لہو لہو کشمیر

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: اسریٰ خان عصر


یہ تو سب جانتے ہیں کے کشمیر اس وقت پاکستان کے لیے اک سلگتا مسلہ ہے۔پر افسوس کے اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی خاص کاروائی منظر عام پر نھیں آئی۔
کشمیر کی سرحدیں ایک طرف پاکستان جبکہ دوسری طرف چین اور بھات کیساتھ ملی ہوئی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کے بانء پاکستان محترم قائداعظم نے جغرافیائی حدود کے تناظر میں کشمیر کو پاکستان کی سُرنگ قرار دیا تھا۔
مگر بھارت نے اس وادیِ مسلم کو قید و پابند رکھنے کے لیے اور اس پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے لئے آٹھ لاکھ فوج تعینات کردی۔جو آئے روز کشمیریوں پر نت نئے طریقوں سے ظلم ڈھاتی ہے۔اور حالیہ کچھ عرصے میں ان مُظالم میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔معصوم پجوں اور جوانوں کو چھرے والی گنوں کے ذریعے نابینا کیا جارھا ہے۔ہماری بیگناھ ماؤں بھنوں کی عزتوں کو پامال کیا جارہا ہے انکی عصمتوں کو روندا جاہا ہے یہ سب کر کے یہ جلاد صفت لوگ انکے ہمت و حوصلے کو ختم کر دینا چاھتے ہیں تاکہ وہ اپنی سرزمین چھوڑ دیں اور بھارتی منشا کے مطابق کشمیر پر قبضہ کرلیں۔
برصغیر کی آزادی کے بعد بھی اس مسلے پر پاکستان اور بھارت کے بیچ تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔جبکہ چھوٹی موٹی جھرپیں تو آئے روز کا معمول ہے۔اور اب پھر تین ماہ سے جاری کرفیوں کی وجہ سے کشمیریوں کو اشیاءِ خوردونوش سمیت رندگی کی تمام بنیادی سہولتوں سے محروم کردیا گیا ہے۔ پر بات یہاں پر ختم نھیں ہوجاتی۔بلکہ مسلمانوں کو نمازِ جمعہ کیا نمازِ عیدین بھی نا ادا کرنے دی۔۔
افسوس کے سنت ابراھیہمی تک کرنے سے محروم کردیا گیا…. کسی نے کبھی غور نھیں کیا کے جارحیت اسرائیلی ہو بھارتی یا برماعیں جاحیت.. فلسطین وشام میں جنگ وجدل۔ان تمام جارحیت کا سامنا کرنے والے مسلمان ہیں۔اور مسلم ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ویسے تو مغربی ممالک میں ایک کتے پر بھی تشدد نھیں برداشت نھیں کیا جاتا۔جبکہ کشمیریوں کی کئی نسلیں ختم کر دی گئی مگر کسی نے آواز نھیں اٹھائی سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے یہ سب خوفزدہ ہے۔ یہی سچ ہے ایمان و کلمہ پر یقین رکھنے والے اللہ اور رسول کے ایمان کی خاطر ڈٹ جانے والے یہ لوگ ہر مسلمان سے خوفزدہ ہے . اہل ایمان تمام تر مظالم سہنے کے باوجود حالات کا دلیری سے مقابلہ کر رہے ہے۔ اور یہی پختگء انکی انقلاب لانیکی وجہ ہوگی۔۔
ادھر اگر بات حکومت کی کی جائے تو میرے خیال میں وہ اپنے الفاظ ضائع کرنے والی بات ہوجائے گی وزیر اغظم نے جنرل اسملی میں جو سترہ منٹ کی تقریر کی اسمیں کہی ایک دفعہ بھی مودی کا نام نھیں لیا گیا جبکہ وہ لوگ نام لے لیکر ذلیل کرتے رہے۔ضرور اس تقریر کے پیچھے بھی انکا کوئی مفاد ہوگا۔ کہ اقتدار کی چاھ اور تجوریاں بھرنے کی لَت(شوق) نے انھیں اس قدر مجبور کر دیا ہے کے وہ اپنے ضمیر کی آواز سننے سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔۔
پاکستان میں بدامنی پھیلانے والا میڈیا کشمیری مظالم اور پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی پر چپ کا روزہ رکھ کر بیٹھا ہوا ہے۔وہ اسقدر حساس و دلسُوز واقعے کو وہ اہمیت نھیں دے رہا جتنی اک اداکارہ کی انگلش اور چائے والے کے کارناموں کو دے رہا۔ بھت ہی افسوس کا مقام ہے۔۔
پر کیا کیا جائے کے بات وہی آجاتی ہے نا کے مفاد پرستی اسقدر بڑھ گئی ہے کے لوگ اپنی بَچی کُچی انسانیت بھی بیچ چکے ہیں۔۔ ہر کسی نے بے حسی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے
آج کشمیر کے مُظالم حالات و مناظر 1947 کی مکمل عکاسی کر رہے ہیں۔۔
پر انشااللہ اس دفعہ بھی جیت اُمّت مسلمہ کی ہوگی۔۔
کشمیریوں کی جدوجہد اور آزادی کی تڑپ انھیں ایک دن ضرور فتح یاب کرے گی۔جب کشمیر کی پاک دھرتی سے بھارتی سورماوءں کا خاتمہ ہوگا تو کشمیر میں چارسو امن و محبت بھرے گیتوں کی بازگشت ہوگی۔انشااللہ وہ دن دور نھیں جب کشمیر کی سرسبز چوٹیوں کی اوٹ سے آزادی کا سورج طلوع ہوگ۔اللہ کرے وہ دن جلد آئے جب ہم ان خوف و حراس میں جگڑے چہروں پر آزادی کی خوشی دیکھ سکے۔۔
کشمیری سالہاسال سے ظلم و پابندی کی بنا پر کُھٹی کُھٹی سانسیں لے رہے ہیں۔انکی کئی نسلیں آزادی کے لیے جنگیں لڑتے لڑتے قربان ہوگئی ہیں۔۔ کسی نے کشمیر میں بھتے لہو کے شور کو سنے تک کی زحمت نھیں کی وہ اپنی مدد آپ کرتے رہے ہیں۔۔
اب وقت آگیا ہے کے ہم اور آپ کشمیریوں کی جنگ آزادی ک حصہ بن کر اپنا اپنا حق ادا کریں۔ہر محار اور ہر سطح پر کشمیریوں کی بات کر کے عالمی ضمیر کو جنجھوڑے کے وہ اس خطے کو آزادی دے کر انسانیت کا بول بالا کرے۔۔
اور مجھ سمیت آپ سب اپنے قلم کے ذریعے ہی ان بے آسرا جبر و ظلم کا شکار ہوئے لوگوں کو حوصلہ دیں اور انھیں یہ یقین دلایءں کے ہم اس قیامت خیز لمحوں میں انکے ساتھ ہیں
اللہ پاک کشمیر کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اسے امن کا گہوارہ بنا دے
آمین

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نھیں دیتے

1,045 total views, 4 views today

Short URL: //tinyurl.com/zyhmubo
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *