عالمی ماحولیاتی تبدیلیاں ،تدارک!مگر کیسے؟۔۔۔۔ تحریر: فیصل اظفر علوی

Print Friendly, PDF & Email

اس وقت پوری دنیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیاں ایک ایسا چیلنج بنی ہوئی ہیں جس سے نمٹنے کیلئے تمام عالمی ماہرین موسمیات و ماحولیات سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں، ہمیں اپنی روز مرہ زندگی میں یہ ماحولیاتی تبدیلیاں آسانی کے ساتھ اس لئے نظر نہیں آتی کیونکہ ان کے وقع پذیر ہونے کا عمل عام آنکھ سے پوشیدہ ہوتا ہے، عام آدمی کو ہمیشہ اس بات کو سمجھنے میں تجسس رہا ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ماحول میں تیزی سے تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں ؟
دنیا بھر کے رہنماؤں نے اس سلسلے میں ایک عالمی معاہدے پر غور و فکر شروع کیا ہوا ہے،آخر وہ کیا وجوہات ہیں جس سے دنیا کا ماحول تبدیل ہو رہا ہے ؟قارئین کرام! پچھلے سو برسوں میں زمین کی سطح کے درجہ حرارت میں 0.85 درجہ سیلسیئس کا اضافہ ہوا ہے۔ ریکارڈ شدہ برسوں میں سے 13 گرم ترین برس 21ویں صدی میں تھے، جب کہ 2015 بھی گرم ترین سالوں میں سے ایک ہے، ایسا کیوں ہو رہا ہے‘سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کارخانوں اور زراعت سے ہونے والے گیسوں کے اخراج کی وجہ سے قدرتی گرین ہاؤس عمل میں اضافہ ہو رہا ہے‘ اس عمل میں زمین کا کرہ ہوائی سورج سے آنے والی توانائی کو قید کر کے اسے باہر نکلنے نہیں دیتا‘انسانی سرگرمیاں جیسا کہ کوئلے، تیل اور گیس کو ایندھن کے طور پر جلانے کے نتیجے میں مرکزی گرین ہاؤس گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی ہے‘اس کے علاوہ جنگلات کو بھی کاٹا جا رہا ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے کا سبب بنتے ہیں‘ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی آمیزش گذشتہ آٹھ لاکھ سال میں سب سے زیادہ ہے اور گزشتہ برس مئی میں یہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی‘ بلند درہ حرارت، شدید موسمی حالات اور سمندروں کی بڑھتی ہوئی سطح، سب کا تعلق گرم ہوتے ہوئے ماحول سے ہے، اور اس سے دنیا بھر پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں‘سنہ 1900ء سے دنیا بھر میں سطح سمندر اوسطاً 19 سنٹی میٹر اونچی ہوئی ہے‘ حالیہ دہائیوں میں اس سطح میں اضافے کی شرح بھی بڑھی ہے جس کی وجہ سے کئی جزائر اور نشیبی علاقوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے‘قطبین پر برفانی تہوں کا پگھلاؤ بھی اس اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہے‘بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے قطبی سمندر بھی سکڑ رہا ہے، تاہم اس کا سمندر کی چڑھتی ہوئی سطح پر زیادہ اثر نہیں ہوتا‘1980 کے مقابلے میں سمندری برف کا برطانیہ سے دس گنا بڑا رقبہ ختم ہو چکا ہے‘ مختصر یہ ہے جس طرح دنیا ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ترقی کرتی جا رہی اسی طرح عالمی ماحول حیرت انگیز انداز میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے‘ پاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ وہ عالمی ماحول کی تبدیلی میں تقریباََ نہ ہونے کے برابر کردار ادا کر رہا ہے لیکن بد قسمتی یہ کہ عالمی ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں سے جن ممالک پر سب سے زیادہ اثرات مرتب ہوں گے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔
ایک طرف پاکستان میں حکومت پنجاب کی طرف سے میٹرو ٹرین ٹرین منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے تقریباََ 71000 ہزار درختوں کو کاٹا جا رہا ہے جبکہ دوسری پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ذاتی کاوشوں کے طفیل خیبر پختونخواہ حکومت نے صوبے میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کیلئے ایک انقلابی پروگرام
One Billion Tree Tsunami
شروع کیا ہے جس کے تحت ایک ارب سے زائد درخت اگائے جائیں گے ‘ اسی سلسلے میں پاکستان میں ماحولیات، پائیداری، خود ارادیت اور انسانی حقوق پر کام کرنے والی ایک جرمن تنظیم ہنری بول فاؤنڈیشن کی طرف سے
There in no Planet B
کے عنوان سے صحافیوں کو خیبر پختونخواہ کے حکومت کے
One Billion Tree Tsunami
صوبے کے معائنے کا اہتمام کیا گیاجس میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے وابسہ صحافیوں کو خیبر پختونخواہ کے ضلع ہری پور اور نواحی علاقہ جات کا تفصیلی دورہ کروایا گیاجس میں وہاں کی لوکل کمیونٹی کے ساتھ ساتھ محکمہ جنگلات کے افسران کے ساتھ
KP
حکومت کے متذکرہ بالا منصوبے پر سیر حاصل گفتگو کرنے کا موقع ملا،ہنری بول فاؤنڈیشن کے اس پروگرام کی کو آر ڈی نیٹر مومی سلیم نے صحافیوں کو معائنہ جاتی وزٹ کے اغراض و مقاص سے آگاہ کیا اور پروگرام کے تفصیل پر بریفنگ دی‘ ہری پور میں محکمہ جنگلات کے ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر رئیس خان کے پی حکومت کے ون بلین ٹری سونامی پروگرام پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر اس پروگرام کی کامیابی کیلئے جو اقدامات اٹھائے اس میں ہمیں خاطر خواہ کامیابی ہوئی اور اس سلسلے میں ہم نے لوگوں کو مختلف اقسام کے لاکھوں پودے بغیر کسی معاوضے کے فراہم کئے، محکمہ جنگلات کے افسران کے مطابق ون بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت اب تک 12 کروڑ پودے صوبے کے مختلف علاقوں میں لگائے جاچکے ہیں اور سال2017 تک 30 کروڑ پودے لگائے جائیں گے۔
محکمہ جنگلات کے افسرا ن سے بریفنگ لینے کے بعدصحافیوں نے دیئے گئے اعداد و شمار کی تصدیق کیلئے مختلف علاقوں کا دورہ کیا جس میں مقامی لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور وہاں بنائی جانے والی مختلف نرسریوں کا معائنہ کیا‘ سب سے زیادہ خوش آئند بات جو دیکھنے میں آئی تھی وہ یہ تھی کہ مقامی لوگ اپنے ماحول کے بچانے کیلئے انتہائی پرجوش نظر آئے ‘ ہری پور کے مقامی لوگوں کی طرف سے رضاکارنہ طور پر لاکھوں پودے لگائے گئے جنہیں موقع پر جا کر دیکھا جا سکتا ہے،ایک اور حیرت انگیز بات یہ دیکھنے میں آئی کہ کے پی حکومت جہاں جہاں ون بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت پودے لگا رہی ہے ان جگہوں تک باآسانی رسائی کیلئے
GPS
پوائنٹس درج کرتی جا رہی ہے تا کہ کوئی بھی شخص یا ادارہ ان علاقوں کے بارے میں آسانی سے معلومات حاصل کر سکے اور انہیں تلاش سکے‘حکومت خیبر پختونخواہ نے اپنے اس پروگرام کو کامیاب کرنے کیلئے ایک مخصوص رقبے پر موجود پودوں کی حفاظت کیلئے مقامی لوگوں میں سے ہی چوکیداروں کا انتخاب کیا اور انہیں معقول ماہانہ معاوضے پر کام کیلئے آمادہ کیا جس کی مدد سے جنگلات سے لکڑی کاٹنے اور چوری کی وارداتوں کو روکنے میں کافی مدد ملی اور ٹمبر مافیا کو سخت سزائیں دینے کی وجہ سے جنگلات کے کٹاؤ میں حد درجہ کمی دیکھنے میں آئی‘ کے پی حکومت کے وسیع پیمانے پر شروع کئے گئے اس پروگرام میں جہاں انتہائی مثبت چیزیں دیکھنے کو ملیں وہیں کچھ مسائل بھی لوگوں کی طرف اُجاگر کئے گئے جس میں حکومت کی جانب سے مقرر کئے جانے والے محافظوں کو معاوضے کی عدم ادائیگی اور تاخیر کا مسئلہ سر فہرست ہے‘ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا جہاں بڑے پیمانے پر کوئی کام شروع کیا جائے وہاں اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ہری پور کے علاقہ منگ میں گرین منگ پروگرام کے حوالے سے ایک شہری نے گفتگو میں بتایا کہ ہمارے ساتھ حکومت مکمل تعاون کر رہی ہے اور جب ہمیں پودوں کی ضرورت ہوتی ہے ہم متعلقہ ادارے کے افسران کو اس سلسلے میں تحریری طور پر آگاہ کر دیتے ہیں جس کے بعد ہمیں بلا معاوضہ پودے فراہم کر دیئے جاتے ہیں‘ ہری پور میں اس معائنہ جاتی دورے کے دوران نکا پا نرسری اور کرووالا میں اسی منصوبے کے تحت لاکھوں پودوں کا بھی معائنہ کیا گیا جنہیں ڈیمانڈ کے مطابق مزید مختلف علاقوں میں ابھی لگایا جانا تھا‘ ایک اور قابل ذکر بات یہ کہ کے پی حکومت نے اس سلسلے میں لوگوں میں بنیادی شعور بیدار کرکے انہیں اس کام کیلئے آمادہ کیا اور انہیں مختلف سطح پر بریفنگ دی گئی کہ کس طرح جنگلات سے کاٹی جانے والی لکڑی اور درختوں کا کٹاؤ قدرتی توازن کو تباہ کر رہا ہے‘ لوگوں میں یہ سمجھ بوجھ دیکھنے میں آئی کہ اگر وہ آج اپنے علاقوں کو سر سبز و شاداب کرنے میں ناکام رہے تو زمین کے ساتھ ساتھ ان کی آنے والی نسلیں بھی بنجر ہو جائیں گی‘ ہنری بول فاؤنڈیشن کے اس بہترین معائنہ جاتی پروگرام کے بارے میں تفصیل لکھنے بیٹھوں تو شاید کئی دن درکار ہوں گے‘ پروگرام کا بنیادی مقصد پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کو ون بلین ٹری سونامی پروگرام کے حقائق سے آگاہ کروانا تھا جس میں ہنری بول فاؤنڈیشن کے نمائندوں‘ محکمہ جنگلات کے افسران‘ مقامی لوگوں کی بھرپور معاونت شامل تھی‘ اگر اسی طرح کامیابی کے ساتھ ون بلین ٹری سونامی پروگرام جاری رہا تو جلد ہی صوبہ خیبر پختونخواہ کو سرسبز و شاداب بنایا جا سکتا ہے اور وطن عزیز کے ماحول میں بڑی مثبت تبدیلیاں وقوع پذیر ہو سکتی ہیں‘ کے پی حکومت کی طرح دیگر صوبائی حکومتوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس طرح کے ماحول دوست پروگرام شروع کریں تا کہ آنے والی نسلوں کا مستقبل سرسبز و شاداب ہو ‘ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل کا حل ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

626 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/zc43yon
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *