سندھ میں ہسپتالوں کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال

Print Friendly, PDF & Email

تحر یر : محمود مولوی (مشیر برائے بحری امور )
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صوبہ سندھ میں محکمہ صحت انتہا سے زیادہ ناقص اور تباہ حال ہے، سال 2018 بجٹ کا 1.4ٹریلین پاکستانی روپے تھا جس میں سے 13فیصد شعبہ صحت کے لیے مختص کیا گیا تھا،بجٹ پیش کرتے وقت چیف منسٹر سندھ نے اچھی اچھی باتیں کیں کہ تمام ہسپتالوں کو بہتر کریں گے کراچی کے لیئے 200ایمبولینسز کا پروجیکٹ ہوگا، نیو رینٹل کیئر ہوگی ، پاپولیشن ویلفئیر کے لیئے کام ہوگا، لیکن آج افسوس ہم دوسرے بجٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں کوئی بھی چیز positiveنہیں ہو رہی ہے،آخر وجہ کیا ہے؟ ۔اس کی سیدھی وجہ حکمرانوں کی عدم توجہہ ہے جن کے لیے وعدہ کرنا آسان مگر نبھانا اتنا ہی مشکل ہوتاہے ،یہ سب جب اپنی آنکھوں سے دیکھا تو احساس ہوا کہ پاکستان بھر کے لوگ سندھ میں صحت کی ناقص صورتحال پر کیوں تنقید کرتے ہیں ،اس میں سے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ کی جتنی بھی ہسپتالوں میں بھرتیاں ہیں وہ تما م کمزور اور من پسند افراد پر مشتمل ہیں ، ہم چاہیں ٹنڈو الہیار کی بات کریں ، سانگھڑ، بدین ، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، کراچی ، جامشورو، سجاول، ٹھٹھہ، ماتلی، شہدادکوٹ یا پھر کسی بھی ضلع کی سب ہی ہستپالوں کا بہت برا حال ہے ، سب سے چھوٹا جو اس شعبے کا یونٹ ہے وہ ہے بی ایچ یو، بنیادی صحت مرکز، جہاں ایک بیسک ڈاکٹرہوتاہے، ایک نرس ، ایک گائناکالوجسٹ ہوتی ہے، اور روز مرہ کی دوائیں ہوتی ہیں جو کہ روٹین میں ہونے والی بیماریاں جیسے ڈائریا ہوگیا بچے کو، بزرگوں کا کوئی علاج ،وغیرہ روزانہ کی بنیادوں پر چیک ہوتے ہیں ، اس کے بعد آتا ہے ان کا ڈسٹرکٹ ہیلتھ یونٹ جو اس سے بڑا ہوتا ہے اس میں زیادہ ڈاکٹر ہوتے ہیں اسٹاف زیادہ ہوتا ہے اس کے بعد آتا ہے ان کا تعلقہ ہسپتال ، اور تعلقہ ہسپتال ہوتا جو مکمل سہولیات سے آراستہ ہسپتال ہوتا ہے جس میں بیڈ لگے ہوتے ہیں ، ڈسٹرکٹ ہسپتا ل میں بھی بیڈ ہوتے ہیں مگر کم ہوتے ہیں ، جیسا کہ پچیس یا تیس جبکہ تعلقہ ہسپتا ل جو اس میں تقریبا 80یا 100بیڈ ہوتے ہیں جو ہر ضلع میں ہوتا ہے اور اس میں سرکار کی طرف سے تمام طبی سہولیات بھی میسر ہوتی ہیں جیسا کہ سینے کے امراض ، دانتوں ، آنکھوں ، دل کا اور ہر شعبے کا ڈاکٹر میسر ہوتاہے جو تمام شعبوں کو کور کرتا ہے اور آپریشن کی سہولیات بھی وہاں ہوتی ہیں ، کنسلٹنی ، سرجری ، او پی ڈی، آﺅٹ پیشنٹ، ان پیشنٹ، تما م چیزیں تعلقہ ہسپتال کے زمرے میں آتی ہیں مگر در حقیقت ہر ہسپتال میں جب ہم جاتے ہیں تووہ 80 بیڈ کا ہسپتال ہے ، سیکشن ڈاکٹر پچاس ہیں اور بھرتی جو ہیں وہ پندرہ سے بیس ہیں یعنی جتنے سلیکٹڈ ہوتے ہیں اس کے تیس فیصد بھرتی ہوتے ہیں اور اس تیس فیصد میں سے آدھے سے بھی کم جو ہیں وہ حاضر ہوتے ہیں اور باقی ڈاکٹرز ہیں ان کی ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے اپنے اپنے علاقوں میں بیٹھ کر پرائیویٹ کلینک کھول کر پیسہ کما رہے ہوتے ہیں، اور سرکاری ہسپتالوں میں وہ کبھی کبھی چکر لگالیتے ہیں اور ان کی سرکار کی جانب سے تنخواہ باقائدگی سے آ رہی ہوتی ،یہاں تک کے جو صفائی ستھرائی کا ساما ن ہے اس میں بھی ڈنڈی ماری جاتی ہے، مثال کے طور پر صفائی کی 500بوتلیں ماہانہ اسٹاک میں دی جا رہی ہیں تو ان کے اسٹاک میں 10یا 11تاریخ کو کوئی فنائل کی پچیس یا تیس بوتلیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں، تو ظاہر سی بات ہے وہ ہسپتال میں آرہی ہیں مگر وہ مارکیٹ میں دوبارہ بیچ دی جاتی ہونگی،پورے ہسپتال میں صرف ایک ایم ایس کاکمرہ ہوگا جو صاف ستھرا ہوگا، وہاںاے سی لگا ہوگا ، ٹی وی چل رہا ہوگا، خبریں آرہی ہونگی اور مگر ایم ایس صاحب سکون سے بیٹھے ہونگے ، کوئی مریض آجاتاہے تو اس کو کوئی درد کی گولی دے کر کہتے ہیں کہ آپ کراچی چلے جائیں ، میرپورخاص چلے جائیں ، یا آپ حیدرآباد جائیں ، ان تین شہروں کے نام لے کر ان تمام اضلاع میں مریضو ں کو کنارے پر لگا دیا جاتا ہے کہ آپ یہاں چلے جائیں ، دوائیں جو لوگوں کو فری ملنا چاہیے ان میں بے انتہا کی کرپشن ہے کوئی کمپیوٹرائزڈ سسٹم نہیں ہے اس کو ڈاکومنٹ کرنے کاکوئی سسٹم نہیں ہے ، اسٹاک انچارج کی وہی کھاتے داری چل رہی ہوتی ہے دوا کتنی آ رہی ہے جتنے مریضو ں کو دی گئی کیوں نہیں دی گئی ، اور اسٹاک کتنا ہے وہ سب ان کی من مرضی اور منشا پر چل رہا ہے اس کی کوئی ریکارڈ نہیں ہے ، اس کاکوئی ہمیں وہ آڈٹ نہیں دکھا سکے ، کہ اگر ایک سال میں ہمیں اتنی دوائیں دی گئی تھیں تو یہ ہے ان مریضوں کی تفصیل جنہوں نے یہاں سے فیض حاصل کیا اور یہ دوائیں ان کو دی گئیں ، جس ہسپتال میں کم سے کم دو سو یا تین سو ایس کے یو استعما ل ہونے چاہیں فارمیسی اسٹا ک کے وہاں پندرہ سے بیس ایس کے یو رکھے ہوئے ہیں ایک الماری ہوتی ہے تالہ بند اور ایک چھوٹا سا کمرہ ہوتاہے واش روم کی طرح وہاں پر سب کچھ پڑ ا ہوتا ہے ، آکسیجن کی سہولت کہیں نظر نہیں آئی یا تو بہت کم ہے یا پھر نہ ہونے کے برابر ہے، اور ایک اور اہم بات تقریبا ہر ہسپتال میں ہمیں ایک قبرستان نظر آیا وہ قبرستان کس کا ہے وہ وہاں کی ایمبولینسز کا ہے ہر ہسپتال میں دو سے تین سیکشن ایمبولینسز ہوتی ہیں کسی بھی لحاظ سے چلنے کے قابل تو نہیں ہونگی لیکن ان کا اسٹریکچر ضرور کھڑا ہوگا ، ۔یہاں تک کہ ابھی جو آخری بدین کے تعلقہ ہسپتال میں ہم نے وزٹ کیا وہاں ایک مریض کولگی ہوئی ڈرپ وہی بیڈ پر لٹک رہی ہے مریض چلا گیا ہے اوروہی آدھی نمکیات والی ڈرپ اور وہی سرنج دوسرے مریض کو لگا کر اسکا علاج شروع کر دیا جائے گا، یہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئے ہیں ایک خاتو ن مریض کی ڈرپ ختم ہوئے وے تین گھنٹے ہوگئے تھے مگر کوئی نکالنے والا نہیں تھا ، ایک تعلقہ ہسپتال میں ہم گئے دیکھا کہ زینٹیکس کا ان کے پاس اسٹا ک تھا ، اور ہم نے مریضوں کے فائلیں دیکھیں تو ہر مریض کی فائل پر زینٹیک لکھی ہوئی تھی ہم نے جب پوچھا کہ بھائی ہر مریض کو زینٹیک کیوں دی گئی تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا یہ جرم کے زمرے میں آتا ہے کہ کسی مریض کو دوا کی ضرورت نہیں ہے اور آپ صرف اسٹاک کلیئر کرنے کے لیئے اس کو اندھا دھند مریضو ں کو لگا رہے ہیں،حتی کہ لیاقت یونیورسٹی آف سائنسز کا لینگز کا ہسپتال مراد علی شاہ کے حلقے میں ہے اس کا افتتاح 2014میں ہوا ہے کچھ سال پہلے اور کچھ ہی سالوں میں اس کی چھتیں اور دیواریں خستہ حال ہو چکی ہیں ، انتہا کی کرپشن ہے کوئی لائٹ ٹھیک نہیں ہے، دیواریں رس رہی ہیں ، جبکہ ہر جگہ پر جو میڈیکل سپریٹنڈنٹ موجود ہیں وہ سیاسی بھرتیاں والے ہیں ان کو اپنی ذمہ داریاں کا پتہ ہی نہیں ہے،سانگھڑ کے تعلقہ ہسپتال میں ایک نیو بورن بچوں کا آئی سی یو یونٹ تھا جب اندر جا کہ دیکھا تو ایک معصوم بچہ جس بے بی کوٹ میں تھا جس میں نیو بورن بے بی کو رکھا ہوا تھا وہ تین اینٹوں پر ٹکا ہوا تھا، نیو رینٹل میں کوئی ایکوویٹر نہیں تھا، گارنٹی کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سندھ کے جو ہسپتال ان میں بچوں کو پیدائشی ٹیکے بھی صیح سے نہیں لگائے جا رہے ہونگے،جب سرکاری ہسپتالوں کا یہ حال تو عوام تو مجبو ر ہے پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے کے لیئے کیونکہ علاج تو آخرکروانا ہے نہ اب وہ بھینس بیچیں یا موٹر سائیکل بیچیں ، جانا پڑتا ہے، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن جس کے دو مینڈیٹ ہیں لیکن افسوس کے ساتھ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اپنی ذمہ داریوں میں مکمل طور پر ناکام ہے ، اس کمیشن کا یہ حال ہے کہ ان کے پاس کوئی جامع لسٹ نہیں ہے جس میں یہ تفصیلات ہوں کہ اتنے ہسپتال ، اتنے بلڈ بینک، کتنے پرائیویٹ کلینکس ہیں جب آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ کہاں پر کیا کیا ہے تو آپ کیا دیکھیں گے کہ کیا ہے اچھا ہے یا برا ہے تو پہلے قدم پر شدید طریقے سے ناکام ہیں کراچی میں دارالصحت کاواقعہ سب کو پتہ ہے اتنے بڑے شہر میں یہ واقعہ ہوا کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، اس کے بعد کورنگی میں ایک خاتون کو غلط انجیکشن لگا دیا جو ایک ڈینٹل کے پاس علاج کے لیے گئی تھی ، المیہ تو یہ ہے کہ کسی بھی پرائیویٹ کلینک پر یا ہسپتال میں کوئی واقعہ یا سانحہ ہو جاتا ہے تو کوئی ون ونڈو سروس نہیں ہے، کوئی شکایت سیل نہیں ہے آج کے جدید دور میں بھی کوئی ایسا سسٹم نہیں ہے جس کے تحت کم ازکم ایک آدمی اپنی شکایت ہی در ج کرواسکے ۔
کالم: محمود مولوی ۔
ؑ

150 total views, 9 views today

Short URL: //tinyurl.com/y4guh6xx
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *