پرانے راگ اور نئے سازندے؟

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ڈاکٹر میاں احسان باری


جنوبی پنجا ب کے چھ قومی اور دو صوبائی اسمبلیوں کے ممبران نے اسمبلیوں سے استعفیٰ دے کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے نئی تنظیم قائم کر لی ہے اس میں سابقہ ریاست بہاولپور کے دو اضلاع بہاولنگر اور رحیم یار خان کے بھی ممبران اسمبلی شامل ہیں جب کے ضلع بہاولپور سے ایک سابقہ ایم پی اے ۔مسٹر بھٹو کے حکومتی عروج کے دور سے ہی بحال�ئصوبہ بہاولپور کی تحریک چل رہی ہے اور 1970 میں جب پورے ملک میں پی پی پی کا طوطی بولتا تھا تو ضلع بہاولپور سے اس کا کوئی نمائندہ منتخب نہ ہو سکا تھا سبھی ممبران وہی منتخب ہوئے جنہوں نے بہاولپور صوبہ بحالی کے لیے تحریک میں نمایاں حصہ لیا تھا سید تابش الوری رحمت اللہ ارشد وغیرہ معمولی حیثیت کے حامل افراد بھی اس تحریک کے نتیجہ میں منتخب قرار پا گئے تھے بھٹو صاحب اقتدار میں آئے تو جلسے جلوس شروع ہو گئے مگر ریاستی طاقت نے جبراً اس تحریک کو بری طرح تشدد سے کچل ڈالا اور کئی افراد بہاولپور کو علیحدہ صوبہ قرار دلوانے کے لیے شہید ہوئے یہ تحریک کچھ عرصہ کے لیے دب گئی مگر اندرون خانہ سلگتی رہی اب بلخ شیر مزاری دریشک اور مخدوم خسرو بختیار نے بہاولپور کو علیحدہ صوبہ کا نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنوں ملتان ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کو صوبہ قرار دلوانے کے لیے نئے ملک گیر انتخابات کے اعلان سے صرف پونے دو ماہ قبل آغاز کردیا ہے ان ممبران اسمبلی نے آج تک کسی فورم پر ،پریس /میڈیا حتیٰ کہ اسمبلی کے اجلاسوں تک میں کبھی صوبہ کوبنانے کا قطعاً مطالبہ نہیں کیا تھا ویسے بہاولپوری عوام سچے ہیں کہ جب ون یونٹ بنایا گیا تھا تو حکومت پاکستان نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ جب بھی ون یونٹ توڑا جائے گا بہاولپور صوبہ کی حیثیت سے خود بخود بحال ہو جائے گا مگر وہ عدہ ہی کیا جو ایفا ہو گیا ؟کے مصداق کبھی بھی بہاولپور صوبہ کی حیثیت کو بحال نہ کیا گیا حالانکہ بہاولپور کے عباسی حکمرانوں کے پاکستان کے وجود میں آنے کے فوراً بعد احسانات کا بدلہ چکایا ہی نہیں جا سکتا کہ انہوں نے پورے ملک کے سرکاری ملازمین کی دو سال تک تنخواہیں ادا کی تھیں بہاولپور کے نوابوں نے پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی کسی بھی تردد کے بغیر ریاست بہاولپور کو پاکستان میں شامل کر ڈالا تھا بلوچستان کی ریاستوں نے حالانکہ ایسا نہ کیا تھا۔کئی حیلے بہانوں کے بعدپاکستان کا حصہ بنے تھے اس کے لیے ایک علیحدہ کالم کی ضرورت ہے راقم الحروف نے انتظامی بنیادوں پر ڈویژنوں کو صوبے قرار دینے کے لیے کالم گزشتہ دنوں لکھا تھا مگر یہ بات محیر العقول لگتی ہے کہ صرف انتخابات سے قبل ایسے نعرہ کا لگایا جانا کس طرح منتخب ہو جانے کے لیے منصوبہ بندی کا حصہ قرار نہ دیا جائے گا ؟
ع جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
پھر اگر یہ تحریک کامیاب بھی ہو گئی تو بہالپور کو علیحدہ صوبہ بنانے والوں کی قربانیوں کا کیا بنے گا ؟اور جن افراد نے سرائیکی دیش سرائیکی صوبہ وغیرہ جیسی تحریکوں میں قربانیاں دی ہیں وہ اس وقت کہاں کھڑے ہیں ؟ان کا آئندہ کیا لائحہ عمل ہو گا؟ پھرکیا جودوسرے صوبوں میں علیحدگی کی اور مزید صوبے بنانے کی تحریکیں چلتی رہی ہیں ان کا کیا حشر ہو گا؟ صوبہ ہزارہ تحریک کا کیا بنے گا؟ ویسے بھی پاکستان جس نظریے کے تحت معرض وجود میں آیا تھا اس میں تو لسانی علاقائی بنیادوں پر صوبے نہیں بن سکتے مگر صرف انتظامی بنیادوں پر۔ آئینی طور پر بھی صوبہ بنانے کا طریقِ کار موجود ہے اس کے تحت مخصوص صوبہ کے تین چوتھائی ممبران ایسی قرار داد پاس کریں پھر قومی اسمبلی اور سینٹ اس کی توثیق کریں اور بالآخر صدر پاکستان کو اس کی منظوری دینا ہے یہ اتنے کٹھن مراحل ہیں کہ انتخابات کے بعد ان پر روایتی کمیٹیاں بنتی رہیں گی جو کہ ایسی قراردادوں کی تکمیل عرصہ دراز تک نہ کر سکیں گی پھر ایسی بے وقت راگنی کا مقصد صرف انتخاب جیتنا ہی لگتا ہے ممبران اسمبلی تو پرعزم ہیں اور لاہور میں مرکزی دفتر بھی قائم ہو گیا ہے اخبارات کے فل پیج اشتہارات بھی جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے شائع ہو نا شروع ہو گئے ہیں صوبہ بنانے کے لیے تو عوام دلی طور پر خواہش رکھتے ہیں مگر صوبہ کے نام پر پرانے جغادری سیاستدانوں کی دوکانداری کو بھی چمکتا نہیں دیکھ سکتے اس طرح تو آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا والی کیفیت ہی بن جائے گی ۔بڑی تمام سیاسی پارٹیاں بڑھ چڑھ کر ان کے موقف کی تصدیق کررہی ہیں تاکہ عوام میں ان کے نمبر “ٹنگنے” سے نہ رہ جائیں اور ان کی مقبولیت کہیں انتخابات میں کم نہ ہو جائے ویسے بھی ان کا یہ اعلان کہ ہم صوبہ کی تحریک چلائیں گے مگر کسی پارٹی میں شامل نہیں ہوں گے۔ویسے ن لیگ کو تو جھٹکا لگنا ہی تھا مگر عمران اور زرداری وغیرہ بھی مایوس ہو چکے ہیں کہ کل کلاں ان میں سے جتنے بھی جیتیں گے وہ ہمیں بھی آنکھیں دکھائیں گے سیاسی راہنماؤں کے علاوہ عام آدمی جانتا ہے کہ صوبے تحریکوں سے نہیں بلکہ آئینی طور پر ہی بن سکتے ہیں راقم خود صوبہ کی شدت سے خواہش رکھنے کے باوجود مایوسی کا شکار ہوا ہے کہ الیکشن اسسٹنٹ بھی اگر کامیاب نہ ہو سکا تو پھر جنوبی پنجاب بالخصوص بہاولپور ڈویژن کے عوام تو درجنوں سالوں تک صوبہ بنوانے سے محروم رہ جائیں گے ان کاحشر کہ” نہاتی دھوتی رہ گئی اوپر مکھی بہہ گئی” والی بات ہو گی کاش صوبہ بن سکے مگر وہ آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہ ہے صوبہ محاذ والوں کے ذہنوں میں کوئی پلاننگ تو ہوگی کہ اتنا بڑا قدم اٹھا بیٹھے ہیں یہ اتنا آسان کام ہو تا تو صوبہ ہزارہ،صوبہ کراچی اور سندھودیش کبھی کے بن چکے ہوتے ۔ہندو بنیا للچائی نظروں اور خونی درندے کی طرح ہمارے بارڈروں پر تاک جھانک کر رہا ہے مغربی محاذکو بھی کمانڈو مشرف کی مہا غلطیوں کی وجہ سے ہم دشمن بنا بیٹھے ہیں پھر عالمی غنڈہ سامراج ویسے ہی خشمگیں نگاہوں سے ایٹمی تنصیبات کو تاکے بیٹھا رہتا ہے ہمارے تقریباً سبھی سیاسی لیڈران انتخابی جنگ جیتنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے پر تلے ہو ئے ہیں لسانیت علاقائی صوبائی برادری ازم مسلکی فرقہ واریت جیسے سبھی اختلافات کو اٹھا کر مخصوص اقتداری جنگ کو جیتنا چا ہتے ہیں خدا کو منظور ہوا تو سبھی کو قابل قبول اللہ اکبر تحریک ہی کامیاب و کامران ہو گی کہ مشیعت ایزدی کو اللہ اکبر نام ہی قبول ہے۔

129 total views, 3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/ybxnlhj8
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...