٭ مختصر کہانیاں ٭

روک سکوتوروک لو

تحریر: ابنِ آدموہ بے چارہ غریب تھا۔عمرساٹھ سال کے قریب تھی۔ٹوٹاپھوٹااس کاکرائے کاگھرتھا۔کھانے والوں کی تعدادآٹھ تھی اورکمانے والاوہ ایک۔وہ خودبھی مریض تھااورگھرمیں بھی تین کومرض لاحق تھا۔وہ روزانہ شالیمارچوک میں امرودوں کی ریڑھی لگاتا۔کبھی شام کے کھانے کے پیسے

گلابی کبوتر

فرات حسین کیلگری، کینیڈاشیر مسند پر براجمان تھا اور ننھے مدعی گلابی کبوتر غم سے نڈھال۔ شکرا سر نیہوڑے نچلی شاخ پہ بیٹھا تھا۔ اس کوشریر پہاڑی کوا شکارکرنا تھا لیکن اس نیساتھ اڑنے والے کبوتروں کو بھی نوچ ڈالا۔

مکافات عمل

تحریر: نیشاء وقار، کراچی کسی کی زندگی میں آگ لگا کر اسے دکھی اور غمگین کر کے ہمیں لگتا ہے ہماری سازشیں کامیاب ہوگئیں ہیں اپنی جلن اور حسد میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جب مکافات عمل شروع ہو

رشوت کی زنجیر

تحریر: مختار احمد قادری مل مزدور اتنا مظلوم طبقہ ہے کہ مار کھانے کے باوجود کھل کر رو بھی نہیں سکتا ایک وقت تھا جب سرکاری نوکری پر لوگ ملوں میں کام کرنے کو ترجیح دیتے تھے.ملوں میں بے بہا سہولیات

وقت

وقت تحریر۔تبسم فاطمہ رضوی، کراچیوقت ظآلم ہے کہ مہرباں فیصلہ کیسے ہو کبھی یہ ڈھیر ساری خوشیاں دامن میں بھر دیتا ہے اتنے پھول بکھیر دیتا ہے آپ کے اطراف کہ دامن میں سمیٹنا مشکل ہوتا ہے آنکھوں میں رنگ،لب

رشتے

تحریر۔بی اے ندیمشایان بیٹا ہم محبت کرنے والے لوگ ہیں۔اور محبت میں ضد اور مقابلے بھی تو نہیں کیے جاتے۔جوں ہی دادی بولیں ارحم پھٹ پڑا لیکن دادی جان عائشہ کو بھی تو خیال رکھنا چاہئے وہ کیوں مجھ سے

پلٹنا ہو گا

تحریر : محمد عرفان قمر سیالویمیں نے ایک جگہ پڑھا تھا جس قوم کو تباہ کرنا ہو اس قوم میں بے حیائی عام کر دو وہ قوم خود بخود تباہ و برباد ہو جائے گی۔ مگر میں اس بات کو

غیبت

تحریر بنتِ نذیربرآمدے میں رکھی بان کی چارپائی پر بیٹھی آصفہ اپنی نئی نویلی چھوٹی دیورانی کو ساس کی برائیاں بڑھا چڑھا کر بتا رہی تھی، ارے نوری یہ عورت بس بیٹھ کر حکم چلانے کے لیے ہے تم اسکی

تخیل کی پرواز

تحریر۔ صاحب کپور، ضلع منڈی بہاؤالدینسوچ کا سفر ایک ایسا سفر ہے جہاں صرف ہم ہوتے ہیں اور ہماری سوچ، جہاں ہمارا دنیا سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ہمارے تخیل کی پرواز ہمارے دماغ میں گردش کرنے والے الفاظ پہ

انگریزی تعلیم تو ضروری ہے نا باجی

تحریر: پاپونش ملکہمارے گھر میں چھوٹا بچہ نا ہونے کی وجہ سے محلے کے اکثر وبیشتر بچے ہمارے ہی گھر پائے جاتے ہیں۔ایک دن ایک بچے کی ماں ہمارے گھر آئی۔ باتوں ہی باتوں میں میں نے پوچھا۔ آپ کا