نائیک سیف علی جنجوعہ شہید نشان حیدر

Print Friendly, PDF & Email

تاریخ پیدائش 1922 :یوم شہادت26اکتوبر1948
تمغہ ہلال کشمیر 1948۔۔۔ نشان حیدر 1999

ترتیب و تزئین: حکیم لطف اللہ (سیکرٹری جنرل پی ایس اے)۔


ہر مجاہد شہید وغازی بہادری سے میدان جہاد میں لڑنا استقلال اور صبرو دلیری سے دشمن کا مقابلہ کرتے رہنا، یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں شہید ہوجانا اپنے اسلامی فرض کو ادا کرتا ہے ۔چونکہ مجاہد اللہ کی خاطر اپنی جان میدان شہادت میں پیش کرتا ہے اس لئے اپنی جرات و شجاعت اور بہادری کے کارہائے نمایاں پر وہ کسی داد و ستائش کا خواہشمند نہیں ہوتا ہے اس کی ایک اور صرف ایک خواہش اور تمنا ہوتی ہے کہ جس اللہ کی خاطر اس نے جہاد میں شرکت کی ہے وہ اس سے راضی ہو جائے۔بہادری سے لڑنا اور لڑتے لڑتے خدا کی راہ میں جان قربان کر کے شہادت جیسے عظیم مرتبے کو حاصل کر لینا ایک مومن کا فرض ہے ۔جس کا اجرو صلہ اور تعریف وہ اللہ اور صرف اللہ سے چاہتا ہے ۔اس طرح جہاد کشمیر میں بھی لاکھوں مسلمانوں نے حصہ لیا۔ ہزاروں زخمی ہوئے ہزاروں نے جام شہاد ت نوش کیا۔لیکن جس طرح تاریخ اسلام میں امیر حمزہؓ ، خالد بن ولیدؓ ،عیاض بن اغنم اشعری،ضراربن ازور،طارق بن زیاد ،محمد بن قاسم ،قتیبہ بن مسلم،عمر بن عاص ،صلاح الدین ایوبی، عمر بن عبدالعزیز،فاتح قسطنطنیہ اور غازی مصطفی کمال پاشا ،امیر عبدالکریم مراکشی کے اسمائے گرامی چمکتے ہوئے ستاروں کی مانند روشن ہیں ۔ اسی طرح جہاد کشمیر کی تاریخ میں مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کرنل شیر احمد خان ،کپتان خان محمد خان، کرنل علی احمد شاہ ،کرنل حسن خان، میجر جنرل کیانی ،محمد زمان،بریگیڈیئر حبیب الرحمان ،فخر کشمیر کرنل محمود خان ،کرنل محمد حسین ایس سی،کرنل رحمت اللہ ،کرنل محمد شیر خان آف سلواہ،کپتان شیر خان شہید، میجر محمد افضل خاں شہید، کرنل محمداعظم اور کرنل کمال صاحب کے نام ہمیشہ درخشاں اور یاد گار رہیں گے۔سب سے عظیم الشان اور دلیری کا کارنامہ نائیک سیف علی جنجوعہ آف منڈھیر نے انجام دیا جس پراُ س وقت کی حکومت نے انہیں سب سے پہلا” ہلال کشمیر “کا تمغہ عطا فرمایا۔
انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔ جب تک کہ کمک نہ پہنچ گئی دشمن کو پاک سر زمین پر ایک انچ بھی آگے نہ بڑھنے دیا یہاں تک ہوا کہ کمک کا آفیسر کپتان چوہدری رحمت علی جنگ جو نہی پہاڑی پر پہنچا اس نے دیکھا کہ اس پہاڑی پر ہوائی جہاز کا ایک بم گرامٹی اڑی ،دھواں پھیلا دیکھا تو فضا میں تکدر تھا ہوا میں کوئی شے چیل کی طرح اڑتی نظر آئی ۔ یہ کیا چیز تھی مرد مجاہد شہید اعظم نائیک سیف علی جنجوعہ کی لاش جو ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہوا میں تیر رہی تھی اس مرد غازی نے جان دے دی مگر مٹھی بھر مجاہدوں کے ہمراہ اس وقت تک مقابلہ جاری رکھا جب تک کہ کمک نہ پہنچ گئی ۔ان کاحسین چہرہ آج بھی ہمارے قومی چہرے کا حسن ہے۔انہی کی مثالوں،یادوں،تصویروں اور نشانیوں کی بدولت ہمارا قومی سفر جاری ہے ۔جب مشکل گھڑی آن پڑتی ہے ،ان کے چہرے ہی ہم میں جرات پیدا کرتے ہیں ،نامساعد حالات میں ان شہیدوں کی تصویریں ہمیں حوصلہ بخشتی ہیں۔نا امید ی میں وہ حرارت پیدا کرتے ہیں اور جب وطن کے لیے قربانی دینے کا وقت آپہنچتا ہے تو ان کی نشانیاں اور مثالیں ہی ہمیں میدان کا رزار میں اتار کر وہ جوش اور جذبہ عطا کرتی ہیں کہ بڑے سے بڑے دشمنوں کے دلوں پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ انہی شہدا،غازیوں کی بدولت ہم آج دنیا میں اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔قوموں کو ان کاخون اور قربانی ہی زندہ رکھتی ہے۔نائیک سیف علی جنجوعہ شہید پیر کلیوہ راجوری کی چوٹی پر بھارتی فوج کے ایک بریگیڈ کا مقابلہ کرکے پسپا کرتے ہوئے شہید ہوئے۔اُن کی بے مثال بہادری دکھانے پر حکومت آزاد کشمیرنے سب سے بڑا جنگی اعزاز” ہلال کشمیر “دیا تھا ۔ اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان فرما کر ان کے بیٹے صوبیدار میجر محمد صدیق کو”نشان حیدر” عطا فرمایا۔اس شہید آزادی و اسلام کی پوری داستان سرکاری طور پر چھپ چکی ہے۔

980 total views, 2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/jbauu8f
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *