سانحہ پشاور

گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

تحریر: ثناء اللہ مزاریشمائلہ نے دوپہر 12:00 بجے کی خبریں سننے کے لئے ٹی وی آن کیا، دیکھا کہ آرمی پبلک سکول میں قیامت بر پا ہو چکی تھی. ٹی وی اینکرز روتے ہوئے اپڈیٹس دے رہے تھے. ہر طرف

سولہ دسمبر، پھولوں کے جنازوں کا دن

تحریر: ڈاکٹر رئیس صمدانیجی ہاں یہ دن تھا ٹھیک چار سال قبل 16دسمبر2014ء کا ، جس دن دہشت گردوں نے سفاکیت ، بربریت کی ایسا مثال قائم کی تھی کہ دنیا میں شاید ہی کوئی اور مثال ایسی مل سکے۔

۔16 دسمبر :عزم تعلیم کا دن

تحریر : محمد عنصر عثمانیبہت سے حادثات ایسے ہوتے ہیں جو ملک ،قوم، معاشرے کو ایسی کیفیت سے دوچار کردیتے ہیں جن کی حرارت نسلوں تک محسوس کی جا سکتی ہے۔ 16 دسمبر اب ہماری تاریخ کاحصہ بن چکا ہے۔16

سانحہ پشاور ایک داستانِ رنج و الم

تحریر :مروا ملک تمام عالم کیلئے رحمت بن کر آنے والے رہبرِ کامل محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات رہتی دنیا تک تمام انسانوں کیلئے کامل نمونہ ہے۔آپ ﷺ نے جہاں بڑوں کا احترام سکھایا وہیں بچوں پر رحم کرنے کی

شہید پھولوں کی داستان،سانحہ پشاور

تحریر: اختر سردار چودھری،کسووال ملکی ہی نہیں انسانی تاریخ کے سیاہ ترین دن 16 دسمبر 2014ء کا سورج طلوع ہوا ۔ کسے کیا خبر تھی کہ یہ دن ملک کی تاریخ میں ایک اور سانحہ کے طور پر یاد رکھا