عمیر ثناء فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر کاشف انصاری کے ساتھ ایک نسشت

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: حفیظ خٹک


عمیر اور ثنا ء ،وہ بچے جن کے نام سامنے آتے ہیں عمیر ثناء فاؤنڈیشن کا خاکہ سامنے آجاتا ہے ۔ وہ فاؤنڈیشن جو کہ برسوں سے شہر قائد سے اپنے عزائم کے حصول کیلئے سفر کا آغاز کر کے اسے حاصل کرنے کی کاوشوں میں مصروف عمل ہے۔ عمیر ثناء کون تھے اور یہ فاؤنڈیشن کیا ہے ؟ یہ سوالات سامنے آتے ہیں اور جب ان کی تفصیل سامنے آجاتی ہے تو اندرونی و بیرونی کیفیت جذبات کی حد ود سے تجاوز کر جاتی ہے۔ چند آنسو گرتے ہیں ہاتھوں میں کپکپاہٹ اور لہجے میں روانگی برقرار نہیں رھ پاتی ہے ۔ بحر حال عمیر ثنا ء دو بچے جنہیں خون کی اک مخصوص بیماری تھیلے سیمیاکہتے ہیں ہوئی اور بھر پور علاج کے باوجود دونوں بچے اس بیماری سے شکست کھاتے ہوئے انتقال کر گئے۔
ان ہی دونوں بچوں کے والد ڈاکٹر کاشف انصاری نے اس مرض سے بچوں اور بڑوں کو بچانے کیلئے ہی نہیں پوری قوم کو بچانے اور اپنے ملک کو فری تھیلے سیمیا بنانے کیلئے اک پلیٹ فارم بنایا اس پلیٹ فارم کو ان دو بچوں کے نام سے ہی منسو ب کر کے کام کا باقاعدہ آغازکیا ۔ آج تھیلے سیمیا سے مکمل نجات کیلئے عمیر ثنا فاؤنڈیشن بہترین انداز میں کامیابی کے ساتھ اپنی راہ پر گامزن ہے۔
گذشتہ دنوں اسی عمیر ثناء فاؤنڈیشن کے سربراہ امریکہ سے وطن عزیز آئے اور 2017کیلئے اپنے عزائم کوبیان کرنے کیلئے پریس کانفرنس کی۔ کانفرنس عمیر ثناء فاؤنڈیشن کے گلشن اقبال میں واقع دفتر میں منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر کاشف انصاری کے ساتھ ان کی اہلیہ اور دو بچے بھی موجود تھے۔ اسی فاؤنڈیشن کے صف اول کے کارکن اور سربراہ عبید ہاشمی نے پریس کانفرنس کا آغاز کیا اور پھر ڈاکٹر کاشف نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا ۔ ان کی گفتگو کا آغاز جذبات سے بھری آواز میں ہوا اور چند جملوں کے بعد وہ جذبات آواز پر غالب آگئے اور ن کی آنکھیں نم ہوگئیں ۔ آنسوؤں کے ساتھ وہ بات جاری رکھتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ایک باپ جب اپنے بچوں کو مٹی کے سپرد کرتا ہے اور یہ کام کس طرح کرتا ہے یہ وہی جانتا ہے یا وہ جانتا ہے جو یہ کام کر چکا ہوتا ہے اسکے ساتھ وہ بھی جان سکتا ہے جو جذبات و احساسات رکھتے ہیں وہی یہ جان سکتے ہیں کہ اس وقت کیا کیفیت ہوتی ہے اور اس کے بعد کیا حال ہوتا ہے ۔ ۔۔
ان کے ساتھ اہلیہ کے آنکھیں بھی آنسوؤں سے بھر چکی ہوتی ہیں اور ان کے معصوم بچے بھی اپنی بہن اور بھائی کی کمی کو اس ماحول میں محسوس کر رہے تھے۔ گرتے آنسوؤں کے ساتھ اک ٹشو سے ان کی اہلیہ اپنے اور ڈاکٹر کاشف کے آنسوؤں کو صاف کرنے اور کروانے کا کہہ کر بات کو آگے بڑھانے کااشارہ کرتی ہیں ۔ اس لمحے ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی عجب انداز اپنا کر اپنی پیشہ ورانہ سرگرمی کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں ۔ راقم سمیت کوئی بھی صحافی و کیمرہ مین اور عمیر ثناء فاؤنڈیشن کا عہدیدار اتنی سی جرائت نہیں کرتا کہ وہ کچھ دیر کے لئے ہی سخی پریس کانفرنس کو رکوادیتے اور ڈاکٹر کاشف انصاری کی حالت کے کچھ بہتر ہونے کے بعد سلسلہ وہیں سے دوبارہ جوڑ دیتے ، کسی نے بھی اس جرائت کامظاہری نہیں کیا ۔ بحر حال ڈاکٹر کاشف نے خود پر قابو پایا او ر کہا کہ برسوں سے ہمار ی جدوجہد جاری ہے اور جس طرح سے جاری ہے و ہ آپ جانتے ہیں ۔ ہم تو آج صرف یہ کہتے ہیں کہ ایک انسان کی زندگی بچانے میں گر ہم کامیاب ہوجائیں تو ہمارے لئے اس دنیا میں بھی کامیابی ہے اور اس کے ساتھ اس ابدی زندگی میں کامیا بی ہے ۔
اپنی صورتحال میں کچھ بہتری کے بعد انہوں نے 2017کیلئے اپنے اہداف بتائے ۔ مختلف نکات سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فاؤنڈیشن نے یہ طے کیا ہے کہ وہ عوام میں تھیلے سیمیا سے متعلق آگاہی بڑھانے کیلئے کام کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے ۔ اسی مقصد کیلئے انہوں نے برینڈ ایمبیسیڈر کا لفظ استعمال کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عمیر ثناء فاؤنڈیشن کے پیغام کو آگے پہنچا کیلئے نامور کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرینگے اور انہیں اپنا سفیر بنائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے تھیلے سیمیا کے حوالے سے جو قانون پاس کیا اس پر تیزی اور باقاعدگی کے ساتھ عملدرآمد کرانے کیلئے بھی کاوشیں کی جائیں گی۔ ڈاکٹر کاشف نے ایک موقع پر مسکراتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جس طرح شادی سے پہلے دلہن کیلئے میک اپ ضروری ہوتا ہے اسی طرح تھیلے سیمیا کا ٹیسٹ بھی ضروری ہے اور یہ ٹیسٹ میک اپ کی طرح ضرور ہونا چاہئے ۔
خون دینے سے زندگی ختم نہیں بلکہ بڑھتی ہے ، خون دینے سے انسانی صحت متاثر نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ انسان کسی بھی طرح کی بیماریوں کا شکار ہوتاہے ۔ Donate blood Save lifeکا جملہ قومی کرکٹ ٹیم کی شرٹوں پر لکھوانے کیلئے پاکستا ن بورڈ آف کرکٹ سے بھی بات چیت جاری ہے۔ اس ایک جملے کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں میں خون کو عطیہ کرنے کا شعور پیدا کرنے کے ساتھ دینے کا جذبہ بھی پیدا کیا جائے۔ شہر قائد کی جامعہ کراچی کا ذکر بھی انہوں نے کیا اور بتایا کہ وہاں پر باقاعدہ اک یونٹ ہے جو کہ طلبہ و طالبات میں خون دینے کے عمل سے لے کر تھیلے سیمیا سے آگاہی کے کام میں مصروف عمل ہے۔ جامعہ میں اب تک ہزاروں طلبہ و طالبات کے خون اسکرننگ ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں ۔ اس سال اس سفر کو جامعہ کراچی سے باہر نکال کر دیگر جامعات کی جانب بھی لے جایا جائیگا ۔پریس کانفرنس کے آخر میں سوال و جواب کا اک سلسلہ ہوتا ہے جو یہاں بھی شروع ہوا ۔ مختلف صحافیوں نے اس ضمن میں سوالات کئے جن کا انہوں نے اور ان کے ساتھ عمیر ثنا ء فاؤنڈیشن کی دیگر کابینہ نے جوابات دیئے ۔معروف صحافی سید جعفر عباس نے ڈاکٹر کاشف سے پوچھا کہ کیا ان کیلئے یہی نوبل کاز ہے ؟جس پر ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے یہ نوبل سے بڑھ کر نوبل کاز ہے کہ ہمارے کام کے نتیجے میں کسی کی جان بچ جائے ۔
ایمبیسیڈر رکھنے سے متعلق سوال و توجہ ان کی اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کی گئی کہ جس کمرے میں یہ کانفرنس کی جارہی تھی اسی کمرے میں کچھ عرصہ قبل ایک نوجوان فرمان علی بھی آئے تھے جنہوں نے اپنی سالگرہ کا کیک تھیلے سیمیا کے بچوں کے ساتھ انہی بچوں سے کٹواکر منائی تھی ۔ فرمان علی وہ نوجوان ہیں جن کے اپنے گھرانے سمیت پورے خاندان میں کہیں بھی کوئی تھیلے سیمیا کامریض نہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے زندگی میں 70بار خون دیا جس کا پورا ریکارڈ موجود ہے ۔انہیں عمیر ثناء فاؤنڈیشن نے اپنا ایمبیسیڈر کیونکر نہیں بنایا ؟اس کے ساتھ یہ بات سامنے رکھنی چاہئے کہ صرف کھلاڑی اور وہ بھی نامور کھلاڑی ہی ایمبیسیڈر نہیں ہوسکتا اور نہ ہونا چاہئے بلکہ دیگر شعبہ زندگی کے افراد کو بھی اس ضمن میں لیا جاسکتا ہے ۔ ان سے اور ان سمیت ملک کی سیاسی، سماجی ، مذہبی جماعتوں ، ذرائع ابلاغ کو لوگوں سمیت ایک شخصیات کو بھی اپنا سفیر بنا یا جاسکتا ہے جو کہ خالص انسانیت کیلئے اس اہمیت کے حامل کو سمجھیں اور اس کے پیغام کو آگے بڑھائیں ۔ سوال کا نہ صرف اپنے تئیں جواب دیا گیا بلکہ فرمان علی کو بھی اپنا ایمبیسیڈر بنانے کا یقین دلایا گیا ۔ بعد ازاں کانفرنس کے اختتام پر طعام کا اہتمام کیا گیا جس کے بعد انہوں نے صحافیوں سے انفرادی ملاقاتیں بھی کیں ۔ راقم سے ملاقات میں انہوں نے نہایت پرجوش انداز میں قابل توجہ باتوں کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ ان تمام تجاویز کو نہ صرف یاد رکھیں گے بلکہ ان پر ضرور ان عملدرآمد کرائیں گے ۔
جس طرح تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ملک میں سرطان کے خلاف شہر قائد میں تیسرے ہسپتال کا آغاز کرچکے ہیں اور اس حوالے سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ اس طرح کی کاوشوں کے نتیجے میں ایسا وقت جلد آئے گا جب وطن عزیز کو کینسر فری پاکستان کہا جائے گا اسی نوعیت کی کاوشیں ڈاکٹر کاشف انصاری تھیلے سیمیا کے خلاف کر رہے ہیں ان سمیت ان کی پوری کابینہ کی کاوشوں کے نتیجے میں خون کے بینک اور خون کے عطیات کا سلسلہ بڑھا ہے اورحکومت سندھ سمیت دیگر حکومتوں نے تھیلے سیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا ہے تو یہ کہنا قبل از وقت سہی تاہم جلد وہ وقت آئیگا جب وطن عزیز کو تھیلے سیمیا فری پاکستان کہا جائے گا۔

1,171 total views, 2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/jk4mxe8
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...