نوجوان صحافی و کالم نگارایس ایم عرفان طا ہر کو دہشتگردی و انتہا پسندی کے خلا ف اعلیٰ صحافتی کارکردگی پر میڈیا ایوارڈ سے نوازا گیا

Print Friendly, PDF & Email

برمنگھم ( ایس ایم عرفان طا ہر سے ) کمیونٹی فا ؤ نڈیشن برطانیہ کے زیر اہتمام سالانہ کمیونٹی انسپائیریشن ایوارڈز شو مقامی ہال میں انعقاد پذیر ہو ا ۔ جس میں مقامی سطح پر اہم حکومتی سیاسی سماجی اور مذہبی شخصیات نے بھرپور شرکت کی ۔ میزبانی کے فرائض ناظم الحسن چیف ایگزیکٹو کمیونٹی فا ؤ نڈیشن برطانیہ نے سرانجام دیے ۔ جبکہ اس موقع پر ڈیوڈ جیمسن ویسٹ مڈلینڈز پولیس اینڈ کرائم کمشنر ، جان برٹن چیف ایگزیکٹو سینڈول کونسل ، جیسن کیمپنبیل ایریا کما نڈر فا ئر سروسز ، رچرڈ برڈن ممبر برطانوی پارلیمینٹ ، اینجلا پربیٹ چیف آپریٹنگ آفیسر برمنگھم سٹی کونسل ، کورین کرین چیف ایگزیکٹو بلیک کنٹر ی چیمبر آف کامرس، لارڈ میئر آف برمنگھم کونسلر اینے انڈرووڈ ، پیٹر میتھیو ز چیئرمین ویسٹ مڈلینڈز کینال اینڈ ریور ٹرسٹ ، ڈیو تھا مسن چیف کا نسٹیبل ویسٹ مڈلینڈز پولیس ، کونسلر محمد افضل ، فیل بینین ، راجہ فاروق خان، راجہ محمد اشتیا ق، سابق کونسلر محمد شوکت علی ، ملک آصف ، فراز احمد ، محمد ریئس، سید عابد کاظمی، زاہد خٹک ، شہلا گل ، محمد بشارت ، شکیل ڈار ، رعنبرین خان، افتخار جگنو اور دیگر نے خصوصی شرکت کی ۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہا ئے زندگی میں کا رہا ئے نمایا ں سرانجام دینے والے افراد کو کمیونٹی انسپا ئیریشن ایوارڈز سے نوازا گیا ۔سیکورٹی ، فا ئر سروسز ، پولیس اینڈ کرائمز ، ویلفیئر ، رواداری ، مذہبی ہم آہنگی اور دیگر شعبہ جا ت میں غیر معمولی کا کردگی سرانجام دینے والوں میں سے تین لوگو ں کو ایوارڈ زکے لیے چنا ؤ کیا گیا جس میں سے ایک کو ونر قرار دیتے ہو ئے اول پو زیشن سے نوازا گیا ۔ اس موقع پر نوجوان صحافی و معروف کالم نگا ر ایس ایم عرفان طا ہر جو کہ گذشتہ تین سال سے عظیم برطانیہ میں دہشتگردی انتہا پسندی نفرت تعصب ، تفریق کے خلا ف اور بین المذاہب ہم آہنگی و اتحاد و اتفا ق کے لیے کا رہا ئے نمایا ں سرانجام دے رہے ہیں کو میڈیا کے حوالہ سے برطانوی ٹیلی ویثرن نور ٹی وی اور ویب چینل ورلڈ نیوز ٹیلی ویثرن یو کے کے پلیٹ فارم سے موئثر کا رکردگی پر اول پو زیشن پر میڈیا ایوارڈ سے نواز گیا ۔ اس موقع پر ایس ایم عرفان طا ہر نے میڈیا نما ئندگان سے با ت چیت کرتے ہو ئے کہاکہ دہشت و وحشت کا ناسور پوری دنیا کو اپنی آغوش میں لیے ہو ئے ہے جس کی وجہ سے نفرتیں اور قدورتیں تیزی سے پھیلتی ہو ئی دکھائی دیتی ہیں ۔ ان نا مساعد حالا ت میں بحثیت مسلمان ہما ری یہ اولین ذمہ داری ہے کہ یو رپ اور برطانیہ میں رہنے کے ساتھ ساتھ اس ملک کو اپنا ملک اور اس کی جغرافیائی اور فکری سرحدوں کی حفاظت کو اپنا نصب العین سمجھتے ہو ئے عملی اقداما ت اٹھا ئے جائیں تاکہ اسلام اور مسلمان کے حوالہ سے تیزی سے پھیلنے والے پروپیگنڈہ کو احسن انداز میں روکا جا سکے ۔ انہو ں نے کہاکہ بیرونی مسائل اور پروگرامات سے زیادہ اندرونی ملکی معاملا ت کو سمجھتے ہو ئے ہمیں اپنی ذمہ داری نبھانا ہو گی ۔ برطانیہ میں موجود مسلم نوجوان نسل کو سوشل میڈیا اور مختلف جد ید طریقوں سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کی طرف اکسایا جا رہا ہے جس کے لیے ہمیں انتہا ئی حکمت عملی کے ساتھ عملی اقداما ت اٹھا نے ہو نگے ۔ انہو ں نے کہاکہ مسلم حجابی خواتین پر حملوں کو پیچھے ایک مذموم سازش کا رفرما ہے جسے بڑے تحمل اور فہم و فراست کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ بدلے کی آگ ہمیشہ کسی بھی ملک کے اندر اختلافات اور تباہی و بربادی کو ہوا دیتی ہے جس سے بچنے کے لیے ہمیں محتاط رہتے ہو ئے منفی قوتوں اور اپنے اندر موجود کالی بھیڑو ں کو بے نقاب کرنا ہو گا ۔یہا ں مقامی کمیونٹی کو اس با ت کی یقین دہانی بھی کروانا ہو گی کہ داعش، آئی ایس آئی ایس،آئی ایس آئی ایل، القا عدہ ، بوکو حرام، الشباب، تحریک طالبان،حزب اللہ یا کوئی بھی کا لعدم دہشتگرد و انتہا پسند تنظیم کا تعلق اسلام اور مسلمانو ں سے ہرگز نہیں ہے اسلیے ان کا بدلہ کسی بھی مہذب معاشرے کا حصہ مسلمان مرد عورت سے نہ لیا جا ئے بلکہ مسلمانو ں کو اعتماد میں لیتے ہو ئے مل کر اتحاد و اتفاق کے ساتھ منفی شیطانی قوتو ں کے خلا ف صف بندی کی جا ئے جو ملک و قوم کے امن وامان اور سکون کے لیے بے حد ضروری ہے ۔ 

26 total views, 2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y7fwucgv
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...