افسانچہ

کہانی خود سے شروع ہوتی ہے

آٹھویں تک میں انتہا درجے کا نکما طالبِ علم تھا ۔ انگلش میں تو ہاتھ تنگ تھا ہی دس سال کی تگ ودو کے بعد اُردو بھی ٹھیک سے پڑھنی نہیں آئی تھی۔ نویں جماعت میں ہوتے ہوئے بورڈ کے

ضمیر ہوم۔۔۔۔ مصنف : اویس علی

دور سے کہیں چیخنے چلانے ، رونے اور سسکیاں لینے کی آوازیں آرہی تھیں قریب جانے پر دیکھا کے ایک بڑا سا مکان ہے جس میں بڑا بڑا لکھا تھا ’’ضمیر ہوم ‘‘ پہلے تو سمجھ نہیں آئی کہ یہ

سپّاٹ۔۔۔۔ مصنفہ: مریم جہانگیر

میرے اور تمہارے درمیان ہے ہی کیا؟ ایک بودا سا رشتہ نہ جسے دنیا شادی کا بندھن کہتی ہے جو میرے لئے فقط ایک بوجھ ہے۔ تمہاری اوقات ہی کیا ہے؟ تین لفظ طلاق کہوں تو تمہارا نام تک بدل

اُردو ریل

شہر پونہ سے ممبئی جانے والی ریل، دکن کوین، اپنی تیز رفتار ی سے جارہی تھی۔ کھڑکی سے باہر بیش بہا مناظر ، مہاراشٹر کے مغربی گھاٹ جنہیں مہاراشٹر گھاٹ کے نام سے بھی جاناپہچانا جاتا ہے۔ فطرت کے خوشنما

دوستی کا قرض

رات کے ایک بجنے کو تھے ،مگر مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔میرے اندر انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔میں جلد از جلد انتقام لینا چاہتی تھی۔ماما،پاپا کو سوتے ہوئے چھوڑ کر میں ٹیرس پر چلی آئی۔نیلے آسمان پر بادل ہوا

ہم وہ نہیں جن کو زمانہ بنا گیا۔۔۔۔ تحریر: شاہ فیصل نعیم

۲۷ جون ۱۸۸۰ء کو اُس کا جنم ہوا ، ۶ ماہ کی عمر میں بولنا اور ایک سال کی عمر میں اُس نے چلنا سیکھ لیا تھا۔ اُس کی اتنی جلدی سیکھنے کی رفتار کو دیکھتے ہوئے کسی کے لیے

ماں کا قرض۔۔۔۔ افسانہ نگار: مجیداحمد جائی،ملتان

عدیل نے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی۔اُس کے پیدا ہونے کے چند ماہ بعد ہی اس کے والد وفات پا گئے۔اُس کی ماں نے بڑی چاہا سے،محبت سے ،پیارسے اُس کی پرورش کی۔اُسے ماں ،باپ دونوں کا پیار دیا۔باپ

سوگ زندگی کا۔۔۔۔ افسانہ نگار: مجیداحمد جائی، ملتان

بہار کی رُت ہر طر ف اپنے پر پھیلائی کھڑی تھی۔پھولوں کی مہکار،بھینی بھینی خوشبو دل کو لبھارہی تھی۔ٹنڈ منڈ درختوں پر جوانی چلی آئی تھی۔کونپلیں نئی نویلی دولہن کی طرح اکڑا کر،ایک دوسرے کو بانہوں میں لئے جھول رہی

محبت نا محرم تو۔۔۔۔ تحریر: صباحت رفیق، گوجرانوالہ

میری زندگی کی کتاب کا ہے لفظ لفظ یوں سجا ہوا سر ابتدا سر انتہا تیرا نام دل پہ لکھا ہوا عدن۔۔۔!عدن۔۔۔!خدا کے لئے چپ ہوجاؤ یار۔۔کیا پاگل پن ہے یہ؟زمرہ نے عدن کے چہرے سے چادر ہٹاتے ہوئے کہا

نیکی کا بدلہ ۔۔۔ ؟ |انتخاب: کامران لاکھا، جام پور

ایک آدمی جنگل سے گزر رہا تھا اور جنگل میں آگ لگی ہوئی تھی جھاڑیوں میں سانپ آگ میں پڑا ہوا تھا آدمی نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو نکال لیا اور بچالیا ۔سانپ بولا میں اب تجھے ڈسوں