پاکستان پوسٹ آفس کے نرخوں میں ہوش ربا اضافہ۔

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان پوسٹ آفس نے  ڈاک اورپارسل کے نرخوں میں  ہوش ربا اضافہ کردیا ، آٹھ روپے قیمت والے عام  لفافے کی نئی قیمت 20 روپے ،پچاس گرام تک ڈاک کے نرخ   پندرہ روپے  سے بڑھا کر 38 روپے ، ایک سو گرام تک ڈاک کے نرخ  20 روپے  سے بڑھا کر  50 روپے ، ڈھائی سو گرام تک وزن کے کاغذات بھیجنے پر موجودہ  نرخ  30 روپے  سے بڑھا  کر  75 روپے ، 500 گرام  وزن کے کاغذا ت کے لفافے کا نرخ  40 روپے سے بڑھا کر 100 روپے ، 1000 گرام وزن تک کاغذات بھجوانے کی صورت میں  نرخ  60 روپے  سے بڑھا  کر  140 روپے ، 1500 گرام   وزن تک کے نرخ 80  روپے  سے بڑھا کر 200 روپے اور 2000  گرام  وزن تک  کے لفافے میں بھجوائی جانے والی ڈاک پر نرخ  100 روپے کی بجائے 250 روپے  کردیئے گئے ہیں ۔ اسی طرح رجسٹرڈ  ڈاک کے نرخوں میں بھی بتدریج اضافہ کردیا گیا ہے ۔

یاد رہے کہ پاکستان پوسٹ آفس کی جانب سے ہر سال  نوجوانوں میں خطوط نویسی  کی بیداری کے لیئے  بین الاقوامی خطوط نویسی کے مقابلے کا انعقاد کیا جاتا ہے اس سال تک 48 مقابلے منعقد کیئے جاچکے ہیں ، امکان ہے کہ ڈاک کے نرخوں میں اضافے کے بعد اس میں حصہ لینے میں بھی واضح کمی نظر آئے گی۔

خطوط نویسی اور ڈاک کے ذریعے خطوط ارسال کرنے کی دم توڑتی روایت کو جلا بخشنے کے لیئے   ریڈیو سامعین کی  پاکستان میں قائم بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائزیشن پاکستان  اس حوالے سے نہایت سرگرمی سے مصروف عمل ہے  جو  لوگوں میں خطوط نویسی  کا شعور بیدار کر رہی ہے ، تنظیم کی جانب سے ہفتہ خطوط اور ماہِ خطوط کے تحت بڑے پیمانے پر نشریاتی اداروں  کو روزآنہ کی بنیاد پر  خطوط ارسال کیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے  محکمہ ڈاک کی ترسیل میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے جس کا برملا اظہار  تمام عالمی نشریاتی ادارے  بھی کررہے ہیں ۔ محکمہ  ڈاک کی جانب سے  نرخوں میں اس قدر اضافے سے  اس سرگرمی میں انتہائی کمی آنے کا اندیشہ ہے ۔

موجودہ حالات میں ضرور اس امر کی ہے کہ  حکومتِ پاکستان فوری طور پر ان نرخوں پر نظر ثانی کرے تاکہ   نہ صرف ایک غریب  آدمی کی دسترس میں پیغام رسانی کا  سستا اور بہتر ذریعہ رہے بلکہ ان لوگوں کی بھی حوصلہ افزائی ہو جو اس خوبصورت روایت کی فلاح کے لیئے مصروفِ عمل ہیں ۔

ارشد قریشی
بیورو چیف کراچی

321 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y5qkttfl
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *