آج کا مسلمان ۔۔۔۔ تحریر: علیشبہ احمد

Alishba Ahmad
Print Friendly, PDF & Email

مسلمان کیا ہے ؟
اس سوال کی بہت ہی آسان تعریف ہم یہ کرتے ہیں کہ اللہ تعا لی کا فرماں برداد ، حکم ماننے والا ،اسکے احکامات کی پیروی کرنے والا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی ماننے والا اور ان کی پیروی کرنے والا مسلمان ہوتا ہے ۔۔۔
آج کا مسلمان کیا ہے ؟
آج کا مسلمان اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تو مانتے ہیں پر ان کی ایک نہیں مانتا۔۔۔
آج کا مسلمان فرقہ واریت میں بٹ چکا ہے ۔ فرقہ واریت میں بھی یہ نہیں کہ وہ جس فرقہ سے تعلق رکھتاہے اس فرقہ کی مناسبت سے جو اللہ تعا لی کی عبادت کے احکام ہیں کر رہا ہے ۔فرقہ واریت بھی بس اس حد تک محدود ہوگئی ہے کہ کسی دوسرے فرقہ کا اگر کوئی انسان کسی اور فرقہ پر سوال اٹھادے تو اس سے لڑ جھگڑ لیتے ہیں اور بس۔۔۔ جو انسان جس فرقہ سے تعلق رکھتا ہے وہ یہی سوچتا ہے کے یہی فرقہ درست ہے اور میں ہی سچا مسلمان ہوں ۔ لیکن اسکو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرقہ بتا ئے تھے کہ یہ یہ فرقے ہیں اور ان فرقوں میں سے کونسے فرقے اللہ کے نزدیک ہیں۔۔۔نہیں نا ! تب تو صرف مسلمان ہوا کرتے تھے جو انسان مسلمان ہونا چاہتا تھا وہ کلمہ پڑھتا اور مسلمان ہو جاتا تھااسے یہ تو نہیں کہا جاتا تھا کہ تم نے کلمہ پڑھ لیا ہے اور اب تم اس فرقہ کے مطابق یہ والے مسالمان ہوگئے ہو ۔تب مسلمان صرف مسلمان ہوتا تھا ہونا تو آج بھی مسلمان ہی چا ہیئے پر ہم فرقہ واریت میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔اتنا کہ ہم ایک دوسرے عبادات کے طریقوں پر نقص نکالنے سے بازنہیں رہتے ۔ جیسے وہابی شب برات نہیں مناتاسنی مناتا ہے تو وہابی کو لگتا ہے وہ بہت غلط عمل کر رہا ہے شب برات پر نوافل کی ادائیگی تو وہ کیا غلط کر رہا ہے؟ اگر ایک انسان ایک خاص شب کو اپنے رب کی عبارت میں مشغول ہے تو کیا غلط کر رہا ہے ویسے ہونا تو ہر روز ایسے چا ہئے ایک مسلمان کے لیے ہر رات شب برات ہونی چاہیے پر خیر۔۔۔فرقہ واریت میں بٹے ہوئے لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ سیدھی راہ پر ہے اور دوسرا غلط پر، جیسے ایک وہابی دوران نماز ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہتاہے یہ اسکی نماز کا طریقہ ہے تو سنی ہنستا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے کیا وہ کچھ غلط کر رہا ہے؟ اللہ اکبر کہہ کر تو وہ اللہ کی شان بیان کر رہا ہے تو اس میں کہاں کچھ غلط ہے اور ہر مسلمان خواہ وہ سنی ہو ،وہابی ہو یا کسی بھی فرقہ سے ہو نماز تو اللہ کے لئے پڑھ رہا ہے اور اس نے ہی قبول کرنی ہے دلوں کہ حال تو وہ جانتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں باتیں بنانے والے۔۔۔ویسے بہت لوگ آج کل اس لئے بھی باتیں بناتے ہیں کہ آج کل دنیا میں آسان ترین کام باتیں بنانا ہی رہ گیا ہے اور ہر کوئی آسان کام بڑے شوق سے کرتا ہے۔آج کل دنیا کہ مختلف ممالک ہمارے خلاف ہیں اور ہمارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی جرات کر بیٹھے ہیں۔ کیونکہ ہم میں اتفاق نہیں ہے۔ آج ہم ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں صرف فرقہ واریت کی وجہ سے ہو نا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم سب ان لوگوں کے خلاف کھڑے ہوں جو شان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی کرنے کی جرات کرتے ہیں۔ پر ہمیں اپنی لڑایؤں سے فرصت ملے تب نا ! اس لئے مسلمان کو صرف مسلمان ہونا چاہئے سنی ،وہابی، دیو بندی نہیں۔ یہ سب فرقہ واریت یہیں رہ جائے گی اگر کوئی چیز ہمارے ساتھ قبر میں جائے گی تو وہ ہوں گے ہمارے اعمال ، ہماری عبادت، اس لئے ابھی ہمیں فرقہ واریت کو چھوڑ کر اللہ کی طرف لوٹ جانا چا ہیے۔ ورنہ وقت گزر جائے گا اور وقت گزرنے کے بعد صرف پچھتاوا ہی رہ جایا کرتا ہے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/hvrtl3l
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *