خاندان: تہذیب کی اولین آماجگاہ

Print Friendly, PDF & Email

(۔15مئی: خاندانوں کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)

تحریر: ڈاکٹر ساجد خاکوانی
خاندان انسان کی پرورش کی سب سے پہلی سیڑھی ہوتاہے۔یہ خدائی قانون ہے کہ انسان ایک خاندان میں آنکھ کھولتاہے،جبکہ متعددمخلوقات ایسی بھی ہیں جو بغےر کسی خاندان کے پرورش پاتی ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کے بعد جنت جیسے مقام پر قےام عطا ہوا لیکن بغےر خاندان کے وہاں بھی آپ علیہ السلام کا دل نہ لگا اورآپ نے بار الہ میں تنہائی کی شکاےت کی جس کے نتےجے کے طور پر آپ کوایک خاندان کی صحبت میسر آئی اور ہماری اماں حواکاساتھ حضرت آدم علیہ السلام کو مرحمت ہواجس سے پھر نسل انسانی کی بڑھوتری بھی ممکن ہوئی۔زمین پر اترنے کے بعد ہر سال ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوتے اسی لےے حضرت آدم علیہ السلام کی شرےعت میں سگے بہن بھائیوں کا نکاح جائز تھا کیونکہ اس کے بغےرنسل انسانی کا چلنا ممکن ہی نہ تھا تاہم بعد کی آنے والی شرےعتوں میں یہ حکم منسوخ ہو گےا۔چنانچہ پہلے سال کی بیٹی کے ساتھ اگلے سال کے بیٹے کا اور اگلے سال کی بیٹی کے ساتھ پہلے سال کے بیٹے کا نکاح کر دےاجاتا اور ےوں اس کرہ ارض پر قبیلہ بنی آدم میں خاندانوں کا آغاز ہوااور انسان کی نسل آگے کو چلنے لگی۔انسان کی تاسیس کا یہی نظریہ درست اور صحیح ہے اور وحی سے ثابت ہے اور اب تو حیاتےاتی علوم کی تحقےقات بھی اسی نظرےے کی حامی ہیں اور اسی کو مستند مانتی ہیں اس کے علاوہ انسان کی تاسیس کے جتنے بھی نظرےے ہیں وہ مرقع جہالت اور کوتاہ نظری پر مبنی ہیں۔
اﷲ تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں سورة نساءکے اندرفرماےا کہ ”لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بناےااور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتےں دنیا میں پھیلا دےے “۔یہ گوےا انسانی خاندانوں کی ابتدا کا پس منظر بیان کیاگےاکہ کس طرح ایک آدم علیہ السلام سے اﷲ تعالی نے اپنی شان تخلیقی سے پوری دنیاکو انسانوں سے بھر دےاہے۔یہ سلسلہ جس طرح ماضی میں ہردور ،ہروقت اور ہر قسم کے حالات میں جاری رہا اسی طرح آج بھی ہے اور اسی طرح آخری انسان کی پیدائش تک جاری رہے گا کہ یہی قدرت خداوندی ہے اور یہی منشائے ربانی ہے۔اﷲ تعالی خاندان کی ابتداماں باپ سے کرتا ہے دوجانیں باہم مل کر ایک گھر کی بنیاد رکھتے ہیں پھر انکے ہاں اولاد جیسی نعمت پیدا ہوتی ہے جہاں سے بہن اور بھائی کے رشتے جنم لیتے ہیں،یہ بہن بھائی بڑے ہوکرجب شادےاں کرلیتے ہیں تو بہنوئی،داماداور بہوجیسے سسرالی رشتے دارےاں جنم لے لیتی ہیںاور خاندان اپنی وسعتوں کو چھونے لگتاہے یہاں تک کہ پوتے پوتےاں اور نواسے نواسےاں خوشبو کی حقیقت کے وہ استعارے ہیں جن سے انسان کاباغیچہ مہک اٹھتاہے اوروہ اپنی لہلہاتی فصل کو دیکھ کر پھولا نہیں سماتا ہے۔دادا،دادی اور نانانانی پیاراور محبت کے وہ پیمانے ہیںجن میں الفت ومحبت کے جام چھلکنے لگتے ہیںاوردنیا کی کسی لغت کادامن اس چھلکتے ہوئے جام کی آسودگی و تراوٹ کو اپنے اندر سمونے سے قاصر ہے۔
اﷲتعالی نے سورة الحجرات میں میں بھی خاندانوں کا ذکرکیا اور فرماےا کہ ”لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادرےاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔درحقیقت اﷲ تعالی کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زےادہ تقوی والا ہے یقیناََ اﷲ تعالی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔“خاندان بعض اوقات تکبر اور فخروغرور کی علامت ہوتا اور بعض اوقات اسکے برعکس بھی ہوتا ہے ،قرآن مجید نے اسکا تدارک کیا ہے کہ برہمن خاندان اس لےے عزت والا نہیں ہے کہ وہ برہمن ہے اورشودر اس لےے نیچ نہیں ہو سکتا کہ اس نے کسی شودر کے گھر میں جنم لیاہے ،یہ خالصتاََ اﷲ تعالی کے فیصلے ہیں کہ کس نے کس کے ہاں پیدا ہونا ہے ،کوئی بچہ اپنی مرضی سے کسی کے ہاں وارد ہو سکتا ہے اور نہ کوئی والدین اپنی مرضی سے بچوں کا انتخاب کر سکتے ہیں پس جس خدا نے اپنی مرضی سے خاندانوں کی تقسیم کی ہے اس کا حکم ہے کہ خاندان کسی عزوشرف کی بنیاد نہیں ہو سکتے بلکہ یہ صرف پہچان کے لےے ہی ہیں کہ جب ایک ہی نام کے متعدد افراد ہوں گے تو وہ اپنے خاندان، قبیلے ےا نسل کی بنیاد پر پہچانے جائیں گے۔خاندانی تفاخر دور جہالت کی یادتازہ کرتا ہے جب کہ عزت کا معےارصرف تقوی ہے کہ کوئی اپنے رب سے کس قدر قریب تر ہے۔اگر بلا ل حبشی رضی اﷲ عنہ میں تقوی موجود ہے تو وہ خاندانی کہتری کے باوجود عزت ووقار میں ابو جہل سے کہیں بڑھ کرہیںجس میں شاید دنیا بھر کی خاندانی وجاہت سمٹ کر جمع ہو چکی تھی۔
آپ ﷺ نے فرماےا کہ” تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھروالوں کے ساتھ اچھاہے اور میں ﷺ بھی اپنے گھروالوں کے ساتھ اچھا ہوں“گوےا انسان کا بہتر ےابدترہونادراصل اسکے گھروالوں کے ساتھ رویے پرمنحصرہے ،دوستوں کے ساتھ،افسر کے ساتھ اور دکان والوں کے ساتھ تو سبھی بہتر ہوتے ہیں لیکن اپنا خاندان،اپنے بچے،اپنی بیوی،اپنے والدین اور اپنے سسرال کے ساتھ کون اچھاہے؟؟یہ اصل سوال ہے۔ایک بار حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھاجو عمر میں ابھی کم سن تھیں انہوں نے تماشا دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا،آپ ﷺ نے انہیں جھڑکنے یا منع کرنے کی بجائے اور باپ یا بھائی سے یہ تقاضا کرنے کی بجائے آپ ﷺ نے خود انکی یہ خواہش پوری کی اورحجاب کے باعث دروازے میں آگے کھڑے ہو گئے اور حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھاآپ ﷺ کے کندھے سے تماشا دیکھتی رہیں،کافی دےر گزر چکنے کے بعد آپ ﷺ نے درےافت کیا کہ کیا تماشا دیکھ لیا؟؟بی بی صاحبہ نے جواب دےا کہ نہیں ابھی اور بھی دیکھنا ہے،ظاہر ہے اس عمر میں دل کہاں بھرتا ہے۔یہ سب سے بڑے انسان ﷺاس وقت تک کھڑے رہے جب تک کہ بی بی کا دل نہ بھر گےا۔بی بی فاطمہ خاتون جنت سے آپ ﷺ کی محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جب بھی وہ تشریف لاتےں تو آپ ﷺ انکے اٹھ کھڑے ہوتے اور ان کے ماتھے پر بوسہ بھی دےتے اور حسنین کریمین شفیقین محترمین تو آپ و کو جان سے عزےزتر تھے،آپ ﷺ انکو اپنے کندھوں کی سواری کراتے تھے اور انہیں جنت کے نوجوانوں کے سرداربھی قرار دےا۔
غزوہ حنین کے موقع پر کم و بیش چھ ہزار افراد غلام بنائے گئے تھے،اس موقع پرآپﷺ کی رضاعی بہن کو لاےا گےا انہوں نے آپ ﷺ سے ملاقات کی اور عرض کیاکہ بچپن میں آپ ﷺ نے ان کی کمر پر دندی کاٹی تھی جس کا نشان آج بھی وہاں پر موجود ہے ،اس بہن نے ان قےدےوں میں سے چند کی سفارش کی جنہیں محسن نسواں ﷺ نے آزاد کر دےا جب یہ بہن باہر تشرےف لائیں تو چھ کے چھ ہزار قےدےوں کے رشتہ دار منت سماجت کرنے لگے کہ خدارا ہمارے قےدےوں کو بھی چھڑالاو¿،یہ بہن اپنے عظیم بھائی ﷺ کے پاس پھر حاضر ہو گئیں اور کل قےدےوں کی رہائی کی بابت سفارش کر ڈالی تب اس بھائی ﷺ کی شان ملاحظہ ہو کہ کمال شفقت و مہربانی سے کل قےدےوں کو رہائی عطا کر دی ،کیسا شاندار بھائی ﷺ اور کتنی ہی محبت والی بہن ،یہ آسمان شاید پھر کبھی نہ دیکھ سکے۔یہ رضاعی خاندانی محبت کی ایک مثال ہے۔
خاندان کی پرورش اﷲ تعالی کے نزدیک بہت عمدہ عمل ہے آپ ﷺ نے بیٹےوں کی پرورش پر جنت کی خوشخبری دی ہے،صالح اولاد کو صدقہ جاریہ قرار دےا،حافظ قرآن و حافظہ قرآن کووالدین کی شفاعت کا مژدہ سنایا ،شہید کی ماں کے دامن کو خدا کی رحمت سے بھر بھر دےااورسخت تاکید کی اپنی اولاد کو اﷲ تعالی کا فرمانبرادار بنائیں اور انہیں سات سال کی عمر سے نماز کی تلقین شروع کر دیں اور دس سال کی عمر میں ان پر سختی کرنے لگیں تاکہ نماز کے معاملے میں وہ سستی سے باز آجائیں۔ہم میں سے ہر کوئی گلہ بان ہے اور اسکے گلے کے بارے میں ہم سے سوال ہوگا۔ہمارا گلہ ہمارا خاندان ہے ہم اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ ہمارے خاندان میں غےرشرعی رسوم و رواج جگہ تونہیں پارہے؟؟ہمارے خاندان میں دولت کے بل بوتے پر ایسی رواےات تو جنم نہیں لے رہیں جنہیںمقابلة غرےب رشتہ دارگھرانوں کو پوراکرنا مشکل ہو جائے؟؟ہمارے خاندان کا رویہ قطع رحمی کا باعث تو نہیں بن رہا؟؟ہمارے گھر میں سکرین کا استعمال کیا خدا اور اسکے رسول ﷺ کی مرضی کے مطابق ہو رہا ہے؟؟اورکیا ہم اپنے خاندان کو دنیا کے رنگ میں رنگ رہے ہیں یا آخرت کا طلب گار بنا کر قرب خداوندی کا باعث بن رہے ہیں؟؟
یورپ اپنی سیکولرسوچ کے باعث آج اپنے خاندانی نظام کو تباہ کر بیٹھا ہے اور اسکی بہت سی وجوہات میں سے ایک بہت بڑی وجہ آزادی نسواںکے نام پرآزادی زنا ہے،اب عمائدین یورپ اپنی پشتوںاورنسلوں کی بقا کے لیے مجبور ہےں کہ خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے کے لےے سال بھر میں ایک دن اس مقصد کے لےے منائےںتاکہ سیلاب،زلزلوں اور طوفانوں میں وہاں کے لوگ اپنے والدین اور بزرگوں کو حالات کے سپردکرکے اپنے کتوں اور بلیوں کے ساتھ بھاگنے کے رویے سے باز آجائیں۔ اس کے مقابلے میں مشرق و ایشیا میںانبیاءعلیھم السلام کا آغاز کردہ ”نکاح‘’‘کاادارہ اپنے جملہ حدودوقےود کے ساتھ موجود ہے،دینی و مذہبی شعورکے باعث یہاں کے گھروں میں دن کاآغازکسی بڑے کی آواز سے بیداری کے بعد شروع ہوتاہے اوردن گھرکی بڑی بزرک خاتون کی کہانی یالوری سے اختتام پزیرہوتاہے۔انسانیت بلآخرانبیاءعلیھم السلام کی تعلیمات کی طرف ضرورپلٹے گی اورہرچڑھتاہواسورج خاندان کی عظمت و برتری کا سورج ہوگااور خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے کے لےے کسی ایک دن کے منانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

42 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y6r7voax
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *