کُل پاکستان نفاذِ اردو مشاورتی اجلاس کی روداد

Print Friendly, PDF & Email

تحریر:  سیداسدکاکاخیل


اردو زبان کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ حاصل ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ باقی دنیا کے برعکس ہماری اپنی ہی قوم اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ پاکستان کی تخلیق سے لے کر آج تک اردو زبان ترقی پانے کے بجائے رو بہ زوال ہے۔ ہماری اپنی ہی قوم اردو کو وہ عزت اور وقار دینے کو تیار نہیں جس کی بحیثیت قومی زبان یہ حقدار ہے۔
اردو ہماری پہچان ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اسے باقاعدہ قومی زبان ہونے کا اعزاز حاصل ہے.اردو کو پاکستانی قوم کے ازہان و قلوب میں کیسے راسخ کیا جائے.اس سلسلے میں کل پاکستان نفاذ اردو مشاورتی اجلاس ایوانِ قائد نظریہ پاکستان کونسل ہال فاطمہ جناح پارک اسلام آباد میں 24جولائی کو منقعد ہوا. جس کا اہتمام  پاکستان قومی زبان تحریک کی جانب سے کیا گیا.اس پر پاکستان قوم زبان تحریک کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور یقینا وہ سب حاضرین بھی مبارک باد کے مستحق ہے جنہوں نے اردو سے محبت کا ثبوت پیش کیا اور دور دراز سے اس اجلاس میں مقررہ وقت پر شرکت کی .اجلاس جس میں کراچی, لاہور,پشاور,صوابی,مردان,اٹک  بشمول آذادکشمیر سے محبانِ اردو نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا موضوع “پیش رفت اور عملی تقاضے” تھا جس پر ملک کے نامور شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پاکستان قومی تحریک کے شانہ بشانہ اجلاس میں نوجوان طبقہ کی طرف سے نیشنل یوتھ اسمبلی کے ممبران نے خصوصی شرکت کی. اجلاس کی صدارت  محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کی.
مہمانانِ اعزاز افتحارسروری,عرفان صیدیقی مشیر وزیراعظم پاکستان,خوابہ کوکب صاحب, انعام الحق, عبداللہ گل, عزیز ظفر آذآد صاحب تھے۔

ناظم اجلاس محترم پروفیسر ہاشمی صاحب تھے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سےکیا گیا جس کی سعادت قاری احمد ہاشمی صاحب نے حاصل کی. جبکہ نعت رسول مقبول کی سعادت جناب حسن زیدی صاحب کے حصے میں آئ.نعت رسول مقبول کے بعد ترانہ پیش کیا گیا جسے تمام حاضرین نے احترام” کھڑے ہوکرسُنا.
اجلاس میں عزیز ظفر آذاد صاحب نے صدرمحفل محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا اور مہمانان اعزاز کا شکریہ ادا کیا اور سیر حاصل اردو زبان کے نفاذپر گفتگو کی. اس کے بعد سکندر جاوید صاحب نے جسٹس جوادایس خواجہ کا حکم نامہ پڑھ کرسنایا.
زبان خلق کے نام سے ملکی عدالتوں کے لکھے گئے عدالتی فیصلوں کا مجموعہ صاحبِ صدارت کو پیش کیا۔
محترم ایڈوکیٹ کوکب اقبال صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو صرف زبان کا معاملہ نہیں ہے,  اردو نظریہ پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اردو قوم کی پہچان ہےاور ہمارا فخر ہے۔
پاکستان میں اسلام کا نفاذ بھی نفاذ  اردو  کےبغیر ممکن نہیں, انہوں نے مذید کہا کہ دفاتر کے پر پیچ نطام کو سہل بنانا ہو گا .دفترئ زبان اردو ہو گی تو عام و خاص کو سمجھ ائےگی ۔ اردو قومی زبان ہے اور عدالت عظمی کے تاریخی فیصلے کے بعد اسے بطورسرکاری زبان تسلیم کر لینا چاہیے۔
پاکستانی قوم کو باشعورقوم بنا نے کےلئے  نصاب اردو میں تبدیل کرنا ہوگا.
کوکب اقبال صاحب نے خاص طور پر کالے انگریزوں کا ہلکارا.
فاطمہ قمر صاحب نے اپنے اظہار خیال میں کہا کے الحمدللہ پورے پاکستان سے محبانِ اردو آئے ہیں ہر فرد اپنے وسائل خرچ کرکے آیا ہے, آغاز میں یہی کہا جاتا تھا کہ اردو کا نفاذ ممکن نہیں مگر آج احساس فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ہر دل کی آواز اردو ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ میری زبان اردو ہے میں نے جو کچھ پڑا اس میں ہر لفظ کو بریکٹ میں  انگریزی میں بھی لکھا, افسوس ہمارے 500 یونیورسٹیز میں ایک یونیورسٹی بھی عالمی معیار کی نہیں,بنگال اس لیے ہم سے علحیدہ ہوا کہ ہماری زبان ایک نہیں تھی۔
کراچی سے آئی معروف کالم نگار و افسانہ نگار عروبہ عدنان صاحبہ  نے اپنے مختصر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی والے اردو سے محبت کرتے ہیں اور اردو میں کی جانے والی گفتگو کو پسندکرتےہیں میں سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ سب نے اس اجلاس میں شرکت کی.
محترم عرفان صدیقی میشرِ خاص وزیراعظم پاکستان نے نا ساز طعبیت کے باوجود اجلاس میں شرکت کی.انھوں نے اپنے خیلات کا اظہار کرتے ہوئے. کہا کہ اردو کے ساتھ میرا تعلق پورئ حیات پر محیط ہے۔ اردو کی نشوونما کے کے لیے ہم  آج بھی کوشاں ہیں.  انہوں نے کہا کے اردو کا فیصلہ آیا تو بعض اراکین اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے, ہم نے 32ایسی کتابیں نکالی ہے جو افسرشاہی کی ٹرئینگ کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 80%خطوط وزیراعظم ہاوس سے اردو میں ہی جاری ہوتے ہیں۔ واپڈا، سائن بورڈ, سی ایس ایس اور پاسپورٹ کے فارم اردو میں کر دئیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اردو زبان کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا .انجمن ترقی اردو کی بنیاد1903ء میں رکھی گئی۔ بات عدالتوں سے شروع ہوئی تھی اور آج عدالتیں ہی اس کے دفاع  کے لیے آگے آئی ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی عظمت,کو سلام پیش کرتی ہوں فاطمہ حسن صاحبہ نے مدلل انداز میں اردو کی اہمیت پر بات کی.
اجلاس کے اختتام پر پروفیسر سلیم ہاشمی نے تمام ارکین کا شکریہ ادا کیا انہوں نے نوجوان کالم نگاروں کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جن میں خاکسار اور اپم پی خان  شامل ہیں .
میں اپنے  دوستوں بلال اعوان, عمرفاروق اورتنویر حسین کا زاتی طور پر شکر گزار  ہوں جنہوں نے میرے کہنے پر اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کی.

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذر ا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

 862 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/zsum746
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *