیوں اتنے بے حس ہوتے جا رہے ہیں کہ ہمیں تب تک دوسروں کی تکلیفوں کا اندازہ نہیں ہوتا جب تک ہم خود اس تکلیف کا سامنا نا کر لیں ۔ ہر جگہ ہر مسجد میں روزانہ ایک سے دو اعلان تو ضرور ہوتے ہوں گے کسی کے دنیا سے جانے کے۔لیکن ہم بے حس لوگ اعلان سننا بھی گوارا نہیں کرتے اگر گھر میں سے کوئی بڑا پوچھ لے کہ بیٹا کس کا اعلان تھا؟ تو ہم بہت لا پرواہ انداز میں کہتے ہیں پتہ نہیں، سنا نہیں ، ہو گا کوئی۔ جا نے والے کے لیے ایک فاتحہ پڑھ کے اس کی مغفرت کی دعا کرنا تو دور کی بات ہے۔ لیکن جب ہمارا اپنا کوئی عزیز اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو پھر پتہ چلتا ہے کہ کیسی قیامت کا دن ہوتا ہے ۔ اسی طرح روزانہ کوئی نہ کوئی روڈ ایکسیڈنٹ کا شکار ہوا ہوتا تو لوگ بس خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہیں کوئی اس کی مدد کیلیے آگے نہیں بڑھتا ، لیکن اگر اس جگہ کوئی اپنا عزیز ہو تو پھر چیخ چیخ کے لوگوں کو کوسنے دیتے ہیں کہ تماشا کیوں دیکھ رہے ہو؟آؤ اسے ہسپتا ل لے جانے میں مدد کرو ، پھر بھول جاتے ہیں کہ ہم بھی تو اسی طرح دوسرے لوگوں کا تماشا ہی دیکھتے تھے ہم نے کب سوچا کہ ہم اس کی مدد کریں ۔ آہ۔۔۔!!! میرا دل خون کے آنسو روتا انسانوں کی ایسی بے حسی پر۔آئے دن بم دھماکے ہوتے ہیں جس کی زد میں ہمارے ہزاروں مسلمان بہن بھائی آتے ہیں جن گھروں کے چراغ ، جن ماؤں کے لال ، جن بہنوں کے بھائی ان بم دھماکوں کا شکار ہوتے ہیں ان کے گھروں میں کیسی قیامت کا دن ہو گا؟؟؟ ان کے گھر والوں کا کیا حال ہوتا ہو گا؟؟؟ یہ سوچ کر ہی میری آنکھیں برسنے لگتی ہیں اور میری زبان اور میرا دل دونوں وطن کی سلامتی کے لیے دعا گو ہو جاتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ تکلیف مجھے لوگوں کو یہ الفاظ دیتے ہیں ، کہ دو دن لوگ مرنے والوں کے دکھ میں روتے ہیں پھر سب بھول جاتے ہیں ۔ آہ۔۔۔!!!! کون بھولتا اپنے جانے والوں کو ؟؟؟ چاہے صدیاں گزر جائیں ان کی کمی اس سے زیادہ محسوس ہوتی ہے وہ اور زیادہ شدت سے یاد آتے ہیں ۔ اور صدیاں گزر جانے کے باوجود جب بھی ان کے جانے کا منظر یاد آتا ہے تو ہر دفعہ ہی سانس رکتا محسوس ہوتا ہے ۔ یہ درد صرف وہ لوگ ہی محسوس کر سکتے ہیں جنہوں نے اپنی کسی عزیز ہستی کو کھویا ہو۔
میرے وطن کے لوگوں کے نام میرے کچھ الفا٭۔۔۔۔!!!

اے میرے وطن کے نوجوانو۔۔۔!!!۔
تم کیوں اتنے بے حس ہو گئے ہو؟؟؟
کہ ہزاروں ماؤں کی آہ و بکا۔۔۔
تمہیں سنائی ہی نہیں دے رہی
بم دھماکوں کی نظر ہونے والے
اپنے مسلمان بہن بھائی
تمیں دکھائی ہی نہیں دے رہے
تم کیوں ظلم کو ہونے دے رہے ہو؟؟
تم کیوں خاموش تماشائی بنے سب دیکھ رہے ہو؟؟؟؟
اے میرے وطن کے نوجوانو۔۔۔۔!!!!!۔
تم اگر سب ایک ہو جاؤ
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو
اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ
تو دشمن تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتا
تمہارا عزم ، تمہاری ہمت ، اور تمہارا اتحاد
ہی تمہاری سب سے بڑی طاقت ہے

Short URL: http://tinyurl.com/hsqxl6j
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *