تحریر و بیاں کی حرمت اور صحافت

Print Friendly, PDF & Email

تحریر؛ طاہر محمود آسی
ابتدائے آفرینش سے تحریر و بیان کا تعلق نسل انسانی سے نہائیت قدیم اور گہرا ہے ۔تحریری بیان کی اہمیت کو کسی مقام پر بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔خود ہمارے آقا حضرت محمد ﷺنے معاہدوں اور بیانات کو تحریر میں لانے کا حکم صادر فرمایا ہے ۔تاکہ معاشرے میں امن اور سلامتی کے درس کو فروغ دیا جا سکے ۔تحریروبیاں اور صحافت کا تعلق بھی بہت پرانا ہے ۔2000 سال قبل مسیح میں مارگریٹا نامی اخبار کا اجراءروم میں ہوا ۔اس سے پہلے خبریں چوراہوں پر لکھنے کا رواج تھا جہاز راں جو ملکوں ملکوں آتے جاتے تھے خبروں کا اہم نہائت اہم ذریعہ سمجھے جاتے تھے ۔ہم برصغیر میں 400سال پیچھے جا کر تاریخ کے آئینے میں جھانکتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مغل بادشاہوں نے سرکاری طور پر خفیہ خبر نویس رکھے ہوئے تھے جو تحریری طور پر خبرون کو جاری کیا کرتے تھے ۔بہادر شاہ ظفر کے دور میں ایسے عمل کے ثبوت تاریخ فراہم کرتی ہے 1780ءمیں ہکیز گزٹ Hickey,s Gazetteکے نام سے پہلا پرچہ کلکتہ سے جاری ہوا اسکے علاوہ گوپی چند کے جام جہاں نما نے بھی بڑی شہرت حاصل کی تھی اسکے بعد مشہور انشاءپرواز مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے سچی اور نڈر صحافت کی بنیاد رکھی ۔1857ءکی جنگ آزادی کے پس منظر میں صحافت کے میدان میں میں مجاہدانہ کردار اور جرات ودلیری کا مظاہرہ کیا اور انگریز کے خلاف مسلمانوں کو متحد کرنے کی صحافت کی ۔یہ کام انگریز کو راس نہ آیا اور آپ کو انگریزوں نے شہید کروا دیا ۔1857ءکے بعد جو اخبارات صحیح معنوں میں صحافت کرتے رہے ان میں مولانا محمد علی جوہر کا کامریڈ بھی مشہور تھا اسکے علاوہ اودھ پنچ ،ڈان ، منشور ،ہمدرد ، تہذیب الاخلاق ،سائینٹیفک سوسائٹی،اور پھر روزنامہ احسان اور پیسہ اخبارنے بڑی شہرت حاصل کی اس زمانے میں زمیندار اور پھر نوائے وقت بھی منظر عام پر آگئے ۔مولانا محمد علی جوہر ،مولانا ظفر علی خان ،حسرت موہانی ، چراغ حسن حسرت کی خدمات کو تاریخ صحافت کبھی فراموش نہیں کر سکتی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے سچی اور صاف ستھری صحافت سے مسلمانوں اور اہل بر صغیر کو حقیقتوں سے آشنا رکھا۔سامراج کے دل ہمیشہ ان صحافیوں سے خوف و ہراس میں مبتلا رہے ۔ آزادی کے بعد کی صحافت نے کچھ نئی جہتوں کو رواج دیا ۔جس سے بعض مواقع پر شرمندگی کا احساس بھی ہوا ہے ۔صحافی پرنٹ میڈیا سے ہو یا الیکٹرانک میڈیا سے یا پھر سوشل میڈیا سے صحافی تو پھر صحافی ہوتا ہے جس کا کام ایمانداری ،دیانتداری اور پر خلوص انداز میں معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنا اور انکے حل کے لئے اہل اقتدار سے تقاضا کرنا ہوتا ہے ۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل ایسا نہیں ہے ۔اندر کی خبر باہر آکر کلیجہ پھاڑ رہی ہے ۔بعض خبروں کا حقیقت سے کسی قسم کا کوئی واسطہ تک نہیں ہوتا مگر شہ سرخی کا روپ دھار کر عوامی توجہ اور محفلوں میں زیر بحث موضوع ضرور بنی ہوتی ہیں کیونکہ قدغنیں بہت کم ہیں ۔ صحافی طبقہ تحریر و بیاں کی حرمت اور لفظ کی حقیقت کو سمجھنے والا طبقہ تصور کیا جاتا ہے ۔ مگر دور حاضر میں کچھ کمی کوتاہی کسی نہ کسی جگہ پر ضرور ہے ۔لفظ کی حرمت کے لئے صحافیوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں ،دہشتگردی کے خلاف لڑے ہیں ،اور پھر کئی دفعہ کٹ مرے ہیں ۔یوں تو میرے سامنے کئی مثالیں ہین لیکن ایک دو کا ذکر کرنا ہی بہتر ہو گا ۔ڈاکٹر اکرام حیدر ایک نڈر صحافی تھے جو پولیس مقابلے کی کوریج کرتے ہوئے شیخوپورہ میں شہید ہوئے تھے ،ولی خان بابر کی صحافت کو کون نظر انداز کر سکتا ہے ابھی تک الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا ان کو سلام عقیدت پیش کرتا چلا آرہا ہے ۔طلحہ ہاشمی نے بھی اس میدان میں بہت زخم کھائے ہیں ،حامد میر پر حملہ حرمت تحریروبیاں پر کاری ضرب کے مترادف تھا ،سپوت شیخوپورہ اسد کھرل نے بھی گلشن صحافت کی آبیاری کے لئے اپنا خون بہایا ہے ،حق بیانی کی وجہ سے مجیب الرحمان شامی کو بھی کئی صعوبتیں اٹھانی پڑی ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسطرح تو ہوتا ہے اسطرح کے کاموں میں ،لیکن اچھے اور صاف ستھرے صحافیوں کی کوئی معاشرے میں کمی نہیں ۔ڈاکٹر اجمل نیازی ،مبشر لقمان،ندیم ملک ،اطہر قاضی، سہیل وڑائچ،جاوید چوہدری ،کامران خان ،فیصل اظفر علوی ،ڈاکٹر ایم ایچ بابر ،رشید احمد نعیم ،حسیب اعجاز عاشر ،ابن نیاز،نسیم الحق زاہدی ،سجاد جہانیاں ،ڈاکٹر بی اے خرم ،حامد قاضی ،عرفان صفدر دھوتھڑ ،عقیل خان جیسے بے باک صحافی اب بھی حرمت لفظ اور تحریر و بیان کے تقدس کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں میرے خیال میں یہ مجاہدانہ عمل ہے کیونکہ یہ لوگ بھی تو ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور انہی لوگوں کے بارے میں شائید شاعر نے کہا ہے کہ
تم میرا نام کتابوں سے مٹا دو لیکن
میرے افکار زمانے کو جلا بخشیں گے
دور حاضر میں صحافتی سرگرمیوں میں ملوثہر کسی سے کہتا ہوں کہ محنت سے کام لو سکینڈلز سکوپ کے پیچھے نہ بھاگو تحقیق کی صحافت میں نام پیدا کرو ۔دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر ،انکو بدنام کئے بغیر ،ان سے حسد کئے بغیر ،ان سے الجھے بغیر ان سے آگے نکلنے کا ہنر سیکھنا ہو گا ۔بکاﺅ مال صحافی بننے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ چڑھتے سورج کو سلام کرنے والے ہر دور میں قائم و دائم رہے ہیں ۔ہم چاہتے ہیںکہ اہل قلم کا سر قلم ہوئے بغیر ہر شعبہ میں تبدیلی نطر آئے تمام نتائج حقیقتوں کے مترادف ہونے چاہئیں۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا والی صحافت ختم ہونی چاہئے ۔عزتیں برباد کرنے اور پگڑیاں اچھالنے والی صحافت کے لئے ہمارے معاشرے اور میڈیا میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔اہل قلم اور عوامی مسائل اجاگر کرنے والوں سے بھی یہی تقاضا ہے کہ ساف ستھری اور بے باک صحافیانہ روش کو اختیار کیا جائے ۔احساس دلانا ہمارا اصل مقصد ہے حکومتوں کو بھی خریداری سے باز رہنا چاہئے وسیع و عریض معاشرہ ہے اصلاح کا پہلو ہر وقت موجود ہوتا ہے ۔شہدائے صحافت کا خون رائیگاں نہیں جائے گا انشاءاللہ سچ انقلاب لائے گا
میں نے کانٹوں کو بھی پھولوں کی طرح چاہا ہے
اپنا معیار محبت میں جد ا رکھتا ہوں

60 total views, 6 views today

Short URL: //tinyurl.com/yxcyu6rt
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *