دھرنا سسٹم

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: شاہد اقبال شامی


پاکستان کی موجودہ صورتحال ناگفتہ بہ ہے ہر کوئی اپنے مفاد کیلئے کو شاں ہیں ،اپنے مفاد حاصل کرنے کے لیئے ہر حد پھلانگنے کے لیئے تیارہے عوام کی خدمت کی دعوے دار جماعتیں بھی یہ روش اپنا چکی ہیں ،
اپنے جا ئزوناجائز مطالبات منوانے کے لیئے مختلف قسم کے حربے استعمال کر رہی ہیں،آج پاکستا ن میں ایک ” دھرنا سسٹم ” رواج پا چکا ہے جس کسی کو بھی اپنی بات منوا نی ہوتی ہے وہ اپنے چند کار کنو ں کو لے کر سٹرکو ں پر آ کر عوامی راستے بند کر دیتے ہیں ان دھرنو ں کی وجہ سے لو گو ں کوجو تکا لیف ہوتی ہیں اس کا اندازہ ایئر کنڈ یشن کمر وں میں T V کے سامنے بیٹھ کر نہیں کیاجا سکتا اس “دھرنا سسٹم”کو دیکھتے ہو ئے مجھے چند سال پرانا ایک واقعہ یاد آگیاسوچااپنے قارئین کو بھی بیتے ہوئے لمحا ت میں شامل کرتاچلوں،یہ 2010 ؁ ء کی با ت ہے جب ایک “طلبہ کنو نشن” میں شامل ہونے کے لیئے چند طلبہ کے ہمرہ ایبٹ آبادکا سفر کیا تھا ،ہم شکردرہ سے جب اٹک سٹی لاری اڈہ پہنچے تو معلوم ہو ا کہ آج ڈر ائیوروں نے اس بات پر ہٹر تا ل کی ہوئی ہے کہ جب تک کامرہ روڈکو گا ڑیوں کیلئے نہیں کھولا جاتا تب تک کے لئیے ہم گاڑیاں چلا ئیں گے اور نہ ہی اس روڈ سے ہٹیں گے تما م دو ستوں نے مشورہ سے طے کیا کہ چلو حسن ابدا ل تک ریل میں سفر کرتے ہیں جب ریلوے اسٹیشن پہنچئے تو معلو م ہواکہ ریل آج حسب معمو ل لیٹ ہے، خداخدا کر کے ریل اسٹیشن پر آئی تو ٹکٹ لینے گئے تو “خو ش خبر ی ” ملی کہ یہ ریل حسن ابدال نہیں رکے گی بلکہ سیدھا راوا لپنڈی جا کر دم لے گی ۔
جون کی چلبلاتی دھو پ اور ہم طلبا ء کے ہمرا ہ ویرا ن سٹرک پر بیٹھ کر مشورہ کر نے لگے کہ اب کیا کیا جا ئے؟ مشورہ سے طے ہوا کہ کسی گا ڑ ی والے سے بات کی جا ئے کہ ہمیں ایبٹ آبا دتک چھوڑ آئے بڑی مشکل سے ایک ڈرائیو ر راضی ہوا اور اڈے سے باہر اس کو گا ڑی لا نے میں ایک گھنٹہ لگ گیا ۔
خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے گا ڑی میں سوار ہوئے ابھی 200 گز کا فا صلہ طے ہوا ہی تھا آگے روڈ پھر بند تھا، وجہ معلو م ہوئی کہ نر سوں نے اپنے حقوق کیلئے روڈ بند کیا ہو ا ہے
ڈرائیو ر نے سمجھداری کا مظا ہرہ کرتے ہو ئے گا ڑی کو تنگ گلیوں سے گز ارتے ہوئے پھر جی ٹی روڈ پر رواں دواں کر دیا،حسن ابدال تک کا سفر خیریت سے گزرالیکن جو ہی سرحد(موجودہ خیبر پختونخواہ) کی سرزمین کو چھوا پھر پہلے والا معاملہ ! سوچنے لگے کہ یہ راستہ کامرہ کی طرف جاتا ہے اور نہ ہی ان کے” حقوق”شہباز شریف نے دبا رکھے ہیں،پھر یہ کیوں آتش جولا بنے ہوئے ہیں اورراستوں کو ٹائرجلا کر بند کیا ہوا ہے۔
پریشانی کی حالت میں گاڑی سے باہر قدم رکھاتو معلوم ہوا کہ بابا حیدر زمان نے ہزارہ صوبہ بنوانے کیلئے صبح6سے شام6تک ہزارہ میں داخل ہونے والے تمام راستوں کو بند کرایا ہوا ہے تمام طلبہ گاڑی سے اتر کر درختوں کے سائے میں بیٹھ گئے اور خربوہ تناول فرمانے لگے اور گاڑی کے ذمہ داران با حفاظت سفر کرنے کیلئے رابطہ کرنے لگے، ایک ذرائع سے معلوم ہوا کہ حطار کی طرف سے راستہ کھلا ہوا ہے،راستہ بھولتے،پوچھتے حطار کی طرف جونہی ہری پور میں داخل ہوئے تو آگے پھر دھرنا پارٹی کے 6افراد نے ایک ٹائر جلا کر راستہ بند کیا ہے ،یہاں پہنچ کر ایک تلخ تجربہ بھی ہوا کہ دھرنا اور ٹائرکا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
بہرحال جمعہ کی نماز کا بھی وقت قریب آ لگا تھا،دوستوں کے رابطے ایک بار پھر کام کرگئے اوراطلاع ملی کہ نماز جمعہ تک فلاں روڈ کھلا ہے ڈرائیور نے پھرتی دکھائی اور گاڑی کو اس طرف دوڑا دیا ،لیکن ایبٹ آباد سے چندکلومیٹر پہلے پھر”دھت تیرے کی”والا معاملہ،ڈرائیور کی بھی ہمت جواب دے گئی اور وہ بھی منتیں کرنے لگاکہ میں نے ایک نکاح کیلئے بکنگ لی ہوئی ہے ،مجھے جانے دو !بالآخر “دھرنا سسٹم”کو ملامت کرتے ہوئے ہم نے ڈرائیور کو ایسے رخصت کیا جیسے وہ ہمیں سرحد پر چھوڑ کر جا رہا ہو،چھوڑ کے تووہ ہمیں سرحد ہی پر جا رہا تھا،لیکن یہ لوگ سرحد کو ہزارہ بنانا چاہتے تھے اور کچھ لوگ “خیبرپختونخواہ” بنو ا چکے تھے،10گز کے دھرنے سے آگے ایک گاڑی کھڑی ہوئی نظر آئی تو دوستوں نے اس گاڑی والے سے بات کی،ڈرائیور نے اس شرط پر بات مانی کہ جہاں تک راستہ صاف ہو گا وہاں تک چلو گا”مرتا کیا نہ کرتا”کے مصداق عازم سفر ہوئے،3کلومیٹر کے بعد چند پتھروں نے دھرنا دیا ہوا تھا اور ہمارا راستہ ایسے کاٹ دیا تھا جیسے سانپ گزرجاتا ہے اور لکیر چھوڑ جاتا ہے،ڈرائیور بھی ڈسا ہوا لگتا تھااس لئے اس نے آگے جانے سے انکار دیا”گلے پڑے ڈھول”کی طرح آگے کا سفر پیدل ہی طے کرنا پڑا،منزل مقصود تک پہنچے سے پہلے اس جگہ سے بھی گزر ہوا جس مقصد کیلئے ان لوگوں نے اپنے علاوہ تمام لوگوں کو جوکھم میں ڈالا تھا۔
شہداء چوک پر چند سو لوگ اکٹھے ہیں اوراوروشورسے نعرہ بازی چل رہی ہے کہ” ہماراایک ہی نعرہ ،صوبہ ہزارہ”قائدتحریک خود بھی اس نعرے کا مکا لہرا جواب دے رہے ہیں کہ”دیکھو دیکھو کون آیا۔بابا آیا بابا آیا”جب ہم چند سو نفوس کے اس “دھرنا پارٹی” سے جدا ہوئے تو تمام طلبہ یک زبان ہو کر بڑے جوش خروش سے ایک ہی نعرہ لگانے لگے”ہمارا یک ہی نعرہ۔آنا نہیں یہاں دوبارہ” آج اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی جب کہیں دھرنادیکھتا ہو تو یہ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں اور وہ مناظر آنکھوں میں گھوم جاتے ہیں،خدا را اپنے آپ کو بدلو اس دھرناسسٹم کو چھوڑوکوئی متبادل حل تلاش کرو عام آدمی کو اذیت میں ڈال کر کون سے مطالبات منوائے جاسکتے ہیں؟؟؟،ان دھرنوں نے ملک کو دیا ہی کیا ہے؟ان کی وجہ سے ملکی معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے، لوگ ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں،کئے مسائل جنم لے رہے ہیں ،کئی مریض راستے میں دم توڑ جاتے ہیں،اپنے آپ پر رحم کریں ،اپنے لوگوں پر رحم کریں،حکومت کو بھی چائیے کہ وہ لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرے اورایسی پالیسیاں مرتب کریں کہ دھرنے دینے کی نوبت ہی نہ آئے۔

905 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/gn2x297
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *