سوچ کہ تو انمول ہے!۔۔۔۔ تحریر: فائزہ طاہر

Print Friendly, PDF & Email

لفظ “انمول” جب بھی سننے یا پڑھنے میں آئے تو ایک بہت ہی قیمتی اور نایاب چیز کا احساس ہوتا ہے۔ دل و دماغ میں یہ سوچ ابھرتی ہے کہ جس بھی چیز کیلئے انمول لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ بہت عمدہ اور نایاب ہو گی۔ اور زندگی کے کئی معنوں تو وہ اتنی قیمتی کہلائے گی کہ اسکو اس طرح سنبھالا جاتا ہے کہ ہلکی سی خراش تک بھی اس پہ نا آئے۔ لیکن اگر انمول بذات خود انمول نا رہنا چاہے اور اسے اپنے عمدہ اور اور نایاب ہونے کی خاصیت کا خیال نا کرے اور خود سے اپنے انمول پن کو بے مول کرنے پہ تل جائے تو بہت جلد وہ اپنی اہمیت و خاصیت کھو دیتی ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کون سی ایسی چیز ہے جو تھی تو انمول و نایاب لیکن خود ہی اپنے آپ کو بیمول کر دیتی ہے۔ کون اتنی عقل و شعور سے پیدل چیز ہے اپنے نفس کی ہی دشمن بن جاتی ہے۔ چلیں میں آپ کو اس انمول ہیرے کا تعارف کرواتی ہوں اور فیصلہ آپ کے ہاتھ میں کہ کیا وہ انمول سے بیمول نہیں ہو رہی؟
انمول و نایاب ہیرے سے میری مراد ایک ذی روح جنس ہے جسے نہایت ہی آسان لفظوں میں “لڑکی” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کیسے ایک لڑکی خود کو انمول سے بیمول کر رہی ہے؟؟؟ کون ہے جو خود سے اپنے نایاب عمدہ اور قیمتی ہونے کے اعزاز کو ختم کرے؟؟؟
چلیں اس تلخ حقیقت سے بھی آگاہ کرتی ہوں کے کیسے ایک لڑکی خود کو انمول سے بے مول کر دیتی ہے۔
عورت ذات کے اندر ? تعالیٰ نے پیار و محبت احساس اور درگزر کرنے کے جذبات مرد کی نسبت زیادہ رکھیں ہیں۔ وہ بظاہر نرم و نازک دکھنے کے باوجود بڑے سے بڑے طوفان کا سامنا بھی ہنس کے کر لیتی ہے۔ ویسے تو لفظ “عورت” بھی انمول اور قیمتی ہونے میں “لڑکی” کے مثل ہی ہے۔ لیکن ادھر میری مراد لڑکی ہی ہے کیونکہ وہ زیادہ اپنے آپ کو بے مول کر رہی ہے۔ اور اسے احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کیا کھو رہی ہے۔ جبکہ اسکے برعکس ایک عورت زمانے بھر کے تھپیڑوں کو سہہ کر مضبوط چٹان بن چکی ہوتی ہے اور کوئی اسے بے مول کرنے کی جرات کم ہی کرتا ہے۔
ایک لڑکی جب اس دنیا میں آنکھ کھولتی ہے تو اپنے گرد محبتوں کا حصار دیکھتی ہے۔ وہ ہر وقت مرکز نگاہ ہوتی ہے اور اسکی معصومیت بھری شرارتیں سب کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب وہ زندگی کے میدان میں آگے بڑھتی ہے تو والدین کے ذہنوں میں یہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے اب ہماری گڑیا بڑی ہو گئی ہے عقل و شعور کی مالک بن گئی ہے اور اپنے اچھے اور برے کا فیصلہ خود سے کر سکتی ہے۔ پتا نہیں وہ یہ کیسے بھول جاتے ہیں کہ اندر سے ابھی بھی وہی بچپن کی معصوم گڑیا ہے اور زندگی کے ہر موڑ پہ ہمیشہ اسے عمدہ راہنمائی کی ضرورت رہتی ہے۔ وہ اب بھی محبت و چاہت اور مرکز نگاہ ہونے کی طلب گار ہے جب وہ اپنوں میں ان کمیوں کو محسوس کرتی ہے تو اپنے اندر اٹھنے والے شور اور طلب کی شدت سے گھبرا کر گھر کی چار دیواری سے باہر وہی سب تلاش کرنے نکل پڑتی ہے۔
شیطان تو ازل سے انسان کا دشمن رہا ہے اور ابد تک رہے گا۔وہ تو ہمیشہ اولاد آدم کو صراط مستقیم سے بھٹکانے میں لگا رہتا ہے کبھی انسان کو خود ترسی کی سوچ دیتا ہے تو کبھی دوسروں کے بدلتے رویوں کو برداشت کرنا اتنا مشکل بنا دیتا ہے کہ انسان بلا ارادہ ہی دوسری راہ میں نکل پڑتا ہے۔
بالکل اسی طرح لڑکی بھی ان کمیوں کو پورا کرتے کرتے ایسے رشتوں میں بندھ جاتی ہے جو کبھی اس کے ہوتے ہی نہیں۔ وہ محبت ہ چاہت وہ خلوص و اعتبار تو صرف وقتی ہوتا ہے جو دلی تسکین کو پورا کرنے کیلئے بنایا جاتا ہے اور اس کے پائیدار ہونے کی کوئی دلیل بھی نہیں ہوتی۔ اور یہی رشتے جو محبت و چاہت کی شدتوں کا لبادا اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں اور لڑکی اسے اپنے پورے خلوص محبت اور ایمانداری سے نباہ رہی ہوتی ہے وہی رشتے ایک وقت آنے پہ ایسا رخ پلٹتے ہیں کہ وہ مہینوں بییقینی کا شکار رہتی ہے کہ یہ ہوا کیا؟؟ بہت ہی اذیت اور تکلیف بھرے سوال ہمیشہ اسکا پیچھا کرنے لگ جاتے ہیں کہ آخر میرا قصور کیا تھا؟؟؟ میرے ساتھ ہی یہ سب کیوں ہوا؟؟؟
اسی طرح کی سوچیں اور سوال اس انمول ہیرے کو پہلے اذیت کی انتہا دیتے ہیں اور پھر گھٹ گھٹ کے زندگی کو تباہ و برباد ہونے کا سبب بن جاتے ہیں اور آئندہ زندگی بھر کیلئے اپنی ذات پر سے بھی اعتماد کھونے کا سبب بن جاتے ہیں۔

291 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/znr9xo6
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *