۔100 باراتی،100بکرے۔۔۔۔ انتخاب: فتح محمد عرشیؔ ، پائی خیل

Print Friendly, PDF & Email
پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک گاؤں والوں نے اپنے قریبی گاؤں میں رشتہ طے کیا۔ بیٹی والوں نے شرط رکھی کہ جب تک باراتی ہماری فرمائش پوری نہیں کریں گے، ہم دلہن کو رخصت نہیں کریں گے۔ لڑکے والوں نے ان کی بات مان لی اور شادی کی تیاریاں کرنے لگے۔
بارات سے ایک دن پہلے لڑکی والوں کا پیغام آیا کہ بارات میں سو آدمی آئیں اور سب نوجوان ہوں، کوئی بوڑھا ساتھ نہ آئے۔ اب تو وہ سخت فکر مند ہوئے کہ ضرور کوئی خاص بات ہے۔ ایک بزرگ نے کہا۔ ’’تم ایسا کرو، مجھے کسی طرح چھپا کر بارات کے ساتھ لے جاؤ۔ وہ ضرور کوئی ایسی فرمائش کریں گے جس کے لیے تجربہ درکار ہو گا۔ اسی لیے تو کہہ رہے ہیں کہ کوئی بزرگ آدمی ساتھ نہ لائیں۔‘‘
سب نے بزرگ کی رائے سے اتفاق کیا اور اسے کپڑوں والے ایک صندوق میں چھپا کر ساتھ لے گئے۔ جب بارات وہاں پہنچی تو لڑکی والوں نے کہا:
’’ہماری شرط یہ ہے کہ پہلے 100 بکرے کھاؤ، پھر ہم دلہن کو رخصت کریں گے۔‘‘
یہ سن کر باراتی سخت پریشان ہوئے۔ بھلا ایک آدمی ایک سالم بکرا کیسے کھا سکتا تھا؟
اچانک انہیں بزرگ کا خیال آیا۔ ایک آدمی لوگوں کی نظریں بچا کر اس صندوق کے پاس گیا ، جس میں بزرگ کو چھپا کر لایا گیا تھا۔ اس آدمی نے بزرگ کو ساری بات بتائی تو بزرگ نے کہا:
’’تم ایسا کرنا کہ باری باری سب مل کر ایک ایک بکرا کھانا…. اس طرح تم آسانی سے 100 بکرے کھا لو گے۔‘‘
چنانچہ باراتیوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، ہم 100 بکرے کھائیں گے لیکن ایک ایک کر کے۔
وہ مان گئے۔ باراتی پہلے ایک بھنے ہوئے بکرے کے پاس گئے اور اس پر ٹوٹ پڑے۔ 100 آدمیوں کے حصے میں بمشکل ایک ایک بوٹی ہی آئی تھی۔ پھر وہ دوسرے بکرے پر پل پڑے….. پھر تیسرے بکرے کا نمبر آ گیا…..
غرض انہیں پتہ ہی نہ چلا اور وہ 100 بکرے آسانی سے ہڑپ کر گئے۔
یہ دیکھ کر دلہن والے حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا:’’ضرور تمہارے اندر کو بوڑھا آدمی موجود ہے۔‘‘
باراتیوں نے انکار کر دیا۔ دلہن والوں نے اس بزرگ کو ڈھونڈنے کی اپنی سی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ کیونکہ بزرگ تو صندوق کے اندر چھپا ہوا تھا۔ بالآخر انہوں نے دلہن کو ان کے ساتھ رخصت کر دیا۔ سچ ہے کہ بزرگوں کا تجربہ نوجوانوں کی ذہانت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ ہمیں ان کے مشوروں کی قدر کرنی چاہیئے۔
(اختتام)

1,097 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/jbvyczp
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *