مودی وکیمرون کی ناکامیاں

Print Friendly, PDF & Email

  :بھارت کی این ایس جی میں ناکامی
جون 2016ء میں بین الاقومی سطح پر دو معاملات بہت اہم اور اُنکے نتائج بہت دلچسپ رہے ۔پہلا معاملہ تھا بھارت کی نیو کلیئر سپلائرز میں شمولیت۔بھارت کے وزیرِاعظم نندر مودی نے اس سلسلہ میں انتہاء کی کوشش کی اور بیرونی ممالک کے دورے بھی کیلئے تاکہ راہ ہموار ہو سکے اور وہ نیو کلیئر سپلائرز کی فہرست میں شامل ہو جائے ۔
اس دوران پاکستان نے اپنے تحفظات کو ملحو ظِ خاطر رکھتے ہوئے بھارت کی اس کوشش کو خارجی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا اور باور کروایا کہ بھارت کو کوئی بھی ایسی سہولت مہیا کرنا پاکستان کی سلامتی پر وار کرنے کے مترادف ہو گا۔بعدازاں چین سمیت 10ممالک جن میں برازیل بھی شامل تھا نے بھارت کی گروپ میں شامل ہونے کی مخالفت کر دی ۔جس پر وہ رُکن نہ بن سکا اور اسکی ذمہ داری اُس نے چین پر ڈال دی۔
بھارت میں یہا ں تک کہا گیا کہ این ایس جی کے 48ارکان میں چین کے علاوہ تمام 47ممالک بھارت کے حمایتی ہیں۔جس پر چین کا میڈیا و سرکاری اخبار بھی میدان میں آگیا اور واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ پوری دُنیا نہیں ہے ۔یعنی اُسکی حمایت کے بعد بھارت سمجھ لے کہ اُس نے پوری دُنیا کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ اصل میں مغربی ممالک کی تعریف نے بھارت کو مغرور بنا دیا ہے۔
لہذا چین کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ایک تو بھارت جانتا ہے کہ 10ممالک نے مخالفت کی ہے نہ کہ اکیلے چین نے اور دوسرا اگر وہ چاہتا ہے کہ اس کا ملک اہم طاقت تصور کیا جائے تو یہ اُسکو جاننا ہو گا کہ اہم طاقتیں اپنا کھیل کس طرح کھیلتی ہیں۔
برطانیہ کی یورپی یونین سے علحیدگی:
برطانیہ کو کیا یورپی یونین میں رہنا چاہیئے یا نہیں وہاں کی عوام نے 24جون2016ء کو ریفر نڈم کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کر کے ووٹ نفی میں دے دیا اور وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اُس کو اپنی شکست مان کر پہلا جملہ یہ بولا  (اَل پولیٹکل لائفس اینڈ اِن فیلیئر)  Allpolitical lives end in failure ۔
پھر اگلے چند گھنٹوں میں وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون یہ کہہ کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا کہ اُنکی رائے میں یورپی یونین میں شامل رہنا بہتر تھا ۔ ایسا ہو تا تو اُنکے لیئے معالات آگے بڑھنا آسان تھے ۔لیکن اب اُنکے پاس نفی پر انگلینڈ کی حکومت کا بغیر پورپی یونین کے مستقبل کیا ہو گا منصوبہ بندی نہیں ہے۔ لہذا علحیدگی کے طرفدار وں کو موقع ملنا چاہیئے کہ وہ نئی منصوبہ بندی کر نے کیلئے آگے قدم بڑھائیں۔
دوسری جنگ عظیم کے ایک عشرے بعد یورپی یونین کا وجود عمل میں لایا گیا اور 1973ء میں ریفرنڈم کے ذریعے ہی برطانیہ نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی ۔لہذا پانچویں نمبر کی معیشت کے تجارتی فیصلے لندن کے علاوہ یورپی یونین کے ہیڈکواٹر برسلز میں بھی ہو نے لگے۔معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے تھے اور سنگل مارکیٹ کا نظریہ کام بھی کر گیا تھا ۔ ساتھ میں دُنیا بھر کیلئے مثال بھی۔
پھر اس ہی دوران یورپی یونین کو توسیع دے کر پولینڈ ،رومانیہ،سلوانیہ اور سلواکیہ سمیت یورپی ممالک کے کئی اور ممالک شامل کرنے سے برطانیہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں کم وبیش 30لاکھ باشندوں کا اضافہ ہو نے سے ایک طرف امیگریشن کا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا اور دوسری طرف پولینڈ اور رومانیہ کے باشندوں نے کم اُجرت پرکام کرنے کی حامی بھر لی تھی۔ ااُوپر سے اُنکے رہن سہن کے طریقے بھی مختلف نظرآنے شروع ہوئے ۔
ان حالات میں معاشی و سماجی مسائل نے ایک نیا سیاسی رنگ اختیار کر لیا ۔اسطرح برطانیہ کی عوام میں اپنی پہچان اور سا لمیت کیلئے قوم پرستی کا جذبہ پیدا ہو گیا اور ریفرنڈم میں یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دے کر اپنی پہچان، سا لمیت اور حقوق کے تحفظ کیلئے ایک ایسا نیا قدم اُٹھا دیا جسکے نتا ئج مستقبل میں مثبت ہو نگے یا منفی دُنیا بھر کے تھینک ٹینکز کیلئے ایک نیا سوال پیدا کر دیا۔
لہذا بھارت ایک اہم گروپ میں شامل ہونے میں ناکام رہ گیا اور برطانیہ ایک اہم گروپ سے الگ ہو کر مستقبل کی کامیابیوں و ناکامیوں پر سر جوڑ کر بیٹھ گیا۔لہذا 13ِجولائی2016ء کو برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون رُخصت ہو ئے اور اُنکی جگہ نئی وزیرِ اعظم تھریسامے نے ذمہ داریاں سنبھال کر آنے والے نئے چیلنجز کی تیاریوں کا عندیہ دے دیا ہے۔

688 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/hrnrtow
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *