٭ ٭کیٹیگری: عشقیہ شاعری ٭

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا وہ شخص مگر وعدہ وفا بھی نہیں کرتا دریا کے کناروں کی طرح ساتھ ہے میرے ملتا وہ نہیں ہے تو جدا بھی نہیں کرتا آئینے وہ احساس کے سب توڑ چکا

غزل: برسوں بعد تجھ سے ملاقات خوب رہی

برسوں بعد تجھ سے ملاقات خوب رہی وصل کی از سر نو شروعات خوب رہی ایک چھتری برستا ساون تو اور میں کل شب جو برسی برسات خوب رہی تیرے دل کی گفتگو میری دھڑکن نے سنی خاموشی میں ہوئی

ایک اک نغمہ مرے دل کی صدا لگتا ہے

شاعر : احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا با وفا لگتا ہے نہ شخص برا لگتا ہے جانے کیا بات ہے پر سب سے جدا لگتا ہے تب سے پتھر بنے بیٹھا ہے صنم خانے کا ہم نے اک بار کہا تھا

محبت ہوجاتی ہے

شاعر:یا سر رفیق محبت ڈھونڈتی نہیں ہوجاتی ہے محبت پوچھتی نہیں ہوجاتی ہے محبت نہ سوال ہے نہ جواب ہے ہوجاتی ہے محبت ادب آداب ہے ہوجاتی ہے ارے تم بھی کرو میں بھی کروں ہوجاتی ہے مجھے بھی محبت

وہ سراپا حق تو میں بھی شاعرِ باطل نہ تھا

شاعر : احمد نثارؔ کون ہے جو زندگی میں حاجتِ منزل نہ تھا شکر ہے وہ ریگزاروں سے یہاں غافل نہ تھا آپ کے دل پر ذرا سی چوٹ پر اکھڑا گئے جب میرا دل ٹوٹتا تھا کیا وہ میرا

اٹھ جائے تیری ذات سے پھر اعتبار دیکھ

شاعر: احمد نثار، ماراشٹر، انڈیا میرا شکستہ حال میرا انتظار دیکھ اْٹھ جائے تیری ذات سے پھر اعتبار دیکھ تیری نگاہِ لطف کا دیرینہ منتظر کیسے ہوا ہے میرا جگر تار تار دیکھ اْڑ جائے نہ قفس سے کہیں روح

میرے سارے رازِ ہستی، کیا بےنقاب تو ہے

شاعر: احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا شبِ زیست کے فلک پر میرا ماہتاب تو ہے میرے غنچئہ وفا پر جو کھلا گلاب تو ہے جو شمع امید کی تھی تیری ذات سے جلی تھی اے تصورِ شکستہ پسِ اضطراب تو ہے

غزل: یوں امتحان لیا خاکداں بنا کے مجھے

شاعر : احمد نثارؔ، مہاراشٹر، انڈیا یوں امتحان لیا خاکداں بنا کے مجھے سمجھ رہا تھا سکوں پائے گا جلا کے مجھے وہ خوش کہاں ہے بتا خاک میں ملا کے مجھے خمار دے گیا نظروں سے وہ پلا کے

ہمیں تم سے محبت ہے

شاعر: امجد ملک یہ مجھ سے جھوٹ کہتے ہیں ہمیں تم سے محبت ھے میرے کپڑوں ,کتابوں کی میری ٹوٹی جرابوں کی میرے معصوم خوابوں کی کسی کو فکر ہی کب ہے؟ میری خوائش میں روٹی ہے نہ پینے کی

غزل: شاعری نہیں کرتا، شاعری بہانہ ہے

شاعر: امجد ملک شاعری نہیں کرتا، شاعری بہانہ ہے درد دل جو بڑھتا ہے، اسکو سہلاتا ہوں کرچیاں اداسی کی , جب بدن کو چھو تی ہیں ڈو بتی سی شاموں میں ، دل کو بہلاتا ہوں جب اکیلے پن