بیٹی،اسلام اور معاشرہ۔۔۔۔ تحریر:حبیب الرحمن

Print Friendly, PDF & Email

قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ’’آسمانوں اور زمین کی سلطنت و بادشاہت صرف اللہ ہی کے لئے ہے وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے اس کے ہاں نہ لڑکا پیدا ہوتا ہے نہ لڑکی پیدا ہوتی ہے لاکھ کوشش کرے مگر اولاد نہیں ہوتی ،یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی اور مصلحت پر مبنی ہے جس کے لئے جو مناسب سمجھتا ہے وہ اس کو عطا کر دیتا ہے‘‘
قرآن کریم کی ان آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لڑکے اور لڑ کیاں دونوں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں مرد اور عورتیں دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں اللہ رب العزت نے اپنی حکمت بالغہ سے ایسا نظام قائم کیا ہے ۔قبل از اسلام قریش کے لوگ بیٹی کی پیدائش کو باعث ننگ و عار تصور کرتے تھے حتیٰ کہ اسے زندہ رہنے کا حق بھی نہیں تھا۔لڑکیوں سے نفرت کا یہ حال تھا کہ خود باپ اپنی بیٹی کو زندہ درگور کر دیتا تھا ۔یہ داستان صرف عرب تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ ہندوستان میں بھی اسے ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا۔۔۔مگر جب حضورِ اکرم رحمتِ دوعالم دنیا میں تشریف لائے تو اس طرح کی تمام رسومات کا خاتمہ فرمایا اور لوگوں کو بتایا کہ بیٹی باعثِ رحمت ہے۔۔۔ترمذی شریف میں حضرت سعید خدری سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم نے فرمایا کہ’’ جس بندے نے تین بیٹیوں ،تین بہنوں یا دو ہی بیٹیوں یا بہنوں کا بار اٹھایا اور ان کی اچھی تربیت کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور پھر ان کا نکاح کر دیا تو اللہ تعا لیٰ طرف سے اس بندے کے لئے جنت کا فیصلہ ہے‘‘
عورت کو اللہ تعالیٰ نے چار روپ عطا کئے ہیں بیٹی ،بہن،بیوی اور ماں۔۔۔ہر روپ میں انسانوں کے لئے وہ رحمت بن کر اترتی ہے جب وہ بیٹی و بہن کے روپ میں جلوہ افروز ہوتی ہے تو والد اور بھا ئیوں کو جنت میں لے جانے اور حضور اکرمﷺ کی رفاقت کا سبب بنتی ہے بیوی کا روپ اختیار کرتی ہے تو شوہر کا آدھا ایمان مکمل کرنے والی قرار دی جاتی ہے اور جب ماں بنتی ہے تو جنت اس کے قدموں میں رکھ دی جاتی ہے بیٹیاں تو خدا کی رحمت ،برکت اور گھروں کی رونق ہوتی ہیں ۔۔۔ ایک صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بار ایک دوست کہنے لگے کہ اللہ تمہیں اولادِ نرینہ سے نوازے تو میں نے اس سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بیٹا اور بیٹی دونوں سے نوازا ہے بتاؤ کہ دونوں میں فرق کیاہے تو وہ کہنے لگا کہ جب شام کو گھر لوٹتا ہوں تو بیٹا بھی محبت سے ملتا ہے اور بیٹی بھی محبت سے ملتی ہے مگر بیٹی کی محبت کا انداز ہی نِرالا ہے میرے لئے پانی کا گلاس اس کے ہاتھوں میں ہوتا ہے پھر اسے میرے جوتوں کی فکر پڑ جاتی ہے وہ میرے لئے گھر کے جوتے لاتی ہے پھر میرے پاؤں دباتی ہے اور اس کے اس پیار سے میں دن بھر کی تھکاوٹ بھول جاتا ہو ں ۔۔۔
بیٹیاں تو قدرت کا انمول تحفہ ہیں جس کی جتنی قدر کی جائے کم ہے ۔امیرِ شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ فرماتے ہیں کہ
’’وہ بیٹیاں ۔۔۔تم جس کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے دو،وہ اُف کئے بغیر تمہاری پگڑیوں اور داڑھیوں کی لاج رکھنے کے لئے ساتھ ہو لیتی ہیں ،سسرال میں جب میکے کی یاد آتی ہے تو چھپ چھپ کر رو لیتی ہیں ،کبھی دھوئیں کے بہانے آنسو بہا کر جی ہلکا کر لیا ،آٹا گوندھتے ہوئے آنسو بہتے ہیں اور وہ آٹے میں جزب ہو جاتے ہیں ،کوئی نہیں جانتاکہ ان روٹیوں میں اس بیٹی کے آنسو بھی شامل ہیں،غیرت مند ۔۔۔ان کی فکر کرو یہ آبگینے بڑے نازک ہیں‘‘
اسلام میں بیٹی کو اتنی اہمیت سے نوازا گیا ہے مگر آ ج کے معاشرے میں بیٹی کو اتنی حقارت سے کیوں دیکھا جاتا ہے اس کو اتنی عزت و اہمیت کیوں نہیں دی جاتی اسے جینے کا حق کیوں نہیں دیا جاتا۔۔ چودہ سو سال پہلے کے زمانہ کو تو ہم جاہلیت کادور کہتے ہیں اور آ ج کے دور کو پڑھا لکھا اور ماڈرن ایزم کا نام دیتے ہیں مگر اس ماڈرن دور میں بھی جہالت کی طرح یہ ایک عام رویہ ہے کہ بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دی جاتی ہے لوگ الٹرا ساؤنڈ امشین کے ذریعے بچے کی جنس کا پتا لگاتے ہیں اگرجنس لڑکی ہو تو اسے اسقاط حمل کے ذریعے مار دیا جاتا ہے۔بیٹی پیدا ہونے پر شرمندگی محسوس کی جاتی ہے بیٹی کو مصیبت و ذلت سمجھا جاتا ہے۔اور اکثر جاہل گھرانوں میں بیٹی پیدا کرنے پر بیوی کو خاوند کی طرف سے طلاق بھی دے دی جاتی ہے۔طلاق سے یاد آیا ایک شخص کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں ہر بار اسے امید ہوتی کہ اب بیٹا پیدا ہو گا مگر ہر بار بیٹی پیدا ہوتی اور اس طرح اس کے ہاں یکے بعد دیگرے چھے بیٹیاں پیدا ہو گئیں اس کی بیوی کے ہاں پھر ولادت متوقع تھی اسے ڈر تھا کہیں لڑ کی پیدا نہ ہو جائے شیطان ملعو ن نے اسے بہکایا اس نے ارادہ کیا کہ اگر بیٹی پیدا ہو گی تو وہ بیوی کو طلا ق دے دے گا ۔رات کو جب وہ سویا تو اس عجیب و غریب خواب دیکھا کہ قیامت برپا ہو چکی ہے اس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جس کے سبب فرشتے اسے پکڑ کر جہنم کی طرف لے گئے پہلے دروازے پر گئے تو دیکھا اس کی ایک بیٹی کھڑی تھی جس نے اسے جہنم میں لے جانے سے روک دیا فرشتے اسے لے کر دوسرے دروازے پر لے گئے وہاں اس کی دوسری بیٹی کھڑی تھی اب فرشتے اسے تیسرے دروازے پر لے گئے وہاں بھی اس کی بیٹی رکاوٹ بنی،اس طرح فرشتے اسے جس دروازے پر لے جاتے وہاں اس کی ایک بیٹی کھڑی ہوتی تھی جو اس کا دفاع کرتی غرضیکہ فرشتے اسے جہنم کے چھے دروازوں پر لے گئے مگر ہر دروازے پر اس کی کوئی نہ کوئی بیٹی رکاوٹ بنتی۔اب ساتواں دروازہ باقی تھا فرشتے اسے لے کراس دروازے کی طرف چل دئیے،اس پر گھبراہٹ طاری ہو گئی کہ اب اس دروازے پر میرے لئے کون رکاوٹ بنے گااسے معلوم ہو گیا کہ اس کی جو نیت تھی غلط تھی،اسی خوف کے عالم میں اس کی آنکھ کھل گئی اوراس نے فوراََاللہ رب العزت کے حضور دعا مانگی’اے اللہ مجھے ساتویں بیٹی عطا فرما۔
کچھ لوگ اس وجہ سے بھی بیٹوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ باپ کی میراث میں بیٹے کا حصہ بیٹی کی نسبت زیادہ مقرر کیا گیا ہے جس کی اصل وجہ یہ ہے اکثر باپ کی زندگی میں بیٹے ہی بیٹیوں کی نسبت زیادہ نافع ہوتے ہیں بڑھاپے میں والدین سارا انحصار اولاد پر کرتے ہیں وہ بیٹیوں کی بجائے بیٹوں کے ساتھ رہنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں بیٹے کے پاس رہنے کی وجہ عام سی ہے کہ بیٹے کوئی بھی فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتے ہیں جبکہ بیٹیاں شادی کے بعد اپنے شوہروں پر منحصر ہو جاتی ہیں وہ اپنے معاملات میں اتنا آزاد نہیں ہوتیں جتنے بیٹے ہوتے ہیں اگرچہ اس بنیاد پر میراث میں بیٹیوں کا حصہ بیٹوں کی نسبت کم ضرور ہے مگر اس کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اسے جینے کا حق بھی نہ دیا جائے۔
آج کل ہمارے ہاں یہ رواج عام ہے کہ جونہی شادی شدہ لڑکی حاملہ ہوتی ہے تو پھر ’’ٹیوے‘‘لگنے شروع ہو جاتے ہیں کہ بیٹا ہوگا یا بیٹی،کوئی اس کی چال دیکھ کر کہتا ہے کہ بیٹا پیدا ہو گا تو کوئی یہ ’ٹیوا‘ لگاتا ہے کہ اس کی آنکھوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیٹی ہو گی۔ موقع،بے موقع اس بارے باتیں چلتی رہتی ہیں پیدائش کے وقت تک ٹیوتے چلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ پیدائش کا وقت آجاتا ہے اگر بیٹا پیدا ہو تو خوشی کا شوراور مبارکبادوں کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں لیکن اگر بیٹی پیدا ہو جائے تو مایوسی ظاہر کی جاتی ہے منہ بنائے جاتے ہیں یہ کتنی بڑی ناانصافی اور ناشکری ہے کہ اسی خدا نے بیٹی کو پیدا کیا تو گھر خاموشیوں میں ڈوب گیا ۔ارے یہی تو جاہلانا رویہ ہے اسی لئے اللہ پاک نے اپنے کلام میں ارشاد فرمایا کہ’’ اور جب ان میں سے کسی کو بشارت دی جائے کہ تمہارے ہاں بیٹی پیدا ہو گی تو غم اور پریشانی کے مارے اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ ظاہر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے‘‘ہمیں تو ہر وقت خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے اور صحت مند بچے کے پیدا ہونے کی دعا کرنی چاہئے ،خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی۔۔۔دونوں کی پیدائش پر صدقہ، خیرات اور خوشی کرنی چاہئے۔بعض گھروں میں رواج بھی عام ہے کہ اگر کسی عورت کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہو جائیں تو اسے سسرال کی طرف سے اشارۃََ پیغام ملنا شروع ہو جاتے ہیں کہ آئندہ بیٹا ہونا چاہئے وہ شاید سمجھتے ہیں کہ یہ سب اس بیچاری کے اختیار میں ہے۔
آخر بیٹوں کا والدین کے لئے کون سا ایسا فائدہ ہے جو بیٹی کا نہیں ۔۔اگر بیٹی کی کوئی اہمیت نہ ہو تی تو اللہ اپنے پیارے رسولﷺ کی نسل کو حضرت فاطمہؓ کے ذریعے کیسے برقرار رکھتا۔اگر بیٹی کی اچھی پرورش کریں گے تو وہ ہرگزبیٹے سے پیچھے نہ رہے گی عورت کو اپنا مقام شرم و حیا سے بنانا ہوتا ہے اگر اس میں شرم وحیا قائم رہے گی تو اس کو اس کے مقام سے کوئی نہیں گرا سکتا۔ایک دفعہ حضورپاکﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے تو کسی نے آپﷺ کو بیٹی کی پیدائش کی خبر دی،رسول کریم ﷺاس پر خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایاکہ اللہ نے مجھے پھول عطا کئے ہیں جس کی میں مہک سنتا ہوں اور اللہ نے اس کا رزق دیا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لوگ جہیز اور لین دین سے بھی لڑکیوں کی پیدائش سے گھبراتے ہیں ۔۔۔۔۔دعا ہے اللہ پاک ان معاشرتی بوجھوں سے محفوظ رکھے اور ہم اسوہ رسولﷺ پر عمل کرتے ہوئے انسانیت کے لئے بہترین نسلیں پیدا کرنے والا بنائے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق بیٹیوں کو زحمت کی بجائے رحمت ہی سمجھنے والا بنائے،آمین۔۔۔۔

548 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/hc9c5sw
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *