سیریز میں پاکستان کی ٹیم ایک قدم آگے

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ ٹیسٹ سیریز 2016ء میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم لارڈز میں شاندار جیت کے بعد جب اولڈ ٹر یفرڈ اور ایجبسٹن میں ٹیسٹ میچ ہار گئی تو ٹیسٹ ٹیم کے چند کھلاڑی تنقید کی زد میں آگئے ۔ لہذا پاکستان نے پہلے ٹیسٹ میں جتنے والی ٹیم کو ہی دوسرے ٹیسٹ میں تو کھیلایا تھا ۔ لیکن تیسرے ٹیسٹ میں دو تبدیلیاں کر کے اوپنر شان مسعود اور فاسٹ باؤلر وہاب ریاض کی جگہ اوپنر سمیع اسلم اور فاسٹ باؤلر سہیل خان کو ٹیم میں شامل کیا ۔
دونوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن تیسرے ٹیسٹ میں بھی شکست کے بعد اوول گراؤنڈ میں ہونے والے چوتھے اور سیریز کے آخری ٹیسٹ میں ایک دفعہ پھر ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں ۔محمد حفیظ کی جگہ آل راؤنڈ افتخار احمد کو شامل کیا گیا اور راحت علی کو آرام کروا کر ایک دفعہ پھر وہاب ریاض کی فاسٹ باؤلنگ سے استفادہ کرنے کا سوچا گیا۔ 11ِ اگست تا15ِاگست2016 تک اوول گراؤنڈمیں ہونے والے ٹیسٹ میں پیچ سپورٹنگ بنائی گئی تھی جس کے متعلق بلے بازوں اور باؤلرز کیلئے معاون ہونے کا کہا جارہا تھا لیکن یہ بھی خیال کیا جارہا تھا کہ چوتھی اننگز میں بیٹنگ کرنے میں مشکلات آسکتی ہیں۔
انگلینڈ نے تیسرے ٹیسٹ والی ٹیم سے ہی میدان میں اُترنے کا فیصلہ کیااور پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں مجموعی اسکور328رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔پاکستان کی طرف سے سہیل خان نے ایک دفعہ پھر 5وکٹیں حاصل کیں اور وہاب ریاض نے 3اور محمد عامر نے2۔اس دفعہ بھی کیچ ڈراپ کرنے کی روایت پھر قائم رکھی گئی اور معین علی کی سنچری بھی اُسکا کیچ ڈراپ کرنے کا نتیجہ ثابت ہوئی۔
اوول ٹیسٹ کا پاکستان بلے بازوں کیلئے واقعی ایک امتحان کا دِ ن تھا۔ لہذا اسد شفیق 109رنز بنا کر نمایاں رہے اور یونس خان جو اپنے ریکارڈ و صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے باوجود اس سیریز میں تنقید کا باعث بنے ہوئے تھے نے واقعی ایک بڑے بلے باز کی حیثیت میں ایک دفعہ پھر سنچری کر ڈالی جو اُنکی 32ویں سنچری تھی۔بلکہ 218رنز بنا کر6ویں ڈبل سنچری کر ڈالی اور پاکستان کے مشہورِ زمانہ بلے باز جاوید میاں داد کا ڈبل سنچریوں کا ریکارڈ برابر کر دیا۔
پاکستان کی ٹیم542 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئی اور انگلینڈ کے پہلے اننگز کے اسکور پر214رنز کی برتری حاصل کرلی ۔انگلینڈ کی طرف سے ووکس اور فِن نے 3,3معین علی نے2اور اینڈیسن وبراڈ نے1,1کھلاڑی آؤٹ کیئے۔
انگلینڈ نے دوسری اننگز میں253رنز بنائے اوریاسر شاہ نے5، وہاب ریاض نے2، سہیل خان اور افتخار احمد نے 1,1وکٹ حاصل کی ۔پاکستان کوجتنے کیلئے 40رنز درکار تھے جو پاکستان کے اوپنرز اظہر علی اور سمیع اسلم نے بنا کر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔ اظہر علی نے چھکا لگا کر مطلوبہ ٹارگٹ پورا کیا۔
:ٹیسٹ میچ یونس خان کے نام سیریز مصباح الحق کے 
اوول میں آخری ٹیسٹ کے پہلے دِن کپتان مصباح الحق نے واضح کہا تھا کہ اوول ٹیسٹ پاکستان کیلئے اور اُنکے اپنے لیئے بہت اہم ہے ۔ اُنھیں اپنی ٹیم سے اُمید تھی کہ اس ٹیسٹ میں وہ جان لڑا کر بہتر نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ لہذا میچ کے آغاز میں ہی لارڈز کے ٹیسٹ والا ولولہ نظر آیا اور پہلے ہی دِن انگلینڈ کی ٹیم کو آؤٹ کر کے اُنکے خلاف ایک بڑا اسکور کرنے کیلئے بلے بازوں کو میدان میں اُتارا۔ جن میں سے نوجوان اسد شفیق اور سینئر یونس خان نے بالترتیب سنچر ی اور ڈبل سنچری بنا کر میچ پر گرفت مضبوط کر لی۔ ساتھ میں اظہر علی،سرفراز اور محمد عامر نے بھی بہترین بیٹنگ کا مظاہر ہ کیا۔
پہلی اننگز میں سہیل احمد اور وہاب ریاض کی باؤلنگ اور پھر دوسری اننگز میں یاسر شاہ اور وہاب ریاض کی باؤلنگ و فیلڈنگ نے انگلینڈ کی ٹیم کے پاؤں اُکھاڑ دیئے ۔ جس کے بعد فتح پاکستان کے گلے کا ہار بنی اور شکست انگلینڈ کامقدر۔
ٹیسٹ میچ کے اختتام پر انگلینڈ کے کپتان ایلسٹر کک نے صاف کہا کہ یونس خان کی بیٹنگ نے اُنکی کامیابی کا راستہ روکا۔لہذا اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ اوول ٹیسٹ کی کامیابی کے ہیرو واضح طور پر یونس خان ہی ہیں ۔جنہوں نے سیریز میں 340رنز کر کے پاکستانی ٹیم میں سب سے زیادہ اسکور کیا ہے۔ یونس خان کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے پوری سیریز میں جد وجہد کی اور آخری ٹیسٹ سے پہلے بھارت کے نامور بلے باز اظہر الدین کا فون آیا کہ کریز پر کھڑے رہنا۔مشورہ کام آیا اور میچ وننگ اننگز کھیل ڈالی۔15سال سے سُن رہا ہوں کہ میرا کیرئیر ختم ہو رہا ہے ابھی کتنا کھیلنا ہے معلوم نہیں۔
یونس خان کے علاوہ سیریز میں اظہر علی 295،مصباح الحق 282اوراسد شفیق 274رنز بنا کر نمایاں رہے۔ باؤلرز میں یاسر شاہ نے 19وکٹیں ،وہاب ریاض نے 3میچوں میں10اور سہیل خان نے 2میچوں میں 13کھلاڑی آؤٹ کیئے۔ محمد عامر نے سیریز میں 12وکٹیں حاصل کیں اور پوری سیریز میں اپنی باؤلنگ پر فیلڈروں کے ہاتھوں سے کیچ ڈراپ ہو نے کا شکار رہے۔
:پاکستان کی ٹیم ایک قدم آگے
پاکستان انگلینڈ کی اس سیریز کو نتائج کے مطابق اگر کو متوازن کہا جائے تو غلط ہو گا کیونکہ انگلینڈ کا جسطرح ایک مدت سے کامیابیوں کا سفرجاری تھا خصوصی طور پر اُنکے اپنے ملک میں اُس میں پہلی دراڑ پاکستان کی ٹیم نے لارڈز لے پہلے ٹیسٹ میں ڈالی اور اوول کے آخری ٹیسٹ میں شکست دے کر اُنکو گِرا ہی دیا۔ لہذا مصباح الحق نے بحیثیت کپتان ایک نئی تاریخ رقم کر دی اور ساتھ میں سیر یز برابر کرنے باوجود پاکستانی ٹیم اُنکی ٹیم سے ایک قدم آگے نظرآئی۔
پاکستان ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا کہ یونس خان حقیقی چیمپیئن ہیں اور وہ بذاتِ خود اپنی ریٹائر منٹ کے بارے میں پاکستان واپس جاکر فیصلہ کریں گے۔
:جشنِ آزادی کا تحفہ
آخری ٹیسٹ کانتیجہ خوب رہا اورپاکستان کرکٹ ٹیم اوول ٹیسٹ میں انگلینڈ کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہو گئی۔یو نس خان پر اس کامیابی کا سہرا سجا اور مین آف دِی میچ بنے۔ پاکستان کی طرف سے مین آف دِی سیریز کپتان مصباح الحق ہوئے۔ چیف سلیکٹر انضمام الحق ،ہیڈ کوچ میکی آرتھر اور کپتان مصباح الحق بمعہ پوری کرکٹ ٹیم کو مبارک دی گئی ۔ ساتھ میں14ِاگست2016ء کو اس کامیابی کو پاکستان کے جشنِ آزادی والے دِ ن پاکستانیوں کیلئے ایک انتہائی یادگار تحفہ قرار دیا گیااور گراؤنڈ اُس ہی وقت جیوے جیوے پاکستان کے نعروں سے گونج اُٹھا۔
:اوول میں کامیابی کا ریکارڈ
اوول کے گراؤنڈ میں اس میچ میں کامیابی کے بعد اب تک اس میدان میں دونوں ممالک کے درمیان10کرکٹ کے میچ ہوئے ہیں جن میں سے 5پاکستان ،3انگلینڈ نے جیتے ہیں اور 2برابر رہے ہیں۔لہذا اس گراؤنڈ میں پاکستان کا ریکارڈ بہتر رہا ہے۔
انگلینڈ کے فاسٹ باؤلر کرس ووکس نے پاکستان کے خلاف 4ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں26وکٹیں لیکر جیمز اینڈریسن کا اتنے ہی میچوں میں 23وکٹیں لینے کا ریکارڈ توڑدیا۔ انگلینڈ کی طرف سے ووکس مین آف دِی سیریز قرار پائے۔
ٹیسٹ میچوں میں 4 سے 3ٹیسٹ میچ چار دِنوں میں ہی ختم ہو گئے۔صرف ایجبسٹن والا ٹیسٹ پانچ دِن جاری رہا۔

777 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/hpuypy8
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *