٭ ڈاکٹر فوزیہ عفت ٭

سم قاتل

تحریر: فوزیہ عفت بھٹی ڈاکٹر جمیل اپنی لیبارٹری میں کام میں مگن تھا سوچ و بچار نے اس کے ماتھے کی شکنوں میں اضافہ کر دیا تھا اس نے بیس سال کی طویل جدوجہد اور ریسرچ سے ایک ایسی دوا

پہچان

تحریر:  ڈاکٹر فوزیہ عفت عجیب سرد خانے کی سی ٹھنڈک ۔سیلن ذدہ بوسیدہ ہڈیوں کی ناگوار بو اس کے نتھنوں سے ہوتی دماغ میں اتر گئی .ایک کرخت با رعب آواز کی گونج ابھری ۔اپنی پہچان بتاؤ؟سوال تھا کہ لٹھ

میرے وطن تو سدا قائم رہے

وہ صحن میں کتاب ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی مگر اس کی نظر اونچے بلند پرواز کرتے پرندوں پہ تھی۔جو ہوا سے اٹھکیلیاں کر رہے تھے ۔اس کی نگاہوں میں تجسس اور ہونٹوں پہ الوہی مسکراہٹ تھی۔مجھے بھی اڑنا ہے

آزادی کی قیمت

  غضب خدا کا پاکستان کا اعلان کیا ہوا سب کے دل ہی بدل گئے بانو بوا  جلدی جلدی سامان گٹھڑی میں باندھتے بڑبڑائیں۔ اماں ہم پاکستان جا رہے ناں۔ سولہ سالہ کبری نے فرط اشتیاق سے  پو چھا۔شش چپ کسی

رہنما یا رہزن۔۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت

میں ایک لکھاری ہوں اور ادب سے وابستہ ہوں ،ہمیشہ سے کوشش کرتی ہوں کہ معاشرے میں لگنے والی گھاتوں سے اس دیس کے رہنے والوں کو جو میرے اپنے ہیں آگاہ کروں انہیں باخبر رکھنے کی ادنی سی کوشش

ہار

وہ گرو کے گھٹنے پہ سر رکھے سسک رہا تھا ۔ میں ہار گیا گرو میں ہار گیا یہ دنیا بہت ظالم ہے ۔گرو نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور اسے اٹھا کر گلے لگا لیا ۔دل کا

غمِ زیست

کالج کے وسیع لان میں لڑکیوں کا گروپ بیٹھا خوش گپیوں میں مشغول تھا ۔باتیں ،قہقہے،نمکو اور چپس کی چھینا جھپٹی ۔وہ سب بے حد مسرور دکھائی دیتی تھیں ۔ہانیہ نے کھڑے ہو کے کپڑے جھاڑے اور کمالِ بے نیازی

مکافاتِ عمل

وہ ادھر ادھر متلاشی نظروں سے دیکھ رہی تھی پھر اس کی نظر بورڈپر پڑی اس نے برقعے کا نقاب نیچے گرایا اوردکان پر لگے بورڈ کی طرف بڑھ گئی۔بورڈ پر جلی حروف میں لکھا تھا ساحری بنگالی بابا،جادو ٹونا

پگلی

وہ ٹھوکریں کھاتی مغلظات بکتی بھاگ رہی تھی چند بچے ہاتھوں میں پتھر لیے اس کے پیچھے تھے ۔وہ مختلف گلیوں میں اس کا پیچھا کرتے رہے پھر اس کھیل سے اکتا گئے ۔اور اپنے اپنے گھر چل دئیے۔انسان بھی

کچھ الجھی سلجھی باتیں

چاچا دینو ہمارا پڑوسی ہوا کرتا تھا ،ہماری بلڈنگ کے سامنے لبِ سڑک پہ اس کی جھگی نما دکان تھی ۔وہ ہر وقت سر نیہوڑے ہتھوڑے سے لوہا کوٹتے دکھائی دیتا اس کی مرنجاں سی بیوی گھر داری میں ہی