کشمیر کی سلگتی سرزمین کے لیے ہوا کاخوشگوار جھونکا

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: رشید احمد نعیم،پتوکی


آج جس طرف بھی نگاہ اُٹھتی ہے مسلمان ظلم و برریت کا شکار نظر آ رہے ہیں کیوبا،ابو غریب، گوانتاناموبے و دیگر جیلوں میں قید صرف مسلمان ہی قید و بند کی مشکلات کا سامنا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ظلم ہو رہا ہے تو مسلمان پر،عزتیں پامال رہی ہیں تو مسلمان کی،جبرو استبداد کا سامنا ہے تو مسلمان کو،ہر طرف دھمکایا جا رہا ہے تو مسلمان کو،الغرض جدھر بھی دیکھیں،مسلمان ہی مظلومیت کی تصویربنا دکھائی دیتا ہے۔فلسطین ،بوسنیا،چیچنیا،افغانستان ، عراق کشمیراور بھارت جدھر بھی دیکھیں،مسلمان کا ہی خون ارزاں دکھائی دیتا ہے اور ایسا اس لیے ہے کہ آج ہم بے عمل،جہاد سے بے خبراور یہود ونصاریٰ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا چھوڑ چکے ہیں۔ بلکہ یہود ونصاریٰ سے پیار کی پینگیں’’ بھڑانے‘‘ میں مصروف ہیں اگر بغور جائزہ لیا جائے تویہ حقیقت کھل کر عیاں ہو جاتی ہے کہ دنیا میں آج جتنی بھی جنگہیں ہو رہی ہیں،و ہ دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف ہو رہی ہیں۔جن کا مقصد صلیبی جنگ کی ابتدا ہے۔ یہ بات راقم الحروف کسی مٖفروضے کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا ہے بلکہ آپ کو یاد ہو گا کہ نائن الیون کے واقعہ کے فوری بعد، اس وقت کے امریکی صدربش نے اپنے اس وقت کے خطاب میں کروسیڈ(جس کے معانی صلیبی جنگ کے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف ہوتی ہے) کا لفظ استعمال کر چکے ہیں۔وہ الگ بات ہے کہ ان الفاظ کی ادائیگی کے فوری بعدواقفان حال کے انکشاف کرنے پر یہ کہہ کر الفاظ واپس لے لیے گئے کہ یہ انجانے میں نکل گئے تھے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ الفاظ انجانے میں نہیں بلکہ ایک تہہ شدہ منصوبے کے تحت بولے گئے تھے۔امریکیوں کی فطرت ہے کہ یہ جو پہلے کہتے ہیں،بعد میں اس کی تردید بھی کر دیتے ہیں۔کہتے ہیں کہ جو بات دل میں ہو،کبھی نہ کبھی زبان پر آہی جاتی ہے،اسی طرح نائن الیون واقعہ کے وقت اس وقت کے امریکی صدربش کے ذہن ودل میں جو مسلمانوں کے بارے میں نفرت اورگندگی بھری تھی،وہ ’ان کی طرف سے’کروسیڈ ‘‘کے ا لفاظ ادا کرتے ہی سامنے آگئی تھی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکی اپنے ’’مکروہ عزائم کی‘‘ کی تکمیل کے لیے ہر گھناؤنا کھیل سے دریغ نہیں کرتے،جو ارادہ ایک بار کر لیں یا جو مقصد ذہن میں بٹھا لیں اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی پوری منافقانہ روائتی پالیسی کو بروئے کار لاتے ہیں ۔ایسے میں انہوں نے اپنے اندر کی درست نشاندہی کی تھی کہ یہ جنگ دہشت گردوں کے خلاف نہیں، بلکہ مسلمانوں کے خلاف ہے۔جس کا بین ثبوت بعد ازاں اس کا مسلم ممالک پر چڑھ دوڑنا، جنگی حالات پیدا کرنا اور وہاں خون ریزی پھیلاناتھا۔ پھر حقائق پرایک نظر دوڑائیں تو سارا نقشہ آپ کے سامنے گھومنے لگے گا اور مسلمان ہی آپ کو ہر طرف مظلومیت کی تصویر بنا نظر آئے گا۔ بھارت کو ہی لے لیں،اس نے آج تک ہمارا وجود ’’پاکستان ‘‘تسلیم نہیں کیا،جس کے باعث اس سے ہماری اسی وجہ سے تین جنگہیں ہو چکیں ہیں( اس وقت بھی حالات انتہائی کشیدہ ہیں اوربھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور جنگی ماحول پیداکیا جا رہا ہے،)وہ آئے روز ہماری نظر یاتی اساس پر حملہ کرتا رہتا ہے، مجاہدین کشمیر اور پاکستان آرمی کے خلاف من گھڑت ،زہریلا پروپیگنڈہ کرتا رہتاہے،جس کا حقائق کے ساتھ دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا،سازشوں کے جال بننا ،جھوٹ بولنا ،ڈرامہ بازی اورمکاری وعیاری اسکی عادتِ ثانیہ ہے۔اس نے اپنے ملک بھارت میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے ،مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور مسلمان مردوخواتین کو زندہ جلایادیا جاتا ہے۔(گجرات کے مسلم کش فسادات اس کا بین ثبوت ہیں) وہاں ہندو تعصب پسندوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ان کو نیزوں،برچھیوں پر آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے۔وہاں جان ومال تو پہلے ہی محفوظ نہیں تھا اب توعزتوں کی پاسداری بھی جان جوکھوں سے کی جاتی ہے ۔ بھارت میں مسلمان مردوخواتین سے ظلم و زیادتی کابازار گرم ہے۔اقلیتوں سے بھی ناروہ سلوک روارکھا جا رہا ہے۔وہ بھی مودی سرکار سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ بھارتی انتہا پسند تنظیم ’’شیو سینا‘‘نے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ سکون نام کو نہیں ،ہر طرف خوف وہراس کی فضاء پیدا کر رکھی ہے۔ بھارتی عوام ان انتہاء پسندٹولے کے ہاتھوں یرغمال ہے اورمودی حکومت ان کو نکیل ڈالنے کی بجائے خود ان کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ بھارت ہمارے ملک کے اندرونی وبیرونی معاملات میں بہت زیادہ مداخلت کرتا ہے،۔سندھ اور بلوچستان کی خراب صورتحال میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہے، سکولوں ،پارکوں، کچہریوں اور پبلک مقامات پر بم دھماکوں میں راء کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔(بھارتی جاسوس ،انڈین نیوی کے حاضر سروس جنرل گلبھوشن یادیوکے اس حوالے سے بیانات اور تہلکہ خیز انکشافات منظر عام پر ہیں،جس نے بھارت کے مکروہ اور گھناوٗے چہرے سے نقاب اتار دیا ہے )پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں مختلف مقامات پربم حملے ،ملک میں پائی جانے والی ہربد امنی ، افراتفری کے پیچھے بھی ہمسایہ ملک بھارت کا ہاتھ ہے ۔ملک میں جتنے بھی ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے ہیں،تحقیق کرنے پراس کی کڑیاں کہیں نہ کہیں جا کر بھارت سے ہی ملتی ہیں۔کوئٹہ کے ہسپتال اور کچہریوں میں رونما ہونے والاحالیہ واقعہ میں بھی بھارت ملوث ہے۔ بھارت جس نے ہماری ہر کمزوری اور کوتاہی سے بھرپور فائدہ اٹھایا،وہ ہماری تاک میں بیٹھا ہوا ہے،موقع ملتے ہی موقع سے فائدہ اٹھائے گا،بالکل اسی طرح جس طرح اس نے مشرقی بنگال کو پاکستان سے الگ کر کے اٹھایا۔بالکل اسی طرح جس طرح اس نے ہمارے بزدل حکمرانوں کی بزدلی کی وجہ سے کارگل کی جیتی ہوئی جنگ مذاکراتی میز پرصرف امریکی صدر کلنٹن کی ایک فون کال پرسرنڈرہوکر ہار دی، جس کی وجہ سے بھارت نے اپنی 37000 فوج وہاں سے باحفاظت نکال لی اور آج وہ کشمیربھی ہتھیانے کے چکروں میں ہے۔کشمیری عوام پر بھارتی درندہ صفت فوج جس طرح ظلم ڈھا رہی ہے اس کو احاطہِ تحریر میں لانا بہت بڑے دل گردے کی بات ہے۔ کون سا وہ ظلم ہے ؟ کون سی وہ زیادتی ہے جو وہاں روا نہیں رکھی جا رہی ہے۔بہنوں سے ان کے کڑیل جوان بھائی چھینے جا رہے ہیں تو کہیں ماؤں کی ہربھری گودیں اناً فانا اجاڑ دی جاتی ہیں۔ بیچ چوراہوں خواتین کی تذلیل بھارتی فوجیوں کا معمول بن چکا ہے۔بوڑھے والدین سے ان کا سہارا چھین کر ان کو بے آسرا کیا جا رہا ہے ۔کشمیری بہن بھاہیوں کی حالتِ زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔کشمیر میں مسلمانوں کا بہتا خون دیکھ کر اب تو چشمِ فلک بھی آنسوبہانے پر مجبور ہے ۔ایسے میں ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا اس وقت محسوس ہوا ہے جب پاکستان کی تمام سیاسی قیادت نے یک زبان بھارت کو خبردار کرتے ہوئے ان مظالم کو فوری طور پر روکنے کا کہا ہے خوش آئند بات یہ ہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے پارلیمانی جماعتوں نے وزیراعظم کو یقین دلایا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور بھارتی جارحیت کے معاملات پر وہ حکومت کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے زیر صدارت پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کے جاری اعلامیہ میں کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کا عزم کیا گیا ہے۔اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی طرح کشمیری عوام کو حق خودارادیت دیا جائے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطالبے کی حمایت کرتا ہے۔ اجلاس میں دہشتگردی اور انتہاء پسندی کیخلاف نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وزیراعظم بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے قومی یکجہتی پیدا کریں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے مسلسل جارحیت اور فائرنگ خطے کے امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ بھارتی فوج نے حالیہ دنوں میں 110 سے زائد بے گناہ اور معصوم کشمیریوں کو شہید کیا۔ 87 روز سے جاری مظالم کے دوران 700 کشمیری بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ بھارت بے بنیاد الزام تراشی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کاز آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ اس پر پوری قوم اور سیاسی قیادت متحد ہے۔ بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بربریت سے مزید نہیں دبا سکتا۔
علاوہ ازیں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اختلافات کے باوجود مسئلہ کشمیر اور ایل او سی کے معاملے پر وزیراعظم کے ساتھ ہیں۔ کل جماعتی کانفرنس میں اپوزیشن رہنماؤں کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت کیخلاف حکومت اور مسلح افواج کے ساتھ ہیں۔بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ پاک بھارت تعلقات اہم موڑ پر ہیں، متحد پاکستان ہی بھارتی جارحیت کا مقابلہ کر سکتا ہے، انہوں نے کہا پیپلزپارٹی کا واضح موقف ہے کہ اختلافات کے باوجود مسئلہ کشمیر اور ایل اوسی کے معاملے پر وزیراعظم کے ساتھ ہیں۔تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا بھارت جانتا ہے، مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں، اس کے باوجود جارحیت کی جا رہی ہے، وزیراعظم نوازشریف کی فہم و فراست اور حب الوطنی پر پورا یقین ہے، قومی مفاد اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتھ دیں گے۔جبکہ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کی مسلۂ کشمیر اور بھارتی جاحیت کے خلاف ہم ھکومت کے ساتھ ہیں۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی حکومت اور مسلح افواج کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی جبکہ اے این پی کے غلام بلور کا کہنا تھا سلامتی کونسل میں وزیراعظم کی تقریر سے مسئلہ کشمیر کو سفارتی محاذ پر نئی زندگی ملی ہے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس سے دنیا کو مثبت اور تعمیری پیغام دیا گیا ہے۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی میں حالیہ شدت کو سیاسی و سفارتی محاذ پرآگے بڑھانا چاہیے۔ وزیراعظم کا بیرون ملک خصوصی نمائندے بھجوانے کا اقدام قابل تعریف ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ ہونا چاہیے۔ موجودہ صورت حال میں ہمیں قومی یک جہتی کا مظاہرہ کرنا ہے، ہمارا موقف پاکستان اور کشمیری عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔امید ہے کہ یہ مثبت تبدیلی بھارتی سرکار کو سوچنے پر ضرور مجبور کر دے گی اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیری بہن بھاہیوں کے لیے حوصلہ افزاء پیغام ثابت ہو گی جو تحریک آزادی میں ایک نئی روح پھونکے گی ۔اب وہ وقت دور نہیں جب کشمیر کی سرزمین پر آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔

873 total views, 4 views today

Short URL: Generating...
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *