بندہ و صاحب و محتاج و غنی سب ایک ہوئے

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: محمد عبداللہ


کیا خوبصورت منظر ہے کہ منیٰ کے میدان میں قائم ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی اور اس میں دنیا کے اطراف و کنار سے آنے والے اسلام کے نام لیوا جب بلند آواز سے تلبیسات پڑھتے ہیں تو اک عجیب دلفریب اور نہایت ہی سہانا منظر پیش ہوتا ہے. منیٰ کے اس میدان میں، مزدلفہ کی ان پہاڑیوں پر، صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتے ہوئے، حجر اسود کو بوسہ دینے کی تگ و دو کرتے ہوئے، مسجد حرم میں ایک اللہ کے سامنے سربسجود ہوتے ہوئے کوئی کسی پر افضل نہیں ہے. کوئی کسی سے اعلیٰ و ارفیٰ نہیں ہے. وہ جو سرحدوں میں تقسیم تھے، وہ جو قوموں اور قبیلوں میں تقسیم تھے، وہ جو کالے اور گورے کی انفردیت لیے ہوئے تھے آج ساری تقسیمیں مٹا کر، ساری تفریقیں بھلا کر ایک ملت اور ایک وحدت ہو کر اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں. ان میں ملکوں کے بادشاہ بھی ہیں، وزراء سلطنت بھی ہیں. فوجوں کے کماندار بھی ہیں، علماء و خطباء اور حکمائے امت بھی ہیں مگر آج کسی کی کوئی انفرادی پہچان نہیں ہے. ایک لباس ایک آواز اور ایک حرکت نے سب کو ہی ایک کردیا ہے. بقول شاعر مشرق
بندہ و صاحب ومحتاج و غنی سب ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
اور یہ سب ایک کیوں نہ ہوں. جب نبی آخر و الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجہ الوداع کے موقع پر فرما دیا تھا کہ کسی کو کسی دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں ہے نہ کسی کالے کو گورے پر اور نہ گورے کو کالے پر، نہ کسی عربی کو عجمی پر اور نہ کسی عجمی کو عربی پر ہاں اللہ کے نزدیک فضیلت کا معیار تقویٰ ہے وہ جس کا جتنا زیادہ ہوگا اتنا وہ اللہ کے زیادہ نزدیک ہوگا
برتریوں اور سپیرئیر ازم کے ڈسے ہوئے لوگو، یورپ و امریکہ میں بیٹھ کر انسانی حقوق اور برابری کے واویلے مچانے والو اور نسلی فسادات کے شکار لوگو آؤ دیکھو مذہب امن اسلام انسانیت اور برابری کی کتنی اعلیٰ عملی اور جیتی جاگتی تصویر پیش کر رہا ہے
اسلام کو اور مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام تھوپنے والو اسلام کا چہرہ وہ نہیں ہے جو تم اور تمہارے نمک خوار داعش جیسے انسانیت کے سفاک دشمن پیش کرتے ہیں بلکہ اسلام کا تو یہ چہرہ ہے اور کتنا خوبصورت چہرہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں جمع ہیں اور کوئی بدامنی نہیں ہے، کوئی گالی گلوچ نہیں ہے، کسی کی تحقیر و تکفیر نہیں ہے. بلکہ امام حج کی ایک پکار اور ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے حقیقت میں انسانوں کا سمندر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر اللہ کی کبریائی کی صدائیں بلند کرتا ہوا امن اور سلامتی کی دعائیں اور مناجات کرتا ہوا اجتماعیت اور برابری کا اعلیٰ نمونہ پیش کر رہا ہے
اسلام کو معتوب کرنے والو سبھی ادیان و ملل مل ایک مثال اس کے مقابلے میں لے آؤ لیکن نہیں لا سکو گے تمہارے معاشروں کی بنیاد ہی ظلم و زیادتی اور استحصال پر رکھی گئی ہے. انسانیت کی تذلیل تمہارا مذہب ہے، بنی نوع انسان کا بے دریغ قتل تمہارا مسلک ہے. تمہارے دامن تو انسانی خون کے چھینٹوں سے داغدار ہیں. تمہارے چہرے انسانیت کے ساتھ ظلم روا رکھنے اور بندوں کو اللہ کی غلامی سے نکال کر اپنی غلامی میں لے کر سیاہ ہوچکے ہیں. تم کیسے اس روشن اور اجلے اسلام پر اپنی زبانیں دراز کرتے ہو؟
یہ اسلام ہے جو دنیا سے ظلم کا خاتمہ کرتا ہے، انسانی تحقیر اور استحصال کا قلع قمع کرتا ہے. یہ اسلام ہے جو اپنے ماننے والوں کو فرعونوں اور نمرودوں کی غلامی سے نکال کر فقط ایک اللہ کی بندگی اور عبادت میں کھڑا کرتا ہے. یہ اسلام اور اس کے ماننے والوں کا حسن ہے.

56 total views, 3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/ybdfma44
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...