غریب ہونا بھی جرم ٹھہرا!۔۔۔۔ تحریر: چوہدری فتح اللہ نواز بھٹہ

Print Friendly, PDF & Email

کسی کام سے ایک گلی سے گزرنا ہوا تو ایک گھر کے آگے خواتین،کمسن بچوں اور بوڑھے مردوں کا جمِ غفیر لگاتھااور سب کی زبان پے ایک ہی جملہ تھا کہ مجھے بھی دیں ،،،،مجھے بھی دیں دریافت ہوا کہ صاحب گھر نے اپنے گھر کے آگے کھڑے اِن غرباء میں زکواۃ ، دیگر صدقات وغیرہ تقسیم کرنا ہیں بظاہر تو یہ اچھا اقدام تھا تاہم بطور عام انسان مجھے ذ اتی طور پر اُمراء کے اس طرز تقسیم خیرات پر دلی افسوس ہواکہ اُمراء کو چائیے کہ وہ کوئی ایسا لائحہ عمل اپنائیں کہ جس سے غرباء کی تذلیل بھی ناہو اور اُمراء کے دروازوں پے بطور سائل (فقیر) بن کرآنے والوں کو خیرات بھی مل سکے،خیر چند منٹوں کے لئے میں بھی اُن لوگوں میں شامل تھا کہ جو بطور تماشائی اِن غرباء کے بھیک مانگنے کے عمل اور اِن کی لاچارگی کو دیکھ رہے تھے ،تاہم چند منٹوں کے اس تماشے نے میرے دل پے بہت اثر چھوڑا کہ شاید اِن غرباء کی حالت اب کبھی بھی نہیں بدلے گی ،انقلاب کے کھوکھلے نعرے لگانے والے اِن غرباء کی اس ابتر حالت کو کبھی بھی بہتر کرنے کی طرف اپنی توجہ مرکوز نہیں کریں گے ،ایک نیا پاکستان بنانے کی خواہشمند حکمراں جماعت بھی اس اہم عنصر کو نظر انداز کیئے ہوئے ہے،،،، کیوں آخر کیوں ؟یہ بھی تو پاکستانی ہیں اِن کے آباوٗاجداد نے بھی تو وطنِ عزیز کے لئے اپنا سب کچھ قربان کیا تھا ،،پر شاید اِ ن بے چاروں کا گناہ غریب ہونا اور جرم اپنی بھوک سے تنگ آکر بھیک مانگنا ہے ،بھیک تو خیر پیشہ ور بیکاری بھی مانگ رہے ہیں اور یہ اُن پیشہ ور بیکاریوں کا کمائی کا سیزن چل رہا ہے تاہم جو اپنی بھوک ،لاچارگی،بے روزگاری اور انتہائی تنگ دستی کے باعث بھیک مانگنے پر مجبور ہورہے ہیں اُن کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے تاہم اِن غرباء کی حالت بہتر کرنے اور پیشہ ور بیکاریو ں کو راہِ راست پرلانے کے اقدام کو شاید حکومت بھی ایک فضول اور بے سود کام تصور کربیٹھی ہے کہ کبھی بھی اس حوالے سے قانون حرکت میں نہیں آیا خصوصاً اس وقت بیکاریوں کی سکروٹنی انتہائی ضروری ہے کہ جب افواج پاکستان دہشت گردوں کے خلاف الم جہاد بلند کیئے ہوئے ہے ممکن ہے کہ بیکاریوں کے روپ میں ہی دہشت گرد خود کو بچانے کے لئے ملک کے دیگر علاقوں تک نا پھیل جائیں ،،یہ عمل یا زمہ داری صرف قانون نافذکرنے والے اداروں کی نہیں بلکہ بطور قوم ہمیں بھی اس وقت محب وطن ہونے کا ثبوت دینا پڑے گا۔معزز قاریو! انتہائی افسوس دہ حقیقت یہ ہے کہ بطور قوم ہم لوگ بنیادی طور پر سارے کے سارے ہی بیکاریوں جیسی طرز زندگی اور رہن سہن کو عملی جامہ پہنائے ہوئے ہیں ہمارے حکمراں بیرونی ممالک کے بھاری برکم قرضوں کے بوجھ تلے ملک کو دھکیل رہے ہیں جبکہ ہم لوگ بھی کسی نا کسی طرح ادھار ہی حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جوکہ سراء سر غلط اقدام ہے جبکہ اس ماہ مقدس میں خصوصاً صاحب اصیحت معززین کو خاص خیال سے اپنے صدقات ،خیرات مستحقین کو دینا ہونگے اور اپنی خوشیوں میں لاچار بے بس اور غریب سفید پوش افراد کو بھی شامل کرنا ہوگا،بد قسمتی سے ہم وہ قوم ہیں جو جنازوں پے تو ہزاروں کی تعداد میں اکھٹے ہوجایا کرتے ہیں تاہم مسائل کے حل اور ملکی مفاد کی خاطر اپنی بے حسی بے بسی اور لاچارگی کو ہی ظاہر کرتے ہیں ،غریب ہونا میرے ملک میں ،،بھلے،،جرم ٹھہرے تاہم غرباء کی ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مسائل کو ختم کرنے کے لئے ہاتھوں سے محنت مزدوری کرنے کی بجائے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے کو ترجیح دیتے ہیں ،جو امر پوری قوم پورے ملک کے لئے خصوصاًبیرونی ممالک میں باعث ندامت ثابت ہورہا ہے ،دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دھری ماں کے ہر فرد کو اتنا امیر ،خوشحال کردے کہ وہ اپنی خیرات دینے کے لئے غرباء کو ڈھونڈے کہ کوئی بھی غریب میسر نا ہو معزز قارئین کرام ایسا اسی صورت ممکن اور آسان ہے جب ہم لوگ اپنے اردگرد بسنے والے مستحق افراد کو اپنی طرف سے دیا جانے والا صدقہ،خیرات وغیرہ وغیرہ دیں ،آپ بیرونی اکثر وبیشتر ترقی یافتہ ممالک کے خدوخال کا جائزہ لگالیں آپ لازم وملزوم پائیں گے کہ لوگ صرف اور صرف اپنی حکومتوں پر ہی انحصار نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنے اندر بھی محسوس کرتے ہیں آج ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ بطور مسلمان ہم نے قرآنی تعلیمات کہ جن سے مکمل ضابطہ حیات ملتا ہے کو ترک کردیا ہے اور مسائل در مسائل کو گلے لگا لیا ہے، تاہم جو کلمہ گو نہیں وہ ہماری مقدس کتاب سے انتہائی مستفید ہوکر اپنی زندگیوں میں سکون و اطمینان برپا کررہے ہیں جو امر ہمارے لیئے انتہائی لمحہ فکریہ ہے باعث ندامت ہے قابل صد افسوس ہے ، خدا کرے میرا ملک ترقی وخوشحالی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہو میرے وطن سے مسائل ختم ہوں اور میرے وطن میں وہ دن جلد دیکھنے کو ہم سب کو نصیب ہو کہ جیسے ہمارے ملک میں تو کبھی کوئی بھی مسئلہ تھا ہی نہیں اور میرے ملک کا بچہ بچہ خود کفیل ہو بھیکاری نا ہوآمین!اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر۔

552 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/hwkduel
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *