شاعری: احمد نثارؔ

میرا زندہ اب بھی ضمیر ہے

تیری زلف کا جو اسیر ہے وہ زمانے بھر کا امیر ہے جو زمانے بھر کا امیر ہے تیرے در کا ادنیٰ فقیر ہے تیرا شکریہ میرے اے خدا میرا زندہ اب بھی ضمیر ہے تو خوشی سے مجھ کو

نعت شریف

(احمد نثار، ممبئی، مہاراشٹر) فرشتوں کا ایک جھنڈ سفر پر نکل پڑا! کہکشانوں سے ہوتا ہوا دودھیا راستوں سے گذرتا ہوا بروجوں سے ستاروں کی دنیا سے راستہ کرتا ہوا لا کے فلک سے اِلہ کے سماں تک تیرتا ہوا کہیں

نام مٹنے لگے کعبے کے نگہبانوں کے

شاعر: احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا حوصلے کیا ہوئے بتلاؤ مسلمانوں کے نام مٹنے لگے کعبے کے نگہبانوں کے نا ہی پیمانے کی پہچان نہ مئے کی خواہش بند کردیجئے دروازے یہ میخانوں کے آبلے دل کے سنبھلنے نہیں دیتے اس

شرم سے چور ہوگیا شیطاں

شاعر: احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا کارِ انساں پہ رو گیا شیطاں کیسے الزام ڈھوگیا شیطاں کام انساں کا نام شیطاں کا نام بدنام ہوگیا شیطاں آدمی آدمی کا دشمن ہے بیج کیسے یہ بوگیا شیطاں اپنے بھائی کے خون کا

ایک اک نغمہ مرے دل کی صدا لگتا ہے

شاعر : احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا با وفا لگتا ہے نہ شخص برا لگتا ہے جانے کیا بات ہے پر سب سے جدا لگتا ہے تب سے پتھر بنے بیٹھا ہے صنم خانے کا ہم نے اک بار کہا تھا

اب نہ جاگو گے تو پھر بیکار ہے

شاعر: احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا اب نہ جاگو گے تو پھر بیکار ہے سوچ لو یہ وقت کی للکار ہے کیا عجب دل کیا عجب دلدار ہے تیرے گلشن میں نہ گل، نہ خار ہے میان ہے نہ دھار کی

یہ میرے نصیب کی بات ہے

شاعر : احمد نثارؔ ، ماراشٹر، انڈیا وہاں آج میں بھی پہنچ گیا، یہ میرے نصیب کی بات ہے جہاں رحمتوں کا نزول ہے، وہ درِ حبیبؐ کی بات ہے تجھے لطفِ زیست ملا نہیں، تیرا رنج دور ہوا نہیں

وہ سراپا حق تو میں بھی شاعرِ باطل نہ تھا

شاعر : احمد نثارؔ کون ہے جو زندگی میں حاجتِ منزل نہ تھا شکر ہے وہ ریگزاروں سے یہاں غافل نہ تھا آپ کے دل پر ذرا سی چوٹ پر اکھڑا گئے جب میرا دل ٹوٹتا تھا کیا وہ میرا

اٹھ جائے تیری ذات سے پھر اعتبار دیکھ

شاعر: احمد نثار، ماراشٹر، انڈیا میرا شکستہ حال میرا انتظار دیکھ اْٹھ جائے تیری ذات سے پھر اعتبار دیکھ تیری نگاہِ لطف کا دیرینہ منتظر کیسے ہوا ہے میرا جگر تار تار دیکھ اْڑ جائے نہ قفس سے کہیں روح

میرے سارے رازِ ہستی، کیا بےنقاب تو ہے

شاعر: احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا شبِ زیست کے فلک پر میرا ماہتاب تو ہے میرے غنچئہ وفا پر جو کھلا گلاب تو ہے جو شمع امید کی تھی تیری ذات سے جلی تھی اے تصورِ شکستہ پسِ اضطراب تو ہے