فرسٹ کلاس کرکٹراوربین الاقوامی کوچ محمد ناصر خان کا خصوصی انٹرویو

Print Friendly, PDF & Email

انٹرویو:حفیظ خٹک


راقم: محمد ناصر خان ، سب سے پہلے اپناخاندانی و تعلیمی پس منظر بتائیے ؟
محمد ناصر خان: شہر قائد کی اس معروف ویب سائٹ کو مشکور ہوں جس کے تخت آپ میرا نٹر ویو لے رہے ہیں ۔ 31مئی 1975نارتھ کراچی میں ،میری پیدائش ہوئی ہم مجموعی طور پر 8بہن بھائی ہیں ، ان میں میرا نمبر 2ہے ۔1992میں ، اپوابوئز سیکنڈری اسکول سے میٹرک کیا ، اس کے بعد پی ای سی ایچ ایس ایجوکیشن فاؤنڈیشن سائنس کالج سے 1994میں انٹر کیا ۔ جس کے بعد مزید پڑھنے کی خواہش زیادہ کرکٹ کھیلنے کے باعث پوری نہیں ہوسکی۔
راقم: کرکٹ کھیلنے کا آغاز کب سے کیا ،اس کے ساتھ یہ بھی بتائیں کہ شہر قائد میں کن کی جانب سے کرکٹ کھیلی؟
محمد ناصر خان: 1990میں جب میری عمر 15برس تھی تب سے کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا ، اس وقت میں آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا ، سب سے آج تک کرکٹ کھیلنے کا سفر جاری ہے ۔ اب میری عمر 40 سال سے زائد ہوچکی ہے اور کرکٹ کھیلنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے تاہم اس وقت کرکٹ کھیلنے سے زیادہ کرکٹ سیکھانے اور بہتر انداز میں کھیلنے کی ذمہ داری نبھا رہا ہوں۔
جہاں تک شہر قائد میں کڑکٹ کن جی جانب سے کھیلنے کا تعلق ہے تو سب سے پہلے kccaکی جانب سے کھیل کا آغاز کیا ، اس کے بعد رفیق شیرازی کرکٹ کلب کی جانب سے کھیلتا رہا۔ kccaکی جانب سے ہی انڈر 19کھیلا۔ دیوان شوگر ملز ڈیپارٹمنٹ ، پاکستان نیوی کی جانب سے گریڈ 2کھیلا ۔ ڈی ایچ اے کی جانب سے فرسٹ کلاس اور گریڈ 2کرکٹ کھیلتا رہا ۔
راقم: بین القوامی ٹیموں کے خلاف کب سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا؟
محمد ناصر خان: یہاں یہ بتاتا چلوں کہ میں بائیں ہاتھ سے بالنگ کرانے والا فاسٹ باؤلر اور بلے بازی کرنے والا کھلاڑی ہوں۔ 2004/5میں دورہ آسٹریلیا کیلئے دورہ کیمپ میں ہواجس میں میری شرکت ہوئی اور اس کے کچھ عرصے کے بعد ہی قومی کرکٹ ٹیم انڈر 19کی جانب زمبابوئے کے خلاف سائڈ میچز کھیلے۔ 14برس تک شہر قائد سمیت پورے ملک میں کرکٹ کھیلنے کے بعد میں 2004ہی میں برطانیہ گیا اور لیور پول شہر میں ویور ٹری کرکٹ کلب کی نمائندگی کی۔
muhammad nasir khan 2راقم: برطانیہ میں کن کن کرکٹ کلب کی جانب سے کرکٹ کھیلی اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کا بھی موقع ملا؟
محمدناصر خان:ویور ٹری کرکٹ کلب کی جانب سے کھیلنے کے بعد سال 2005اور 2006 سلور ڈیل کرکٹ کلب کی جانب سے پورے سیزن میں کرکٹ کھیلی۔2007میں ہین فورڈ کرکٹ کلب کی جانب سے کھیلتا رہا ۔اس کے بعد اسٹیفرڈ شائر کی جانب سے کاؤنٹی کرکٹ کھیلتا رہا۔اسی دوران برطانیہ میں ہونے والی کاؤنٹی کرکٹ کھیلتا رہا۔
راقم: لیگ اور کاؤنٹی دونوں کرکٹ میں فرق کیا ہے ، یہ بتائیں کہ قومی ٹیم کے کن کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا؟
محمد ناصر خان:لیگ کرکٹ میں بین القوامی کھلاڑی لازمی ہوتا ہے جبکہ کاؤنٹی کرکٹ میں ٹیسٹ کرکٹر کا ہونا ازحد ضروری ہوتا ہے۔اس کے تحت برطانیہ میں کرکٹ ہوتی ہے جس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔مجھے یہ دنوں اقسام کی کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا ۔ تنویر احمد، طاہر خان،گگن جیت سنگھ،قیصر عباس،شاہد آفریدی، عمران نذیراور سہیل تنویر سمیت دیگرمتعدد قومی اور بین القوامی کھلاڑیوں کے ساتھ لیگ کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا۔جبکہ کاؤنٹی کرکٹ میں راشد لطیف، غلام علی، معین خان اور ندیم خان سمیت دیگر بین القوامی کھلاڑیوں کے ساتھ کاؤنٹی کرکٹ کھیلا۔
راقم: ناصرخان صاحب یہ بتائیں کہ اس کے بعد آپ نے کن ملکوں میں اس کھیل کے ذریعے خدمات سرانجام دیں؟
محمد ناصر خان:آئی سی سی کرکٹ ممبر بنگلہ دیش 2008میں گیا اور وہاں پر برادرز کرکٹ کلب کی جانب سے وہاں کی قومی سطح کی کرکٹ کھیلتا رہا۔ایک برس تک وہاں کھیلنے کے بعد 2009متحدہ عرب امارات کی لوکی کرکٹ کلب کے ذمہ داروں نے رابطہ کیا اور مجھ سے پورے برس ان کی جانب سے کرکٹ کھیلنے کی درخواست کی ۔ جس کو میں نے پورا کیا ۔ایک برس کھیلنے کے بعد سعودی عرب کے شہر دمام سکونت پذیر ہوا اور ان کے کرکٹ کلب 2010 کا پورا برس کرکٹ کھیلتا رہا۔ یہاں یہ بتا نا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسی دوران سعودیہ انڈر 19 کا مجھے ہیڈ کوچ بنایا گیا جس کے بعد میں نے انہیں تربیت دی اور کویت سے کھیلنے کیلئے ایک دورہ ہوا۔جس کے بعد سعودی عرب کی قومی ٹیم کا دورہ متحدہ عرب امارات ہوا جس میں ،میری ذمہ داری ان کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے رہی۔انہی دنوں دمام کے کلب ایسٹرن پروٹس کرکٹ کلب ایسوسی ایشن کا بھی ہیڈ کوچ رہا ۔سعودی عرب میں انہی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے 5برس ہوگئے۔گذشتہ برس کے آخر ی ماہ میں میری سعودی عرب سے واپسی ہوئی ۔ اس پورے دورے کے دوران برطانیہ اور سعودی عرب کی جانب سے معقول مراعات کا انتظام کیا جاتا رہا ہے۔
راقم: یہ بتائیں کہ کرکٹ کی کوچنگ کی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے کورسس بھی کئے یا مخص اپنے تجربے کی بنیاد پر کرکٹ سیکھانے کی کوشش کرتے رہے؟
محمد ناصر خان:آپ کا یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کیونکہ میں اس سوال کے جواب کے میں حکومت ان اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کران چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں لیول 1اور لیول 2کرکٹ کھیلنے اور سیکھانے کیلئے کوئی کام نہیں کیا گیا ، کوئی تربیتی پروگرام سامنے رکھے بغیر ہی کوچنگ کا آغاز کر دیا جاتا ہے جس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ جہاں تک میرے سیکھنے کا تعلق ہے تو میں لیول ایک اور دو کیلئے کوچنگ باقاعدہ برطانیہ میں کورس کئے۔اس کے ساتھ لیول 2 کوچنگ کورس ایشیا ء کرکٹ کونسل کی جانب سے لاہور میں منعقد ہوا جس میں ، میں نے سعودی عرب کے کوچ کی حیثیت سے شرکت کی اور اس پورے کورس کو مکمل کیا ۔
راقم: وطن واپسی کے بعد ان دنوں کیا مصروفیات ہیں اور کیا شہر قائد کے میدانوں میں کرکٹ کھیلی؟
محمد ناصر خان:ملک میں میری واپسی مسلسل ہوتی رہی ۔ اس بار جب سے واپس آیا ہوں تو یہ نسبتا طویل دورانیہ ہوگیا ہے ۔ آنے کے بعد متعدد جگہوں پر اپنی خدمات پیش کیں تاہم کہیں سے مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ ان دنوں راشد لطیف کرکٹ ایکڈمی کی جانب سے کرکٹ کھیلتا رہتا ہوں ۔ یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ 40سال سے زائد عمر کے کھلاڑی ویٹرن کرکٹ کھیلتے ہیں ، جن میں وقت گذرنے کے ساتھ اب میں بھی شامل ہوچکا ہوں۔
راقم: قومی کرکٹ ٹیم کی موجودہ صورتحال پر کیا کہیں گے؟
محمد ناصر خان:ہماری موجودہ کرکٹ ٹیم دنیا کی کسی بھی ٹیم سے ٹیلنٹ میں کم نہیں تاہم اس کے باوجود بھی یہ اس وقت دنیا کی کمزور ٹیموں میں شمار ہونے لگ گئی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ ٹیم کے آپس میں موجود اختلافات ہیں۔ٹیم میں اتفاق و اتحاد نہیں ٹیم مجموعی طور پر ایک نظر آتی ہے لیکن دراصل ٹیم منتشر ہے۔ اور یہ بات یاد رکھی جانی چاہئے کہ جس ٹیم میں اتحاد ہوگا ، منظم ہوگی تو جیت اسی ٹیم کے قدم چومے گی۔ ماضی کی قومی ٹیم کو موجودہ ٹیم سے موازنہ کریں گے تو یہی بات سامنے آئے گی کہ قومی ٹیم میں ٹیلنٹ بہت ہے لیکن ٹیم متحد نہ ہونے کی وجہ سے کامیابیوں سے دور ہے۔ جس روز بھی ہمارے کھلاڑی ملکر متحد ہوکر کھیلیں گے تو جیت ان کے قدم چومے گی۔
باقی میری خدمات شہرقائد کے ہر کلب کیلئے ملک کے ہر کھلاڑی کیلئے حاضر ہیں جہاں بھی چاہیں حکومتی کھیلوں کے ادارے میری خدمات سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

925 total views, 2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/j44lchu
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...