لیلة القدر…. ایک انعامی رات

Print Friendly, PDF & Email

امِ محمد، ٹوبہ ٹیک سنگھ
یوں تو اللہ تعالی نے حضرت انسان پر بہت سے انعامات فرمائے ہیں، جن کا شمار احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ من جملہ ان میں سے ایک عظیم الشان انعام ماہ رمضان بھی ہے۔ اس انعام میں مزید بڑھاوا دینے کے لیے خالق کائنات نے لیلة القدر جیسی عظیم الشان رات بھی پیدا فرما دی۔
رمضان المبارک ہزار برکتوں اور رحمتوں کو اپنے دامن میں لیے امت مسلمہ پر سایہ فگن تو ہے لیکن لیلتہ القدر کو اگر اس مبارک مہینے کے ماتھے کا جھومر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس مہینے کو حق تعالی شانہ نے اپنا مہینہ فرمایا ہے۔ گویا اس ماہ مبارک میں اللہ جل شانہ انسان کو اپنا بندہ بنانا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالی یہ چاہتے ہیں کہ اس کے بچھڑے ہوئے بندے اپنے خالق و مالک سے ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جوڑ لیں۔
رمضان المبارک کے آخری یعنی جہنم سے آزادی والے عشرے کی خصوصیت لیلتہ القدر ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید میں اس رات کو ہزار مہینوں سے بہتر کہا گیا ہے۔ گویا جو شخص اس رات کو اپنی ہمت و استطاعت کے مطابق عبادات کرے گا ا،س کو ایک ہزار مہینوں سے زیادہ ثواب عطا کیا جائے گا۔ مزیدکتنا عطا کیا جائے گا؟ اس کی مقدار اللہ جل شانہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں۔حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا ہے کہ لیلتہ القدر کو آخری طاق راتوں میں تلاش کیا کرو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلتہ القدر معین طور پر بتائی گئی تھی مگر حکمت خداوندی کے تحت پھر بھلا دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شائد یہی تمہارے حق میں بہتر ہو ! کیونکہ اگر معین طور پر بتا دی جاتی تو ممکن تھا کہ کچھ لوگ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جاتے۔ مگر حق تعالی کو منظور تھا کہ یہ امت اس خیرو سعادت کی تلاش میں لگی رہے ، یوں اس کے لیے ہر شب ، شبِ قدر بن جائے۔ مومن رمضان کی پہلی رات سے ہی اس کی تلاش کا مشتاق ہو جاتا ہے۔ اسے ہر رات کی محنت اور عبادت شب قدر کی برکات کے حصول کے لیےمستعد بناتی ہے۔ ایک حکمت اس میں یہ بھی تھی کہ اگر شب قدر معین کر دی جاتی اور خدانخواستہ کوئی شخص اس رات میں گناہ و معصیت کی غلاظت میں ملوث ہوتا تو یہ رات اس کی شقاوت اور بدبختی کی دلیل بن جاتی جیسے کوئی شخص نعوذ باللہ بیت الشریف میں بدکاری کاارتکاب کرے تو اس کے محروم اور بد قسمت ہونے پر مہر لگ جاتی ہے۔ شب قدر میں آسمان سے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور مومنین جو عبادات وغیرہ میں مشغول ہوتے ہیں فرشتے ان کو سلام کرتے ہیں سبحان اللہ!!! ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور دعا مانگنے والوں کی دعاو¿ں پر آمین بھی کہتے ہیں۔
کس قدر خوش بخت ہے وہ انسان ، جس کے لیے فرشتے دعا کریں یا ان کی دعاو¿ں پر آمین کہیں۔ جو بھی شخص شب قدر میں ذکرو عبادت اور دعاوالتجاءمیں مشغول ہو اسے اس سب کا پورا ثواب ملتا ہے۔خواہ ظاہری آنکھوں سے کوئی چیز نظر نہ بھی آئے۔ شب قدر میں رات بھر عبادت کرنا اور ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہ ہونا بڑی بلند ہمتی کی بات ہے۔ لیکن اگر کوئی اس کا متحمل نہیں تو حسب استطاعت عبادت کرے۔ ایک حدیث مبارکہ میں ہے ، جس شخص نے عشاءکی نماز باجماعت پڑھی گویا اس نے آدھی رات عبادت کی اور جس شخص نے عشاءو فجر دونوں باجماعت پڑھیں گویا اس نے پوری رات عبادت کی۔ اس لیے زیادہ نہیں تو اتنا تو ہر مسلمان کو کرنا چاہیے۔
لیلتہ القدر سورج غروب ہونے سے لیکر صبح صادق تک رہتی ہے۔ کتنی خوش نصیبی کی بات ہے، اگر شب قدر کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے آخری عشرہ کا اعتکاف کر لے، تاکہ ایک لمحہ بھی عبادت کے بغیر ضایع نہ ہو۔ اماں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں ، میں نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا
” اگر شب قدر پاو¿ں تو کیا دعا مانگوں؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ رب العزت سے یوں کہنا ”یااللہ! آپ بہت معاف فرمانے والے ہیں اور معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں اے اللہ! مجھے بھی معاف کر دے “ اگر یہ دعا قبول ہو گئی ( اور یقینا قبول ہو گی ) تو یقین رکھیں کہ بیڑا پار ہو گیا!!!!! کیونکہ وہ کریم آقا ایک بار معاف کر دینے کے بعد دوبارہ نہیں پکڑتے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب شب قدر آتی ہے تو جبرائیل علیہ السلام ملائکہ کی ایک جماعت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں ، ہر اس بندے کے لیے جو کھڑا یا بیٹھا اللہ تعالی کا ذکر کر رھا ہو ، سلام کرتے ہیں اور اس کے لیےدعا کرتے ہیں۔“ اب دیکھتے ہیں ذات باری تعالی کے اس انعام کے حصول کی ہم کتنی کوشش کرتے ہیں؟؟؟۔

108 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y5gekp8h
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *