جنات کی بارات۔۔۔۔ مصنف: فتح محمد عرشی، پائی خیل

Print Friendly, PDF & Email
میرا نام شاہنواز خان ہے اور اب میری عمر 70 سال کے لگ بھگ ہے۔ یہ قصہ اس وقت کا ہے، جب میں جوان تھا۔ 8 ایم ایم رائفل ہر وقت کندھے پر ہوتی تھی کیونکہ کچھ لوگ میرے خون کے پیاسے تھے۔ رات کے بارہ بجنے والے تھے اور مجھے راولپنڈی جانے والی ٹرین پر ہر حال میں سوار ہونا تھا۔ کام بہت ضروری تھا ورنہ اس وقت تنہا جانا موت کو آواز دینے کے مترادف تھا۔
ہمارے علاقے میں ایک مجذوب فقیر ’’امید علی شاہ صاحب‘‘ ہوا کرتے تھے۔ وہ مجھ پر خصوصی شفقت فرمایا کرتے تھے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ذات کے بعد مجھے ان پر بڑا بھروسا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں انہیں یاد کیا اور ریلوے اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گیا جو ہمارے گاؤں سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے کے لیے عام طور پر ہم لوگ ریلوے لائن ہی استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے میں نے بھی اسی راستے کا انتخاب کیا۔
آدھی رات کا وقت اور میں اکیلا۔۔۔۔ اور پھر جانی دشمنوں کا خوف۔۔۔۔ میں بس اللہ کے آسرے پر چلا جا رہا تھا۔ راستے میں ایک پُل آتا ہے، جو ’’خونی پُل‘‘ کے نام سے مشہور تھا، کیونکہ یہاں کافی عرصہ پہلے ٹرین کی زد میں آ کر کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
بہرحال جب میں ’’خونی پُل‘‘ کے قریب پہنچا تو اچانک مجھے خطرے کا احساس ہُوا۔۔۔ لیکن افسوس! بہت دیر ہو چکی تھی۔ میرے دشمن، جن کی تعداد چار تھی اور وہ رائفلوں سے مسلح گھات لگائے یٹھے تھے، اچانک میرے سامنے آگئے۔ بچنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔ کافی سردی کے باوجود پسینہ آبشار کی طرح میرے چہرے سے بہنے لگا۔ ایسے میں اللہ یاد آتا ہے یا اللہ والے یاد آتے ہیں۔۔۔ مجھے بھی امید علی شاہ صاحب یاد آئے اور میں نے دل ہی دل میں انہیں پکارا کہ پیرا!،آج مدد کو پہنچ!
اچانک مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے مجھے زور سے دھکا دیا ہو۔ ایک لمحے کے لیے میری آنکھیں بند ہو گئیں۔۔۔ اور جب کھلیں تو میں ریلوے اسٹیشن پر کھڑا تھا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور تھوڑی دیر بعد ٹرین آئی تو اس پر سوار ہو گیا۔
اگلے دن واپسی تھی لیکن سلسلہ ایسا بنا کہ پھر رات والی ٹرین پر آنا پڑا۔ اس بار میں نے ایک اور راستہ اختیار کیا جو ایک چھوٹے سے دیہات سے گزرتا ہوا ہمارے گاؤں آتا ہے۔ جب میں نے دیہات کراس کیا تو آگے ٹیلوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اچانک میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ایک بڑے سے ٹیلے پر آگ کا ایک الاؤ روشن تھا ۔ ڈھول بھی بج رہا تھا اور کئی لوگ ارد گرد کھڑے بھنگڑا ڈال رہے تھے۔ میں کھیل تماشے کا شوقین تو تھا ہی، سوچا۔۔۔ کسی کی شادی ہے، دو گھڑی لطف اندوز ہونے میں ہرج ہی کیا ہے؟ تماشہ دیکھنے کی خوشی میں مَیں یہ بھی بھول گیا کہ یہاں جنات کا بسیرا ہے۔ بہرحال ہونی کو انہونی کب روک سکتی ہے؟
قصہ مختصر، میں بے دھڑک آگے بڑھا اور شادی کے ہنگاموں سے لطف اندوز ہونے لگا۔ اچانک ایک عجیب بات ہوئی۔ وہاں موجود آدمی آگ کے الاؤ میں سے بھڑکتی ہوئی لکڑیاں اٹھا کر ایک دوسرے کو مارنے لگے۔ لیکن حیرات کی بات یہ تھی کہ آگ ان پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں کر رہی تھی۔ یہ دیکھ کر میرے پورے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ میری مثال ’’آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا‘‘ والی تھی۔ انسان نما درندوں سے بچ کر جنات میں آ پھنسا تھا۔ میں غیر محسوس طریقے سے پیچھے کھسکنے لگا۔ لیکن اچانک ایک شور سا مچ گیا۔’’آدم بُو، آدم بُو۔‘‘
میں گھبرا گیا۔ جنات نے مجھے گھیرے میں لے لیا اور قہقہے لگاتے ہوئے گویا فرمائش کی۔’’ہمیں ہڈی دو۔۔۔ہمیں ہڈی دو‘‘
’’ہٹو پیچھے!‘‘ میں نے چلا کر کہا۔’’ہڈی کہاں سے دوں؟‘‘
’’ہا ہا ہا۔۔۔‘‘ ایک جن نے ہذیانی قہقہہ لگایا۔’’اپنے جسم کی ہڈی دو ہمیں۔۔۔ ورنہ ہم تمہیں کچا چبا جائیں گے۔‘‘
خوف کے مارے میرا برا حال تھا۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ جنات لوہے سے ڈرتے ہیں۔ اور خوش قسمتی سے میرے پاس رائفل موجود تھی۔ میں نے یہ آخری داؤ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اچانک رائفل سیدھی کی اور پہلا فائر داغ دیا۔ ایک چیخ بلند ہوئی اور وہ ایک دم پیچھے ہٹ گئے۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور اپنے گاؤں کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ وہاں سے میرے گاؤں کا فاصلہ بمشکل آدھا میل ہی رہا ہو گا۔
میں سرپٹ دوڑا لیکن چند ہی لمحوں بعد دوڑتے قدموں کی آوازیں قریب آ گئیں۔ میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ میں نے دوڑتے دوڑتے رائفل کا رخ پیچھے کیا اور فائر کر دیا۔ ایک بار پھر ایک دلدوز چیخ بلند ہوئی اور وہ رک گئے۔ میں سرپر پیر رکھ کر دوڑتا رہا۔ جنات ایک بار پھر میرے تعاقب میں تھے۔۔۔۔
غرض میں بار بار رائفل پیچھے کر کے فائر کرتا رہا۔ چیخیں بلند ہوتی رہیں۔۔۔ لیکن انہوں نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔ گاؤں کے بالکل کنارے والا گھر میرے ایک دوست کا تھا، جو رات گئے تک آباد رہا کرتا تھا۔ وہاں ہم سب دوست آدھی آدھی رات تک تاش کھیلا کرتے تھے۔ میری 8MMرائفل میں گیارہ گولیاں تھین۔ جب میں نے آخری فائر کی تو میرے دوست کی بیٹھک سامنے تھی۔ میں ہانپتا ہوا بیٹھک میں داخل ہوا تو پیچھے سے ایک غضب ناک آواز آئی۔’’تمہارا مرشد کامل تھا جو بچ گئے ہو۔ ورنہ آج ہم تمہاری تکا بوٹی کر ڈالتے۔‘‘
بیٹھک میں داخل ہوتے ہی سب دوستوں نے مجھے گھیر لیا۔ جب میرے اوسان بحال ہوئے تو میں نیانہیں سارا قصہ کہہ سنایا۔ وہ بھی سارا ماجرا سن کر لرز اٹھے۔ میں نے بھی جان بچ جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور آئندہ رات کو سفر کرنے سے توبہ کر لی۔
آج بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے تو میرے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میں خوف سے لرز اٹھتا ہوں۔
(اختتام)

720 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/h246etd
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *