شبِ برات! فضائل، برکات اور خصوصی عبادات۔۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر ایم اے قیصرؔ

Print Friendly, PDF & Email

شعبان اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے ، یہ بڑی عظمت و برکت والا مہینہ ہے ، یہ مہینہ شہر التوبہ بھی کہلاتا ہے اور نبی پاک ﷺ کا مہینہ ہونے کی نسبت بھی رکھتا ہے۔ اس مہینے کی پانچ تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی، سولہویں تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا اور پندرھویں رات کو شبِ برات کہا جاتا ہے ۔ شب کے معنی رات اور برات کے معنی بری ہونے یا قطع تعلق ہونے کے ہیں چونکہ اس رات کو مسلمان جہنم کی آگ سے بری ہوتے ہیں یا قطع تعلق ہوتے ہیں اس لئے اسے شبِ برات کہا جاتا ہے۔حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی فرماتے ہیں کہ’’ اولیاء کاملین اور مشائخ شریعت و طریقت اس مبارک رات کو اس کی شان اور عظمت کے پیشِ نظر لیلۃ الرحمۃ یعنی نزولِ رحمت کی رات، لیلۃ المبارکہ یعنی برکت والی رات، لیلۃ البراۃیعنی دوزخ سے نجات والی رات اور لیلۃ الصک یعنی تقسیم امور کی رات، کے ناموں سے بھی پکارتے تھے‘‘۔
ارشادِ ربانی ہے کہ ’’اس رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔(سورۃ الدخان) ‘‘حضرت ابو بکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک ﷺ نے فرمایا ’’اے مسلمانو! شعبان کی پندرھویں رات کو عباد ت کے لئے جاگتے رہو اور اس کامل یقین سے ذکر و فکر میں مشغول رہو کہ یہ ایک مبارک را ت ہے اور اس را ت میں مغفرت چاہنے والوں کے جملہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ‘‘ ایک اور حدیث مبارکہ میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ ’’جب شعبان کی درمیانی رات آئے تو رات کو جاگتے ہوئے قرآنِ کریم کی تلاو ت کی جائے اور نوافل میں مشغول ہوا جائے ، روزہ رکھا جائے کیونکہ اس رات اللہ اپنی صفات رحمن و رحیم اور رؤف کے ساتھ انسانیت کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور خدا کا منادی پکار رہا ہوتا ہے کہ ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کر دوں، کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کا سوال پورا کر دوں، کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اسے حلال وافر رزق عطا کر دوں، اور یہ صدائیں صبح تک جاری رہتی ہیں۔‘‘۔
اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا ’’یا رسول ؐاللہ۱ماہِ شعبان میں آپ روزے رکھتے ہیں ، اس کی کیا وجہ ہے؟ ‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’عائشہؓ یہ ایسا مہینہ ہے کہ باقی کے عرصے میں مرنے والوں کے نام ملک الموت کو لکھ کر اس ماہ میں دے دئیے جاتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ جب میرا نام دیا جانے لگے تو میں حالتِ روزہ میں ہوں۔‘‘(غنیہ الطالبین) آپؓ پھر فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات حضور ﷺ کو نہ دیکھا ، جستجو کی تو آپ ﷺجنت البقیع میں مجھے مل گئے، آپ ﷺ نے فرمایا ’’ کیا تمہیں اس بات کا ڈر تھا کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ تمہاری حق تلفی کریں گے؟‘‘ میں نے عرض کی ’’ یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے خیال کیا تھا کہ شاید آپ ﷺ ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس تشریف نہ لے گئے ہوں ‘‘ تو سرورِ کونین ﷺ نے فرمایا ’’ بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات آسمان دنیا پر تجلی فرماتا ہے پس قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ گنہگاروں کو بخش دیتا ہے۔‘‘تاریخ میں لکھا ہے کہ بنی کلب قبیلہ، عرب قبائل میں سے سب سے زیادہ بکریاں پالتا تھا۔
یہ رات بخشش کی رات ہے اس رات فجر تک اللہ پاک کی طرف سے مسلسل منادی کی جاتی ہے کہ ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ میں اُسے معاف کر دوں اس کے باوجود بھی کچھ بدنصیب ایسے بھی ہیں جن کی اس را ت میں بھی بخشش نہیں ہو گی۔ کچھ روایات کے مطابق وہ بدنصیب شرابی، زانی، والدین کے نافرمان، قطع تعلق کرنے والے، فتنہ باز اور چغل خور ہیں اور بعض روایات کے مطابق کاہن، جادوگر اور سود خور بھی ہیں۔ حدیثِ مبارکہ ہے کہ ’’بے شک اس رات اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو بخش دیتا ہے مگر اس رات کاہن اور جادو گر اور دل میں دشمنی رکھنے والے، شراب کے عادی، ماں باپ کے نافرمان اور زنا کے عادی کی بخشش نہیں ہوتی (جب تک یہ لوگ سچے دل سے توبہ کر کے باز نہ آ جائیں)۔
ارشادِ نبوی ﷺ ہے ’’ اس رات میں سال بھر میں پیدا ہونے والے ہر بچے کا نام لکھا جاتا ہے، اسی رات مخلوق کا رزق تقسیم ہوتا ہے، اسی رات ان کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں، اسی رات مخلوق کی عمر، ان کی روزی اور حاجیوں کے نام بھی لکھے جاتے ہیں اور بہت سے کفن دھل کر تیار رکھے ہوئے ہیں مگر کفن پہننے والے بازاروں میں گھوم رہے ہیں، بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی قبریں کھدی ہوئی تیار ہوتی ہیں مگر ان میں دفن ہونے والے خوشبو میں مست ہوتے ہیں، بہت سے لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں حالانکہ ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ چکا ہوتا ہے، بہت سے مکانات کی تعمیر کا کام مکمل ہونے والا ہوتا ہے مگر مالک کی مو ت کا وقت بھی قریب آ چکا ہوتا ہے۔‘‘
غنیہ الطالبین کا ایک واقع ہے، ’’ حضرت عیسی علیہ السلام کا ایک بار ایک پہاڑ پر سے گزر ہوا اور وہاں آپؑ کی نظر ایک بہت بڑے پتھر پر پڑی۔ آپ اس پتھر کو حیر ت سے ملاحظہ فرما رہے تھے کہ اللہ نے آپؑ پر وحی نازل فرما دی کہ اس سے بھی عجیب تر چیز آپؑ پر ظاہر کروں؟ لہذا وہ پتھر شک ہو گیا اور اس میں سے ایک بزرگ اپنے ہاتھ میں سبز اعصا ء لئے باہر نکل آئے، پتھر کے اندرونی حصے میں انگوروں کی بیل کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے مجھے روزانہ رزق اس سے ملتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا آپ اس پتھر کے اندر کتنے عرصہ سے اللہ کی عبادت میں مشغول ہیں؟ عرض کیا چار سوسال سے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا یا اللہ میرا گمان ہے کہ اس بندے کی طرح تو کسی نے بھی عبادت نہیں کی ہو گی۔ اللہ نے وحی نازل فرمائی کہ ’’میرے محبوب ﷺ کے امتی کا شعبان کی پندرھویں رات میں دو رکعت نماز پڑھ لینا اس کی چار سو سال کی عبادت سے افضل ہے ۔‘‘ اس رات صرف دو رکعت کا اجر و ثواب چار سو سال کی عبادت سے بڑھ کر ہے تو جو مسلمان پوری رات اس شب مبارکہ عبادت کرتا ہو گا اس کو جو اجر و ثواب ملے گا اس کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔
امام ابو حنیفہؓ فرماتے ہیں ، ’’یہ رات انعاماتِ سبحانی، عنایاتِ ربانی، مسرت جادوانی اور تقسیم قسمت انسانیت کی رات ہے۔ اس رات گناہ گاروں کی مغفرت ہوتی ہے، مجرموں کی معافی ہوتی ہے، خطا کاروں کی بارات ہوتی ہے اور یہ شب ریاضت مراقبہ و احتساب اور تسبیح و تلاوت کی رات ہے۔‘‘ خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی سے مروی ہے کہ ’’آپ اس شب اپنے لاکھوں مریدوں کے ہمراہ کثرت سے درودِ پاک کا ورد فرماتے اور وعظ کرتے، رات کے آخری لمحات میں آپ تہجد ادا کرتے، جس میں سورۃ یٰسین کی تلاوت فرماتے تھے۔‘‘ ۔

اس رات کی چند اہم فضیلتیں: ۔

۔* ۔۔۔ اس رات تمام حکمت والے کام فرشتوں میں بانٹ دئیے جاتے ہیں تاکہ وہ اس کے مطابق اپنے پورے سال میں فرائض سرانجام دیں۔
۔*۔۔۔ اس میں عبادت سے جو ثواب ملتا ہے دوسری راتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
۔*۔۔۔ اس رات حضورﷺ کی اُمت پر خاص رحمت اترتی ہے۔
۔*۔۔۔ اس رات مغفرت چاہنے والوں کی بخشش ہوتی ہے۔
۔*۔۔۔ اس رات میں رسول اللہ ﷺ کو تمام امت کی شفاعت دی گئی۔
۔*۔۔۔اس رات میں سال بھر میں پیدا ہونے والے ہر بچے کا نام لکھا جاتا ہے۔
۔*۔۔۔ اس رات مخلوق کا رزق تقسیم ہوتا ہے۔
۔*۔۔۔اس رات اعمال اٹھائے جاتے ہیں۔
۔*۔۔۔اس رات مخلوق کی عمر، ان کی روزی اور حاجیوں کے نام بھی لکھے جاتے ہیں ۔
۔*۔۔۔ ہر شب برات اللہ تعالیٰ زمزم کے کنویں میں بھی برکت نازل فرماتے ہیں۔

شب برا ت کی عبادات: ۔

حدیثِ مبارکہ ہے ’’جو شخص اس رات میں ایک سو نوافل پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک سو فرشتہ بھییجیں گے۔ ان میں سے تیس فرشتے اسے جنت کی خوشخبری سنائیں گے، تیس فرشتے دوزخ کے عذاب سے امان کی خوشخبری سنائیں گے ، تیس فرشتے اس سے دنیا کی آفات و بلیا ت کو دور کریں گے اور دس فرشتے شیطان کے فریب اور دھوکہ کو دور کریں گے۔
اس رات خود اللہ کے محبوب نے عبادت فرمائی اسی لئے حضور ﷺ کی اتباع میں اس شب کو بیداری کرنا اور نوافل پڑھنا عین سنت ہے۔ قبرستان جانا بھی سنت ہے، آپ ﷺ جنت البقیع تشریف لے کر گئے تھے۔
شعبان کی پندرھویں شب نماز عصر ادا کرنے کے بعد مسجد یا گھر میں ایک تسبیح (100 مرتبہ )استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ اور ایک تسبح لا حولا ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھ لیں۔
نمازِ مغرب کے بعد چھ نواعل دو دو رکعت کے ساتھ اس طرح ادا کریں کہ ہر رکعت کے بعد سورۃ یٰسین اور یہ دعا پڑھیں ، اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی یا غفور یا غفور یا غفور۔اس کے بعدخصوصیت کے ساتھ حلال رزق اور کاروبار کی وسعت کے لئے دعا مانگیں۔ اگلی دو رکعت نماز نفل کے بعد سورۃ یٰسین اور یہ دعا پرھیں، اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی یا غفور یا غفور یا غفور، اس کے بعد درازی عمر کے لئے دعا کریں اور تیسری بار دو نفل ادا کرنے کے سورۃ یٰسین اور دعا، اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی یا غفور یا غفور یا غفورکے بعد ناگہانی آفات و بلیات سے بچنے کی خصوصی دعا کریں پھر نمازِ عشاء کے پڑھنے کے بعد دعا، اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی یا غفور یا غفور یا غفورکی ایک تسبیح پڑھیں۔
بعد از نمازِ مغرب دو رکعت نماز پڑھیں ہر دو رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ حشر کی آخری تین آیات ایک ایک مرتبہ اور سورۃ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھے انشاء اللہ یہ نماز گناہوں کی معافی کے لئے بہت افضل ہے۔دو رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد آیت الکرسی ایک بار سورۃ اخلاص پندرہ پندرہ بار بعد سلام کے درود پاک ایک سو بار پڑھ کر رزق کی دعا کریں اس نماز کی برکت سے رزق میں ترقی ہو گی۔دورکعت نماز پڑھیں ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد دس دس بار سورۃ اخلاص پڑھیں یہ نماز بھی بہت افضل ہے۔
نماز تسبیح بھی لازمی پڑھیں اس کی بہت فضیلت ہے۔
اس رات کو سورۃ الکہف، سورۃ یٰسین، سورۃ الدخان، سورۃ واقعہ، سورۃ الملک، سورۃ مزمل، سورۃ الرحمن پڑھنے کا بھی بہت اجر ہے۔
یہ بخشش کی رات ہے، اس رات کو کثرت سے عبادت کرنی چاہئے، نوافل ادا کرنے چاہئے، قرآنِ پاک کی تلاوت کرنی چاہئے اور سچے دل سے اللہ پاک سے اپنے گناہوں کی بخشش اور حلال رزق اور عمر میں برکت کی دعا کرنی چاہئے۔ آتش بازی جیسے حرام فعل سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ یہ قوم نمرود کی ایجاد ہے۔ اللہ پاک ہم سب مسلمانوں کو اس رات عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف فرماکر ہماری بخشش فرمائے، رزق حلال عطا فرمائے اور رزق میں برکت عطا فرمائے، ہمارے پیارے وطن پاکستان کو درپیش تمام مسائل سے چھٹکارا حاصل ہو۔ آمین!۔

768 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/h926aov
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *