شاعری: احمد نثارؔ

غزل: یوں امتحان لیا خاکداں بنا کے مجھے

شاعر : احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا یوں امتحان لیا خاکداں بنا کے مجھے سمجھ رہا تھا سکوں پائے گا جلا کے مجھے وہ خوش کہاں ہے بتا خاک میں ملا کے مجھے خمار دے گیا نظروں سے وہ پلا کے

غزل: کہاں میں عمر اپنی جاودانی لے کے آیا ہوں

شاعر : احمد نثارؔ کہاں میں عمر اپنی جاودانی لے کے آیا ہوں یہاں میں آسماں سے عمر فانی لے کے آیا ہوں کہوں کیسے کہ میں یادیں سہانی لے کے آیا ہوں مگر ہاں درد میں ڈوبی کہانی لے

غزل: وہ کبھی آپ سے وفا نہ کیا

شاعر : احمد نثارؔ ، مہاراشٹر، انڈیا وہ کبھی آپ سے وفا نہ کیا خود سے خود کو اگر جدا نہ کیا بھول جانا ہی ایک راہ مگر بھول جانے کا حوصلہ نہ کیا خود کو پاؤں یا خود کو

غزل: یہ ستم زری ہے تیری، کہ کوئی ستم نہیں ہے

شاعر : احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا یہ ستم زری ہے تیری، کہ کوئی ستم نہیں ہے تیری خاک زندگی ہے، نہ خوشی نہ کوئی غم ہے میں خدا نہیں ہوں لیکن، پہ خلیفۂ خدا ہوں مرا مرتبہ بھی یارو، یہ

غزل: وہ چمن کا رزداں ہے، یہ چمن ہے رازداں کا

شاعر : احمد نثارؔ وہ چمن کا رزداں ہے، یہ چمن ہے رازداں کا یہ چمن کا راز کھولے، کوئی رازداں نہیں ہے میں سفیرِ کارواں ہوں، وہ ہے کارواں سفر کا مجھے لے چلے جو منزل، کوئی کارواں نہیں

غزل: ظلمتیں بدنام ہونے دیجئے

ظلمتیں بدنام ہونے دیجئے روشنی کو عام ہونے دیجئے کام ہوتا ہے کسی انسان کا شوق سے وہ کام ہونے دیجئے ابتدا کرنا تمہارا کام ہے جو بھی ہو انجام ہونے دیجئے الفتوں کو چار سو پھیلائیے نفرتیں ناکام ہونے

جبیں

شاعر : احمد نثارؔ تو ایک در پہ جھکایا تو معتبر ہے جبیں یہ دربدر ترے سجدوں سے منتشر ہے جبیں تلاش ختم نہ ہو پائی سجدہ گاہی کی یہ کیسے در کے لیے تیری منتظر ہے جبیں ہر ایک

نعتِ شریف: خدا رسولؐ کی نسبت کا فاصلہ دیکھا

شاعر : احمد نثارؔ ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا خدا رسولؐ کی نسبت کا فاصلہ دیکھا خدا کے بعد محمدؐ کا مرتبہ دیکھا میں کیا بتاؤں مدینے میں میں نے کیا دیکھا بڑے ادب سے فرشتوں کا جھومنا دیکھا جہاں

غزل: دیارِ عشق میں تنہا کھڑا، کھڑا ہی رہا

شاعر : احمد نثارؔ ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا۔ دیارِ عشق میں تنہا کھڑا، کھڑا ہی رہا محبتوں کے نگر میں پڑا، پڑا ہی رہا ثمر خلوص و محبت کے تازہ تر ہی رہے کدورتوں کا ثمر تھا سڑا، سڑا

بلکتا دیا (نظم)۔

شاعر : احمد نثارؔ (سید نثار احمد)۔ شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا یوں ہی اُمیدِ زندگی دے کر، کون مجھ کو تباہ کرتاہے یوں تو سب خیر باد کہتے ہیں، کون غم سے نباہ کرتا ہے جانے گذری ہے اُس کے