اُسی کے نور سے ہم انحراف کر بیٹھے

Print Friendly, PDF & Email

کبھی غرور پہ ہم اعتراف کر بیٹھے
محبتوں سے کبھی اختلاف کر بیٹھے

کبھی دھنک کے بدن پر لحاف کر بیٹھے
کبھی مہک کی روش پر غلاف کر بیٹھے

ہمارے چہرے پڑھے انکشاف کر بیٹھے
اُن آئینوں کی خرد پر شگاف کر بیٹھے

یہ خاکِ جسم کریدا تو دل ملا آخر
اُسے بھی خاک میں ڈالے غلاف کر بیٹھے

ضمیر ٹوک رہا تھا انا سے دور رہو
مگر یہ ہم ہیں کہ اس کے خلاف کر بیٹھے

نظر کو آپ کی پاکیزگی ضروری ہے
ہمارے قلب کو ہم بھی ہیں صاف کر بیٹھے

ہدایتوں سے منور پیامِ حق ہے نثارؔ
اُسی کے نور سے ہم انحراف کر بیٹھے

****
شاعر : احمد نثار، ممبئی، مہاراشٹرا

1,219 total views, 2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/goahm5l
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...